منہ میں رام رام ۔۔۔

faheem-akhter-uk

پچھلے دنوں ہندوستان کا سب سے بڑی ریاست یو پی میں صوبائی الیکشن ہوا تھا ۔ جس پر ہندوستان کے زیادہ تر لوگوں کی نظر لگی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کی نظر اس انتخاب پر مرکوز تھی۔ اس کی ایک وجہ یوپی ہندوستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی سیاست پر یوپی کے نتیجے کا کافی اثر و رسوخ ہوتا ہے۔
یوپی الیکشن کی تیاری اور مہم میں تمام پارٹیوں نے اپنی طاقت صرف کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی یوپی الیکشن میں اپنا پورا زورلگا دیا تھا۔ الزام در الزام اور بیان بازی سے جہاں یوپی کی عوام لطف اندوز ہوئے تو وہیں یہ پارٹیاں عوام کو اپنے پالیسی اور وعدوں سے دلاسا بھی دیتی رہی تھیں۔
ایک طرف قدیم قومی پارٹی کانگریس نے سماج وادی پارٹی کے ساتھ مل کر یوپی کو مزید بہتر بنانے کی بات عوام سے کہی تو دوسری طرف مایا وتی کی بہوجن سماج پارٹی لوگوں سے یوپی میں سرکار بنانے کا ایک اور موقع مانگ رہی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی وزیر اعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں یوپی کی عوام کو سنہرے خواب دکھا کر یوپی کو بدلنے کی بات کہہ رہی تھی۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کے یوگی آدتیہ ناتھ اپنی الیکشن مہم کے دوران نہ صرف زہر افشانی کر تے تھے بلکہ وہ ہندو راشٹربنانے کی بھی بات لوگوں کو بتا رہے تھے۔ جس سے زیاد تر لوگوں کو لگا کہ یوپی کے لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کی باتوں میں نہیں آئے گے اور یوگی آدتیہ ناتھ کی باتوں کو مسترد کر دیں گے۔
لیکن 14 مارچ کو نتائج سامنے آئے تو لوگ ہکّا بکّا رہ گئے۔ کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو تین سو سے زیاد سیٹوں پر جیت نصیب ہوئی جس کی شاید نریندر مودی کو بھی امید نہیں تھی۔ مایا وتی نے الیکشن کے نتیجہ کے بعد الیکشن کمیشن سے شکایت کر ڈالی کہ الیکشن مشین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے ۔ دوسری طرف اس بات کا بھی اندازہ لگا یا گیا کہ الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی مخالف ووٹ مختلف پارٹیوں میں بٹ گئے تھے جس کی وجہ سے بھاریہ جنتا پارٹی کو بھاری کامیابی ملی۔
تاہم اس بات سے میں بھی انکار نہیں کر سکتا جب میں نے الیکشن کے نتائج کا جائزہ لیا تو لگ بھگ ایک سو ساٹھ سیٹیں بھاریہ جنتا پارٹی کی ایسی ہیں جو سماج وادی، کانگریس، بہوجن سماج پارٹی ور اتحادالمسلمین کے امیدواروں کی وجہ سے انہیں ملی ہیں۔ اس طرح اقلیتی اور سیکولر ووٹ تقسیم ہوگئے جس سے بھاریہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کو فائدہ پہنچا اور وہ زیادہ تر سیٹوں پر چند ووٹوں سے کامیاب ہو گئے۔
ان صورتِ حال میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اعلان کر دیا کہ ہندوستان میں اب صرف ایک پارٹی ہے اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہے جو ہندوستان کو ایک ہندو راشٹربنانے کا عزم رکھتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یوپی الیکشن کی جیت کے بعد ہندوستان کے عام چناؤ میں دوبارہ کامیاب ہونے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ جس میں کہیں نہ کہیں صداقت بھی لگتی ہے۔
الیکشن کے نتائج آنے کے بعد کئی دنوں تک یہ معمّہ بنا رہا کہ آخر یوپی کا وزیر اعلیٰ کون بنے گا۔ کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی واحد پارٹی تھی جس نے وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان نہیں کیا تھا۔ زیادہ تر لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا۔ لیکن جب زہر اگلنے والے اور تعصب پرست یوگی آدتیہ ناتھ کا نام اعلان ہوا تو میرے ساتھ ساتھ کروڑوں لوگوں کے منھ کھلے کہ کھلے رہ گئے۔ظاہر سی بات ہے ہندوستان کی تاریخ میں ایک ایسے شخص کے نام کا اعلان کیا گیا تھا جو ہمیشہ متنازعہ میں رہا ہے اور جس نے مسلمانون کے خلاف ہمیشہ زہر اگلا ہے۔
مہنت یوگی آدتیہ ناتھ کی پیدائش پانچ جون 1972میں گڑھوال ضلع کے پنچور گاؤں میں ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام اجئے سنگھ بشِٹ ہے۔ یہ ایک گھڑوالی راجپوت گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد کا نام انند سنگھ بِشٹ تھاجو کہ جنگل میں ایک فاریسٹ رینجرکے عہدے پر فائز تھے۔ یوگی آدتیہ ناتھ اتّر کھنڈ کے ہیم وتی نندن بہوگنا گڑھوال یونیورسٹی سے ریاضی میں ڈگری حاصل کی تھی۔
1990میں یوگی آدتیہ ناتھ نے گھر چھوڑ کر رام مندر مہم میں شامل ہوئے تھے۔ گورکھ ناتھ مٹھ کے مہنت اودیا ناتھ جنہیں وہ اپنا روحانی والد مانتے ہیں، ان سے متاثر ہو کر انہوں نے ان کی شاگردی حاصل کر لی۔ بعد میں اجئے سنگھ بشِٹ کو یوگی آدتیہ ناتھ کا خطاب دیا گیا اور مہنت اویدیا ناتھ کا جانشیں مقرر کیا گیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ گورکھ پور میں رہتے ہوئے اپنے آبائی گاؤں میں 1998میں ایک اسکول قائم کیا ہے۔
اکیس سال کی عمر میں یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے خاندان کو ترک کر کے مہنت اویدیاناتھ کے شاگرد بن گئے جو کہ اس وقت گورکھ ناتھ مٹھ کے سربراہ تھے۔ بارہ دسمبر 2014میں مہنت اویدیا ناتھ کے موت کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ کو گورکھ ناتھ مٹھ کا مہنت بنایا گیا۔ گورکھ ناتھ مٹھ کے روایت کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کو گورکھ ناتھ مندر کا پیٹھا دیشور بنایا گیا جو کہ برسوں سے روایتی طور پر ناتھ فرقے کے طور پر جانا جاتا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے جارحانہ ہندو مذہب کا جنون اور یوگی بننے کا سفر دراصل مہنت ڈگ وجئے ناتھ کی تحریک سے متاثر ہو کر شروع ہوتا ہے۔ جنہوں نے بائیس دسمبر 1949کو بابری مسجد پر قبضہ کیا تھا۔ ڈگ وجئے ناتھ اور ان کے جانشیں مہنت اودیا ناتھ کا تعلق ہندو مہا سبھا سے تھا۔ یہ دونوں پارلیمنٹ میں ایم پی بھی منتخب ہوئے تھے۔
1980میں بی جے پی اور سنگھ پریوار نے مل کر ایودھیا تحر یک چلائی تھی اور دونوں گروپ کا ہندو قوم پرستی کے نظریہ پر متفق ہو گئے ۔ 1991میں اویدھیا ناتھ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوگئے لیکن وہ اپنے رام مندر کی تحریک پر اٹل اور خود مختار رہے۔ 1994میں یوگی آدتیہ ناتھ گورکھ ناتھ مٹھ کے سربراہ بنے اور چار سال بعد لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے۔
یوگی آدتیہ ناتھ 26سال کی عمر میں سب سے کم عمر کے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہو ئے تھے۔ انہوں نے یہ الیکشن یوپی کے گورکھ پور سے جیتا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک وہ پانچ بار لگاتار ایم پی منتخب ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ جب سب سے پہلی بار ایم پی بنے تو انہوں نے عسکریت پسندوں کے یوتھ ونگ (ہندو یووا واہنی) کی بنیاد ڈالی۔یہ گروپ مشرقی اتر پردیش کے علاقوں میں متشددسرگرمیوں میں مصروف ہے۔ اس گروپ نے یوگی آدتیہ ناتھ کی مقبولیت میں بھی کافی اضافہ کیاہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ بنتے ہی غیر قانونی مذبح خانوں کو بند کرنے کا حکم جاری کیا اور گائے کی اسمگلنگ پر پابندی عائد کی ہے۔ اینٹی رومیو اسکوائڈ س قائم کیا جو ان نوجوانوں کو گرفتار یا پریشان کر رہے ہیں جو محبت میں گرفتار ہیں اور جنہیں پارک وغیرہ میں پایا جارہا ہے۔ UPPSCکے امتحان، نتیجہ اور انٹرویو پر کچھ مدّت کے لئے روک لگا دی ہے۔ سرکاری دفتروں میں تمباکو، پان اور گٹکا پر پابندی لگا دی ہے۔ سو سے زیادہ پولیس والوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
میں نے یوگی آدتیہ ناتھ کی جتنی بھی تقاریر سنی ہیں یا ان کے بیان کو پڑھے ہیں ۔ ان میں کہیں نہ کہیں یوگی آدتیہ ناتھ ایسی بات کہتے ہیں جس سے ہندو مذہب کے لوگوں کو کچھ دیر کے لئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ واقعہ ہندو مذہب کے سچّے رہنماہیں تو وہیں اقلیتوں اور مسلمانوں کو یوگی آدتیہ ناتھ کی بات سے خوف کے ساتھ ساتھ اپنی بے عزتی کا بھی احساس ہوتا ہے۔
2005میں یوگی آدتیہ ناتھ نے طہارت مہم شروع کیا تھا جس میں انہوں نے ایک ہزار آٹھ سو عیسائیوں کو ہندو مذہب قبول کروایا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ’میں تب تک اپنے اس کام کو جاری رکھوں گا جب تک یوپی اور ہندوستان ہندو راشٹرنہ بن جائے‘۔ 2007میں گورکھ پور میں محرم کے جلوس کو روکنے کی کوشش میں ایک ہندو کے اسپتال میں داخل ہونے اور اس کی موت کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ سے مجسٹریٹ نے گزارش کی کہ وہ اس جگہ پر نہ جائے۔ لیکن یوگی آدتیہ ناتھ نے مجسٹریٹ کی نافرمانی کرتے ہوئے ماحول میں تناؤ پیدا کیا۔ بعد میں ہندو یووا واہنی نے کھلے عام شہر میں فساد کیا اور مسجدوں اور دکانوں کو آگ لگائی گئی۔
یوں تو یوگی آدتیہ ناتھ کے تنازعہ کی فہرست اتنی طویل ہے کہ مجھے اپنے کالم کا عنوان ’یوگی اور تنازعہ‘ رکھنا چاہئے تھا۔ لیکن میں نے آج کے کالم سے اس بات کو ظاہر کرنا چاہا ہے کہ کیوں اور کیسے یوگی آدیہ ناتھ یو پی کے وزیر اعلیٰ بنے۔ ظاہر سی بات ہے میں بطور مسلم یوگی کی سیاست اور زہر افشانی سے نہ ہی تو میں مفاہمت کر سکتا ہوں اور نہ ہی اتفاق کر سکتا ہوں۔ تو پھر کیا خاص بات تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے یوگی آدتیہ ناتھ جیسے تعصب پرست سیاست دان کو وزیر اعلیٰ بنا دیا۔
شاید اس کا جواب آنے والے دنوں میں لوگوں کو مل جائے گا۔لیکن مجھے یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیراعلیٰ بنانے کی دو وجوہات لگتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آدتیہ ناتھ کا سیاسی کیرئیر رام مندر کی تحریک سے شروع ہوا تھا ۔ ممکن ہے بھاریہ جنتا پارٹی کو اس بات پر یقین ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ ہی واحد ایسا لیڈر ہے جو اس کام کو انجان دے سکتا ہے۔ دوسرا بھاریہ جنتا پارٹی جو ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہی اس کے لئے شاید یوگی آدتیاناتھ ایک اہم رول نبھا سکتے ہیں۔ اگر یہ تمام خواب پورے ہوگئے تو بھاریہ جنتا پارٹی اگلے عام چناؤ میں بھاری اکثریت سے دوبارہ حکومت بنا سکتی ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ہندوستانی آئین کا احترام کریں گے یا اس کی دھجیاں اڑائے گیں جیسا کہ وہ کرتے آئے ہیں۔ ویسے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ا ن کے اس بیان سے کہ’ وہ ہر مذہب اور ذات کا خیال رکھیں گے‘ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ منھ پہ رام رام بغل میں چھری۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *