جمہوری روایات اور ہماری اپوزیشن

Ata ullah wadood

سیاست میں گرمی کا موسم آہستہ آہستہ اپنے عروج کی طرف رواں دواں ہے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر شریک چئیر مین آصف علی زرداری اور چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے خلاف توپوں کے دہانے کھولے رکھے اور ن لیگی شیروں کو کاغذی شیر کے لقب سے نوازتے ہوئے پنجاب کے ہر ضلع میں بھٹو کے نعرے لگنے کا عندیہ دیتے ہوئے دعوی کیا کہ جس طرح سینٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود چئیر مین پیپلز پارٹی کا ہے اسی طرح سے وزیر اعظم اگلے انتخابات میں پیپلز پارٹی کا بنا کر دکھاؤں گا ان بلند و بانگ دعوؤں میں فی الحال کوئی صداقت محسوس نہیں ہوتی کیونکہ عرصہ 9سال سے پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے اور کوئی بھی قابل ذکر کارنامہ سر انجام دینے سے قاصر رہی ہے کارنامے کو ایک طرف رکھئیے صرف تسلی بخش کارکردگی کا ہی جائزہ لیں تو اس حوالے سے بھی سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا بلکہ 8سال قائم علی شاہ کے ہاتھوں سندھ دھرتی کو تباہ کروانے کے بعد اب جب کہ مراد علی شاہ کو بطور وزیر اعلیٰ سافٹ امیج اجاگر کروانے کے لئے لے کر آئے ہیں تو میرے خیال سے اس میں بھی اب دیر ہو چکی ہے ،ان تمام باتوں کے باوجود سندھ میں پیپلز پارٹی کے علاوہ کسی اور کی حکومت بنتے فی الحال نظر نہیں آرہی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان الطاف حسین سے علیحدگی کے بعد سے انتہائی کمزوری کا شکار ہو چکی ہے اور اگر کچھ رہی سہی کسر تھی بھی تو وہ مصطفی کمال نے پوری کر دی دونوں دھڑوں کے الحاق کے بغیر کراچی اور حیدرآباد میں خاطر خواہ کارکردگی بعید از قیاس نظر آتی ہے فنکشنل لیگ تن تنہا یہ ہمالیہ سر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور پی ٹی آئی جس نے کراچی کے شہری حلقوں میں بیشتر ووٹرز کو متاثر کیا تھا وہ بھی کوئی بہت بڑی تبدیلی سندھ کی حد تک لانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آرہی ۔
سندھ کے بعد پنجاب کا ذکر کیا جائے جس کے ہر ضلع میں آصف علی زرداری نے بھٹو کے نعرے لگنے کا دعوی کیا ہے تو یہ دعوی بھی قرین قیاس دکھائی نہیں دیتا کیونکہ بلاول کے فیصل آباد میں فلاپ شو کے بعد وہ امیدیں بھی دم توڑ گئیں جو پنجاب کی حد تک بلاول کی ذات سے وابستہ کی جار ہی تھیں کہ محترمہ بے نظیر کی طرح وہ بھی پنجاب کی عوام اور سیاستدانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیں گے ، بلاول ہاؤس لاہور میں طویل قیام کے باوجود لاہورشہر یا پنجاب کے کسی بھی علاقے میں بلاول اپنی شخصیت کی چھاپ نہیں ڈال سکے اور سوائے لاہور میں لمبا عرصہ تک رہائش پذیر رہنے کے اور حکومت کے خلاف بڑھکیں لگانے کے کوئی نمایاں کام نہیں کرسکے ۔
فی الحال پانامہ کیس کا فیصلہ آنے تک پنجاب میں بھی کوئی نمایاں تبدیلی متوقع نہیں ہے ن لیگ 2013کی نسبت 2018کا الیکشن لڑنے کے لئے زیادہ بہتر طریقے سے تیار ہے اور تحریک انصاف کی پوزیشن 2018کی نسبت کمزور ہو چکی ہے اس صورتحال کی ذمہ داری حکومتی کارکردگی سے زیادہ اپوزیشن جماعتوں کی نا اتفاقی پر عائد ہوتی ہے ، جب تک اپوزیشن متحد ہو کر حکومت کے خلاف محاذ نہیں بنائے گی تب تک عوام بھی حقیقی صورتحال سے ناواقف ہی رہیں گے ۔اب جبکہ چار سال گزرنے کے باوجود حکومت لوڈ شیڈنگ ختم کرنے میں ناکام رہی ہے جب کہ الیکشن لڑتے ہوئے سب سے زیادہ زور ہی اس امر پر دیا گیا تھا اور شہباز شریف بحیثیت وزیر اعلیٰ لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجا مینار پاکستان میں کیمپ آفس لگا کر بیٹھ گئے تھے اور سرکاری وسائل استعمال کر کے جلسے اور جلوس نکالتے رہے ، اب اس حکومتی نا اہلی پر مؤثر احتجاج کا نا ہونا اپوزیشن کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ہم جیسے کمزور اور ناتواں صحافی حکومت اور اس کے اداروں میں پائی جانے والی کرپشن کو کئی دفعہ منظر عام پر لاچکے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان ایشوز کو نہ اٹھانا بھی اپوزیشن جماعتوں کی ناقص حکمت عملی کا نتیجہ ہے اس وقت کوئی سرکاری ادارہ بھی کرپشن سے پاک نہیں ہے ،اچھی جمہوری روایات رکھنے والے معاشروں میں اپوزیشن حکومتی کارکردگی کا بغور تنقیدی جائزہ لیتی رہتی ہے اور اس حوالے سے میڈیا میں آنے والے مختلف اسکینڈلز پر بھی بطور خاص ان کی نظر ہوتی ہے تھریسا مے جو کہ برطانیہ کی حکمران ہیں انھیں عوامی نمائندگان کے درمیان انتہائی سخت سوالات کا جواب دینا پڑتا ہے اور کئی سوالات ایسے ہوتے ہیں جو اسکینڈلز کی رپورٹنگ دیکھ کر اخذ کئے جاتے ہیں، اس حوالے سے پانامہ اسکینڈل بھی اپنی مثال آپ ہے لیکن ہماری اپوزیشن ایسی سست اور غیر ذمہ دار ہے اس جیسی اپوزیشن آج تک دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ، بڑے بڑے اسکینڈلز موجود ہونے کے باوجود دم سادھے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب حکمران پانامہ کے چنگل میں بری طرح پھنس گئے اور بڑے بڑے اخبارات نے با تصویر خبر شائع کی تب جا کر اپوزیشن کو ہوش آیا اسی طرح سے اس عاجز نے بڑے بڑے اسکینڈلز کے متعلق رپورٹ کیا جس پر کئی حکومتی اراکین نے رابطہ کرکے کرپشن ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ اسکینڈل رپورٹ کرنے سے پہلے انھیں مطلع کر دیا کروں ،لیکن مجال ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے کسی نے رابطہ کیا ہو ۔
وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا ذیلی ادارہ پی ایچ اے (ایف) کرپشن کے بھنور میں مکمل طور پر پھنس چکا ہے اور تباہی کے دہانے پر ہے ۔ مجال ہے کبھی قومی اسمبلی میں اس ادارے کے حوالے سے کسی اپوزیشن رکن نے سوال کیا ہو یا اس کی کرپشن زیر بحث لائے ہوں پھر پنجاب سیڈ کارپوریشن حکومت کو ہر سال کروڑوں روپے کا چونا لگانے میں مصروف عمل ہے لیکن مجال ہے کسی نے اس حوالے سے کوئی سوال یا کوئی اعتراض کیا ہو پھر شہر اقتدار لاہور کا معروف ادارہ ایل ۔ڈی ۔ اے جس کی کرپشن تو زبان زد عام ہے لیکن اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید شائد گہری نیند سو رہے ہیں، خان صاحب پیپلز پارٹی پر تو مک مکا کا الزام لگاتے ہیں کبھی اپنے ارکان اسمبلی کی کارکردگی کا جائزہ بھی لے لیں سوائے تنخواہیں وصول کرنے کے اور بے مقصد ایشوز پر بحث کرنے کے کوئی کام بھی کیا ہے یا نہیں ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *