بھارت کے مشہور صوفی کو گائے کے گوشت کے خلاف متنازعہ بیان مہنگا پڑ گیا !

23

اجمیر۔ بھارت کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے گدی نشین اور روحانی سربراہ سید زین العابدین علی خان کو گائے کا زبیحہ اور 3طلاق کے حوالے سے دیئے جانے والا متنازعہ بیان انتہائی مہنگا پڑ گیا ،چھوٹے بھائی سید علاؤالدین علیمی نے درگاہ کی گدی نشینی سے برطرف کرکے خود گدی نشینی سنبھالنے کا اعلان کر دیا ،متنازعہ اور غیر شرعی بیان دینے کے بعد زین العابدین درگاہ کی گدی نشینی کے اہل نہیں رہے ،اس بیان کے بعد ان کے حنفی مسلمان ہونے پر بھی شک ہے ،ملک بھر کے علماء سے غیر شرعی بیان پر فتویٰ لیں گے،سید علاؤ الدین علیمی نے 2ٹوک اعلان کر دیا ،پورے بھارت کے مسلمانوں میں درگاہ کی اندرونی جنگ نے کھلبلی مچا دی ۔
تفصیلات کے مطا بق بھارت کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے سجادہ نشین اور روحانی سربراہ سید زین العابدین علی خا ن اور انکے بھائی سید علاؤ الدین علیمی کے درمیاندرگاہ کی گدی نشینی پر پیدا ہونے والا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ،سید علاؤ الدین نے بھارت کی مشہور صوفی بزرگ کی درگا ہ کے گدی نشین اور اپنے سگے بھائی سید زین العابدین علی سے بغاوت کرتے ہوئے انہیں رات گئے سجادہ نشینی سے ہٹانے کا اعلان کر کے خود گدی نشینی سنبھالنے کا دعویٰ کر دیا ، جس سے بھارت میں صوفی بزرگ کی درگاہ سے وابستہ لاکھوں عقیدت مندوں میں کھلبلی مچ گئی۔

اس کشیدہ صورتحال کی ابتدا سید زین العابدین علی کا دیا گیا وہ متنازعہ اور غیر شرعی بیان بنا جس میں انہوں نے بھارتی مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا میں مسلمانوں اور ہندوؤں میں پھیلنے والے تعصب کو ختم کرنے کے لئے مودی سرکار کو ملک بھر میں گائے نسل کے تمام جانوروں کے ذبح کرنے اور ان کا گوشت فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنی چاہئے اور مسلمانوں کو بھی ان سے خود کو دور رکھ کر ان کے گوشت کا استعمال ترک کرنے میں پہل کرنی چاہئے۔سید زین العابدین علی کا کہنا تھا کہ وہ صرف بھارتی مسلمانوں سے اپیل نہیں کر رہے بلکہ گائے کے گوشت کاا ستعمال ترک کرنے کا اطلاق سب سے پہلے وہ اپنے اور اپنے خاندان سے کرتے ہیں اور آج کے بعد وہ گائے کا گوشت کبھی نہیں کھائیں گے ۔اس کے ساتھ ہی زین العابدین کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے تین طلاق کا معاملہ انتہائی نامناسب ہے اور قرآن نے بھی اس امر کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے لہذا مودی سرکار 3طلاق پر بھی پابندی عائد کرے ۔سید زین العابدین علی نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا جب راجھستان میں برصغیر کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کا 805ویں عرس کی تقریبات جاری تھیں اور اندرون و بیرون ممالک سے لاکھوں مسلمان اور غیر مسلم عقیدت مند ان تقریبات میں شریک تھے ،بھارت کے معروف صوفی بزرگ کی درگاہ کے گدی نشین کے اس متنازعہ اور غیر شرعی بیان نے پورے بھارت میں کھلبلی مچا دی تھی ۔خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کے عرس کے آخری روز سید علاؤالدین علیمی نے اپنے بھائی اور درگاہ کے گدی نشین سے بغاوت کرتے ہوئے اس متنازعہ بیان کو بنیاد بناتے ہوئے انہیں درگاہ کی سجادہ نشینی سے ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس غیر شرعی بیان کے بعد وہ کسی طور پر بھی سجادہ نشینی کے اہل نہیں رہے ،اس لئے وہ انہیں اس عہدے سے ہٹا کر درگاہ کی خدمت خود کریں گے اور مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ سید زین العابدین کے اس غیر شرعی اور انتہائی متنازعہ بیان کے بعد ان کے حنفی مسلمان رہنے پر بھی شک پیدا ہو گیا ہے لہذا وہ پورے ہندوستان کے علماء سے ان کے اس غیر شرعی بیان پر فتویٰ لیں گے اور انہیں سجادہ نشینی کے لئے نا اہل قرار دیں گے ۔ واضح رہے کہ سید علاؤ الدین عرس کی آخری تقریبات میں تو شامل ہوئے لیکن وہ آستانہ کے اندر نہیں گئے ۔ سید زین العابدین علی نے درگاہ میں سالانہ اجتماع کے موقع پر اپنے متنازعہ خطاب میں مزید کہا تھا کہ سینکڑوں سالوں سے بھارت میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان محبت ،اخوت اور بھائی چارے کا جو ماحول قائم تھا مسلمانوں کی طرف سے گائے زبح کرنے اوراس کا گوشت کھانے سے اس مثالی ماحول کو ٹھیس پہنچی ہے ،مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان ماضی کی روایات اور محبت کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے مسلمانوں کو اس تنازعے کی جڑ کو ہی ختم کرتے ہوئے اَز خود گائے کا زبیحہ اور گوشت کے استعمال کو مکمل ترک کر دینا چاہئے ۔ انہوں نے مودی حکومت سے اپیل کی کہ ملک کے اتحاد اور دو اہم فرقوں کے درمیان تصادم اور رنجش کا سبب بننے والے بیف اور گائے نسل کے تمام جانوروں کے ذبح کرنے اور ان کے گوشت کی فروخت کو ممنوع کر دینا چاہئے تاکہ بھارت کی مذہبی رواداری ، فرقہ وارانہ محبت اور ہم آہنگی دوبارہ اسی طرح قائم ہو سکے جیسی سینکڑوں برسوں سے چلی آ رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پیشرو خواجہ معین الدین چشتی نے اس ملک کی ثقافت کو اسلام کے قوانین کے ساتھ اپنا کر ملک میں امن و سکون اور انسانی خدمت کے لئے زندگی وقف کیا تھا۔ اسی تہذیب کو بچانے کے لیے غریب نواز کے 805 واں عرس کے موقع پر میں اور میرا خاندان گوشت کا استعمال ترک کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور ہندوستان کے مسلمانوں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ ملک میں ہم آہنگی دوبارہ قائم کرنے کے لیے وہ بھی اس نمونہ کو اپنا کر مثال پیش کریں۔انہوں نے اتر پردیش اور بھارتی گجرات میں گائے کے زبیحہ کی پابندی اور عمر قید کے قانون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گجرات میں حکومت نے اچھا قانون پاس کیا ہے ،ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔گجرات کی طرح یہ قانون پورے بھارت میں لاگو ہونا چاہئے اور گائے کا گوشت استعمال کرنے والوں کو عمر قید کی سزا ملنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد صرف گائے اور اس کی نسل کو بچانا ہے کیونکہ وہ ہندوؤں کے عقیدے کی علامت ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *