ہتھکڑیاں کھول دیں سب کو ایک ٹھوکرسے زندہ کر دونگا ، سانحہ سرگودھا کا مرکزی ملزم عبد الوحید

111

سرگودھا۔ نواحی چک 95 شمالی میں دربارپر ہونیوالے قتل کے اندوہناک واقعہ پر دوسرے روز بھی علاقہ میں خوف کی فضاقائم رہی اور ہر کوئی واقعہ کی بابت مختلف سوال اٹھا تارہا۔ہر ایک کی اپنی رائے تھی،ضلع کا یہ واحد گاؤں ہے جس میں پانچ دربار قائم ہیں، جب کہ ایک ابھی زیر تعمیر تھا جس پر کام روک دیا گیاہے ،جبکہ دیگر چار درباروں کو تالے لگا کر ان کے متولی غائب ہو گئے ہیں، جبکہ ضلع میں متعدد دربار جو کہ محکمہ اوقاف کے رجسٹرڈ نہیں اور اسی نوعیت کے ہیں بھی بند ہونے لگے ہیں،جن کے کرتا دھرتا اچانک منظر سے غائب ہو گئے ہیں، علاوہ ازیں پولیس نے بیس مریدین جن میں چار خواتین اور سولہ مرد شامل تھے کو قتل اور چار خواتین کو زخمی کرنے کے واقعہ کے تین ملزمان عبدالوحید ولد قائم دین قوم گجر سکنہ چک120گ ب تحصیل وضلع ننکانہ صاحب ، محمد آصف ولد محمد اسلم قوم لودھی سکنہ پھالیہ ضلع منڈی بہاوالدین،ظفر علی ولد محمد صادق قوم ڈوگر سکنہ خانقاہ ڈوگراں ضلع حافظ آبادکو ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا رانا زاہد محمود کی عدالت میں پیش کیا جبکہ چوتھے ملزم کاشف ولد یوسف سکنہ چک نمبر95شمالی جو کہ زخمی ہے کو ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زیر علاج ہونے کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا تاہم پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ آلہ قتل کی برآمدگی کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی پتا چلانا ہے کہ کیا ملزموں نے کسی دیگر شخص کو قتل نہیں کیا؟ اس لئے ملزمان کا 14روزہ جسمانی ریمانڈدیا جائے فاضل عدالت نے ملزمان کا تین روز جسمانی ریمانڈ جاری کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی کہ چھ آپریل کو آئندہ تاریخ پیشی پر ملزمان کو انسداد دہشت گردی سرگودھا کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے ،واضح رہے کہ بیس مقتولین کے ورثاء کی جانب سے مدعی نہ بننے پر عبدالوحید اور اسکے ساتھیوں کے خلاف ایس ایچ او تھانہ شمشیر جوئیہ کی مدعیت میں قتل ،اقدام قتل ،لاشوں کی بے حرمتی ،کارسرکار میں مزاحمت اور دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ،انسداد دہشت گردی سرگودھا کی عدالت کے جج طارق محمود ضرغام چھٹی پر تھے جبکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سجاد حسین سندھڑ کی کوٹ مومن میں مصروفیات کے باعث ملزمان کو ایڈیشنل سیشن جج سرگودھا کی عدالت میں پیش کیا گیا،ملزمان کو ایلیٹ فورس اور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ بکتر بند گاڑی میں ضلع کچہری لایا گیا اس موقع پر سکیورٹی کے سخت اقدامات تھے اور ملکی و غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، مرکزی ملزم کو جب ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے کہا کہ وہ مرنے والوں کو زندہ کرسکتا ہے ا س کی ہتھکڑیاں کھول دی جائیں تو ایک ٹھوکر مار کر سب کو زندہ کر دے گا،دریں اثناء ذرائع کے مطابق علی محمد گجر مرحوم کا بیٹا محمد آصف جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ وزیر اعظم سکیورٹی سکواڈ میں ملازم تھا دربار کے گدی نشین عبدالوحید کے ہمراہ بدھ کے روز ننکانہ صاحب گیا تو عبدالوحید کو محمد آصف کی حرکات پر شبہ ہوا جس پر اس نے محمد آصف کی تلاشی لی تو اس کی جیب سے مچھر مارنے والے کیمیکل کی دو ڈبیاں برآمد ہوئی تو اسے شبہ ہوا کہ محمد آصف اسے زہر دے کر قتل کرنا چاہتا ہے۔ عبدالوحید اور اس کے مرید جمعہ کے روز محمد آصف کو رسیوں سے جکڑ کر گاڑی میں ڈال لیا، اور دربار پر لے آئے جہاں پہلے سے دو افراد اور ایک خاتون موجود تھی، عبدالوحید اور اس کے ساتھیوں نے محمد آصف سمیت چاروں کو باری باری قتل کیا اور برہنہ کر کے انکی لاشیں ایک کمرے میں بند کر دیں تو ہفتے کے روز آنے والے مریدوں کو بھی نشہ آور چیز پلا دی گئی اور 16 افراد کو انتہائی بے دردی سے قتل کر کے خون کی یہ ہولی کھیلی۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں مرکزی ملزم عبدالوحید اور اس کے دونوں گرفتار ساتھیوں نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے۔ نواحی گاؤں 95 شمالی میں دربار محمد علی گجر پر ہونے پر قتل کے المناک واقعہ جس میں 20 افراد قتل ہو گئے مگر مقتولین کے ورثاء میں سے کوئی بھی پیر عبدالوحید اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ کا مدعی بننے کو تیار نہ ہوا، ذرائع کے مطابق مقتولین کے ورثاء نے پولیس کے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود مدعی بننے سے انکار کر دیا جس پر پولیس کی مدعیت میں تھانہ صدر میں پیر عبدالوحید اور اس کے چار ساتھیوں کے خلاف قتل، پولیس سے مزاحمت، اقدام قتل، لاشوں کی بے حرمتی، دہشت گردی سمیت دیگر سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ علاوہ ازیں ریجنل پولیس آفیسر ذوالفقار حمید نے بتایا کہ قبل ازیں بھی اس دربار کے خلاف شکایت ملی تھی جس پر کارروائی کرتے ہوئے دربار پر عرس کی تقریب منعقد نہیں ہونے دی گئی تھی، اب دربار محمد علی گجر کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور اس گاؤں میں دیگر درباروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ ریجن بھر کے چاروں اضلاع خوشاب، بھکر، میانوالی سرگودھا میں واقعہ درباروں کی از سر نو سکروٹنی کی جائے گی، چیک اینڈ بیلنس کو مزید سخت بنایا جائے گا۔ وقوعہ کی جدید بنیادوں پر تفتیش کی جا رہی ہے اس میں مذہبی عنصر بھی شامل ہو سکتا ہے۔ فرانزک لیبارٹریز کی رپورٹ سے صورتحال مزید واضح ہو جائے گی، مقتولین کے ورثاء کی جانب سے مدعی نہ بننے پر پولیس کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچانے تک پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی، آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے حکمت عملی مرتب ہنگامی بنیادوں پر مرتب کر لی گئی ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *