شمس و قمرم آمد

Dr.saleem Mazhar

                مولانا جلال الدین رومی ساتویں صدی ہجری اور تیرہویں صدی عیسوی   ( وفات  5  جمادی الاوّل  672   ہجری قمری  17/دسمبر 1273 ء قونیہ ، ترکی)کے عظیم صوفی شاعر تھے۔  بے ساختہ اسلوب اور موٴثر معانی و مطالب سے لبریز اُن کی فارسی شاعری   چہار دانگ عالم میں اپنا سکّہ جما اور پھریرا  لہراچکی ہے۔ دیوان کبیر /دیوان شمس تبریز کے نام سے    غزلیات کے چالیس ہزار اشعار پر مشتمل اُن کے شعری  مجموعے کے کئی ایڈیش شائع ہو چکے ہیں۔    شاگردوں اور مریدوں کی  نیاز مندانہ ضد تھی کہ حضرت مولانا دیگر روحانی پیشواوٴں کی طرح اُن کی رہنمائی کے لئے ہدایت نامہ تخلیق کریں جس  کی روشنی میں وہ معنوی سفر طے کر سکیں۔ چنانچہ اُنہوں نے  چھبیس ہزار اشعار  پر، چھ جلدوں میں ،مثنوی معنوی تخلیق کی جسے فارسی نعت گوئی کے امام نورالدین عبدالرحمان جامی نے فارسی زبان میں  قرآن مجید قرار دیا: مثنوی معنوی مولوی/ ہست قرآن در زبان پہلوی ( مولانا رومی کی مثنوی معنوی/ فارسی زبان میں قرآن مجید ہے )۔ مثنوی معنوی کو اس طرح سراہنے والے جامی وہی ہیں جن کی معروف نعتیں:  نسیما  جانب بطحا گذر کن/ ز احوالم محمد را خبر کن ( اے باد نسیم بطحا کو چل / محمّد مصطفیٰ صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کو ہمار احال جا سُنا ) ؛  گل از رُخت آموختہ نازک بدنی را / بلبل ز تو آموختہ شیرین سخنی را ( پھول نے اے پیارے پیغمبر تجھ سے نازک بدنی سیکھی ہے / بلبل نے  تجھ سےشیرین سخنی کا درس لیا ہے)۔  شاعر مشرق علامہ محّمد  اقبال نے بھی مثنوی معنوی کو  اسرار خودی کی تمہید میں کچھ اسی انداز میں خراج تحسین پیش کیا ہے: روی خود بنمود پیر حق سرشت/ کو بہ حرف پہلوی قرآن نوشت(  اُس پیر حق  سرشت، مولانا رومی ،  نے خواب میں مجھے دیدار کروایا /  وہی جس نے فارسی زبان میں قرآن مجید  لکھا )۔مولانا کے ملفوظات کا مجموعہ، فیہ ما فیہ ،بھی اپنی فکری گہرائی، عظیم فلسفیانہ اور شاعرانہ طرز بیان کے سبب مقبولیت کی انتہاوٴں کو چھو رہا ہے۔

                مولانا رومی قونیہ میں اپنے والد گرامی حسین خطیبی المعروف بہاء الدین ولدکے وصال کے بعد اُن کے جانشین کے طور پر خانقاہ میں شاگردوں کو درس    اور سائلوں کو  فتوے دیا کرتے کہ شمس تبریز کے ظہور نے اُن کی زندگی میں انقلاب بر پا کر دیا۔ بس اُن کی دنیا  ہی بدل گئی۔ اُنہوں درس و فتویٰ کا کام ترک کیا، شاگردوں ، مریدوں کو خیر باد کہا  اور شمس تبریز کے پیچھے جنگلوں، صحراوٴں اور ویرانوں میں سر گرداں ہو گئے۔ انہی کیفیّات میں شمس تبریز  کو روئےسخن قرار دے کے خود کلامی  کرتے ہیں :    زاہد بودم ترانہ گویم کردی/ سر حلقہٴبزم  بادہ جویم کردی/ سجّادہ نشین با  وقاری بودم/ بازیچہٴ کودکان کویم کردی (میں زاہد  و متّقی تھا  تو نے گیت گانے والا بنا دیا /   تو نے مجھے   میخواروں کی بزم  کا سر غنہ بنا دیا/ میں با وقار سجّادہ نشین تھا/ تو نے  مجھے گلیوں میں بازیچہٴ اطفال بنا دیا۔  اب نہ اُن کو اپنی خبر تھی نہ کسی اور کی، نہ دن کا پتہ نہ رات کا، نہ ہی کھانے کا خیال نہ اوڑھنے بچھونے کا۔ بس شمس کا تصوّر اور دل بے قرار ۔  مگر ترک ظاہر سے مولانا کی باطنی دنیا میں ایسا اجالا پھیلا  ،گویا چودہ طبق روشن ہو گئے۔ عالم  سر مستی و مد ہوشی میں لب پر آنے والے لفظ ملکوتی ہو گئے ۔ جو کہہ دیا  امر ہو گیا ، جو  زبان پر آ گیا  ثبت جریدہٴ عالم ہو گیا۔  پھر طبیعت بھی کمال رواں ہوئی ، پل پل ،گھڑی گھڑی شعر القا ہونے لگے، لفظ  غلام او ر  ترکیبیں  و  اصطلاحیں  باندیان بن گئیں۔    جو مُنہ سے نکلا ڈھلا ڈھلایا مصرع، جو  زبان پر جاری ہوا ، مہکتا جگمگاتا شعر ۔ کھڑے ہیں تو  شعروں کی برسات ، بیٹھے ہیں تو  مصرعوں کی پھوار۔ بازار سے گذر  رہے تھے ، سُنیار کے سنداں پر چاندی کے ورق کوٹنے کی  آواز ردہم میں سنائی دی تو دست افشانی و پا کوبی کرنے لگے، جو لب پر آیا صرف موزوں نہیں، تاٴثیر سے لبریز شعر تھا، لافانی حسن سے مستنیر، زندہٴ جاوید ۔

                 اگرچہ مولانا جلال الدین رومی کی تخلیقات میں اُن کی مثنوی کو زیادہ شہرت ملی، اُس کے دنیا کی کم و بیش ہر زبان میں کلی یا جزوی تراجم ہوئے، شروح لکھی گئیں اور  صاحب علم و دانش لوگوں نے اپنی نگارشات، تحقیقات و تاٴلیفات میں اُس سے بے حد استفادہ کیا ، شاعروں نے اُس  کی پیروی کرتے ہوئے ان گنت  شعری مجموعے تخلیق کئے۔ استقبال عام میں شرق و غرب اور شمال و جنوب میں کوئی فرق نہیں، جدید دنیا  اور خاص طور پر انگریزی زبان میں مدتوں سے مولانا اور اُن کی تخلیقات ، خاص طور پر مثنوی معنوی، پر لکھی گئی کتب بیسٹ سیلر (  Best seller )  رہیں ، یہ سلسلہ جاری ہے اور رہے گا۔ پاوٴلو کوئیلہو( Paulo Cohelho)نے  الکیمسٹ  ( The Alchemist)  جب کہ   الیف  شفق  (Elif Shafak)نےعشق کے چالیس قانون  (  The  Forty rules of love)  جیسے شہرہٴ آفاق ناول لکھنے میں مثنوی معنوی سے اخذ و استفادہ کیا اور شہرت دوام پائی۔  مگر مولانا کے بے ساختہ دلی جذبات اور  روحانی کیفیات  کا اچھوتا اظہار اُن کی غزلوں میں ہے۔   غزلیں جن سے مولانا نے اپنی مراد شمس تبریز کے نام معنون دیوان سجایا ، خلق نے  بجا طور پر اُس کو دیوان کبیر کا نام دیا۔  انہیں میں سے ایک  غزل کے چند اشعار اور اُن سے پہلے حافظ شیرازی کی  ایک غزل کے دو خوبصورت شعر  ایران کی  مایہ ناز  گلو کارہ سپیدہ رئیس سادات نے ڈوب کر گائے   ہیں۔ اُس نے   اپنی گلوکاری سے   نہ صرف محفل   میں سماں باندھ دیا ، بلکہ سننے والوں پر وجد کی کیفیت طاری کر دی۔ پوری غزل کی بجائے ذیل میں  بالترتیب  حافظ شیرازی اور  مولانا کی غزل کے  صرف گائے گئے اشعار ، اردو ترجمے کے ساتھ ،پیش ہیں۔ آخر پر  ریکارڈنگ کا لنک ہے جس  سے  اشعار کو ترنم اور سہتار کے ساتھ سنا  اور دیکھا جا سکتا  ہے، تاکہ    سمعی و بصری   (y Virtual)  طور پر سماع کا ماحول  تخلیق ہو اور شعر اپنی پوری  آب و تاب اور تاثیر سے قلب و روح پر  وارد ہوں:

                پہلے حافظ کے دو شعر:

                مژدہٴ وصل تو کو کز سرِ جان برخیزم / طائر قدسم  و از دام جہان بر خیزم     / بہ ولای تو کہ گر بندہٴ خویشم خوانی / از سر خواجگی کون و مکان بر خیزم( تیرے وصال کی خوشخبری کہاں ہے کہ میں اپنی جاں سے گذر جاوٴں/میں عالم قدس کا پرندہ ہوں  اور دنیا کے دام سے نکل جاوٴں   /   تیری دوستی کی قسم اگر تو مجھے اپنا غلام کہہ کے بُلا لے  /  تو میں کون و مکان کی بادشاہی سے کنارہ کش ہو جاوٴں )۔

                پھر مولانا رومی کے اشعار : شمس و قمرم آمد سمع و بصرم آمد /  وان سیمبرم آمد  وان کانِ زرم آمد / مستیِ سرم آمد،نورِ نظرم آمد / چیز دگر ار خواہی چیزِ دگرم آمد/ امروز بہ از دینہ ای مونس دیرینہ/  دی مست ازان بودم کز وی خبرم آمد / آن کس کہ ہمی جستم دی من بہ چراغ او را / امروز چو تُنگِ گل در رہگذرم آمد/  امروز سلیمانم  کانگشتریم  دادی / وان تاجِ ملوکانہ بر فرقِ سرم آمد۔ ( میرا سورج آ گیا، میرا چاند آگیا /وہ سیم بر آ گیا وہ سونے کی کان آ گیا/ مجھے سرمست  و مدہوش کرنے والا آ گیا، وہ جو میری بینائی تھا ، آ گیا/ تجھے جو مانگنا ہے وہ سب آ گیا/ آج کا دن کل سے زیادہ اچھا ہے اے میرے دیرینہ  مونس و غمگسار /  کل میں اُسی کے خیال سے مست تھا کہ اُس کی خبر آ گئی/ وہ شخص جسے میں چراغ لے کے کل  ڈھونڈ رہا تھا/ وہی آج پھولوں کے گملے کی طرح میرے  راستے میں آ گیا /  آج میں سلیمان ہوں کیونکہ تو نے مجھے اپنی انگوٹھی عطا کر دی/ چنانچہ وہ بادشاہوں والا تاج میرے سر پر آ گیا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *