صد سالہ اجتماع کیا کھو یا کیا پا یا؟

asghar khan askari

جمعیت العلماء اسلام (ف) نے اسی مہینے یعنی 7 اپریل سے 9 اپریل تک سو سال پورے ہو نے پر اضا خیل ،نو شہرہ میں اجتماع کا انعقاد کیا۔اس اجتماع میں مو لانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جمعیت العلما ء اسلام (س) کے سربراہ مو لانا سمیع الحق کو دعوت نہیں دی ۔ عمران خان کو دعوت نہ دینے کے بارے میں مو لا نا فضل الرحمان کا عذر یہ تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو نہیں ما نتے اس لئے ان کو دعوت نہیں دی گئی ۔ ہو سکتا ہے کہ مو لا نا سمیع الحق کو اس لئے دعوت نہیں دی گئی ہو کہ ان کی پارلیمنٹ میں نما ئند گی نہیں ہے۔ اپنے مکا تب فکر کے افراد کو جمع کر نے کے لحاظ سے اضا خیل کا اجتماع ایک کا میاب شو تھا۔لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس اجتماع کے انعقاد سے مو لانا فضل الرحمان اور ان کی جما عت نے کیا کھو یا اور کیا پا یا؟اضا خیل اجتماع کے انعقاد سے پہلے یہ سوال اٹھا یا گیا کہ جس جماعت کی صد سالہ اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے کیا ان کی پید ائش کے سو سال پو رے ہو ئے ہیں؟ اس سوال کا جو اب میں تاریخ پر چھوڑ تا ہو ں قارئیں خود اس کا جواب تلاش کر سکتے ہیں۔میرے زہن میں چند سوالات تھے ۔ جن کے جوابات اس اجتماع کے بعد مل گئے۔وفاق المدارس کے ساتھ جو دینی جما عتیں رجسٹرڈ ہے، اپنے علا قے میں انہی مدارس کے مہتم حضرات اور مدرسین سے جب بھی گفتگو ہو تی تو ان کا مو قف ہو تا تھا کہ ہمار اسیاست سے کو ئی بھی واسطہ نہیں ۔ہم صرف دین کاکام کر رہے ہیں۔ ہم کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت سے وابستگی نہیں رکھتے۔لیکن اس اجتماع نے یہ بات ثا بت کر دی کہ وفاق المدارس عربیہ جے یو آئی (ف)سے وابستہ ہے۔ایک اور سوال تبلیغی جما عت کے حوالے سے ہے۔جب ہم ان سے بات کر تے ہیں تو وہ سیاست سے انکار کر تے ہیں۔تبلیغی جماعت والوں کا مو قف ہو تا ہے کہ دوسرے لو گو ں کی طر ح ہم بھی وو ٹ دے دیتے ہیں ۔لیکن ہمارا کسی مذہبی یا سیاسی جما عت سے کو ئی تعلق نہیں ۔ مگر اس اجتماع میں تبلیغی جماعت کے لو گو ں نے اس طر ح ایمانداری سے شرکت کی ۔ جس طر ح وہ رائے ونڈ کے سالا نہ اجتماع میں کر تے ہیں۔ میں نے کئی تبلیغی جماعت کے لو گو ں کو سنا ان کا کہنا تھا کہ اضا خیل کا اجتماع رائے ونڈسے بھی بڑا تھا۔مو لا نا فضل الرحمان کی اضا خیل اجتماع میں دینی مدارس کے طلبہ ،مہتمم ،مدرسین اور تبلیغی جماعت کے لو گوں کو تین دن کے لئے اکٹھا کر نا مو جودہ صورتحال میں بہت بڑی کا میا بی ہے۔اس لئے کہ بعض لو گو ں کو یہ غلط فہمی تھی کہ وفاق المدارس عربیہ، ان سے وابسطہ مدارس اور تبلیغی جماعت کے لو گو ں کے راستے اب مو لانا اور ان کی جماعت سے بڑی حد تک جدا ہو چکی ہے۔ لیکن اس اجتماع میں ان کی بھر پور شرکت نے اس غلط فہمی کو ختم کر دیا ۔اس اجتماع کے زریعے مو لا نا فضل الرحمان نے ان قوتوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ جو سمجھتے تھے کہ دیوبند مکتبہ فکر تفریق کا شکار ہے۔ان کا جے یو آئی (ف) اور مو لا نا فضل الرحمان سے وابستگی کم ہو گئی ہے۔لیکن اس کے بر عکس اس اجتماع کے زریعے مو لانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت نے بہت کھو یا بھی ہے۔اجتماع میں شریک دینی مدارس کے طلبہ کی طر ف سے یہ سوال اٹھا یاگیاکہ ہمارا خیال تھا کہ اس اجتماع میں جمعیت العلما ء اسلام کی سو سالہ تاریخ پر کوئی ڈاکو منٹری یا مختصر فلم دکھائی جا ئے گی۔مگر ایسا نہیں کیا گیا۔طلبہ کا کہنا تھا کہ ہم چا ہتے تھے کہ اپنے اسلاف کے کارناموں کو دیکھ اور سن لیتے ،لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ان کا مو قف تھا کہ ہم جمعیت العلماء اسلام کے سو سالہ سفر کی روداد سنے آئے تھے،لیکن ہمیں سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور ارکان پارلیمنٹ کو سننا پڑا۔دوسرا شکوہ ٰ دینی مدارس کے طلبہ اور بعض مدرسین نے یہ بھی کیا کہ ہمارا خیال تھا کہ اس اجتماع میں جمعیت العلماء کی سو سالہ تاریخ پر کسی مستند کتاب کی تقریب رونمائی ہو گی۔جس سے مدارس کے طلبہ کو بر صغیر پاک و ہند میں علماء اسلام کے جدوجہد ،مشکلات اور ان کے زرین کارناموں کو پڑھنے کا موقع ملے گا۔مگر افسوس کہ یہ پہلو بھی تشنہ رہ گیا۔رہی بات تبلیغی جماعت کی لو گوں کی تو ان میں اکثریت وہ ہے جو کسی زمانے میں سیاسی جماعتوں سے وابسطہ تھے۔ ان سے نا امید ہو کر انھوں نے تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کی۔اجتماع کے بعد تبلیغی جماعت کے کئی لو گوں سے بات ہوئی۔ان سے پو چھا کہ ووٹ کس کو دیں گے۔اکثریت کا جو اب یہی تھا کہ اپنے پرانی سیاسی جماعت کو۔ جب میں نے ان سے سوال کیا کہ کیوں؟ ان جواب تھا کہ ان کے ہاں مفتی محمود اور مو لانا فضل الرحمان زندہ با د کے نعرے تھے۔اگر ان کا مفتی محمود زندہ باد ہو سکتا ہے تو ہمار باچا خان،ولی خان ،ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کیوں زند باد نہیں ہو سکتی؟اکثریت کی رائے تھی کہ سیاسی لحاظ سے ہماری نظر میں نواز شریف ، آصف علی زرداری، اسفندیار ولی خان اورمو لانا فضل الرحمان برابر ہے۔پھر ہم ان کو ووٹ کیوں نہ دیں جو ہمارا کام کر تا ہو۔میں نے اجتماع میں شریک لوگوں سے پو چھا کہ دو دن ہو گئے ہیں کہ آپ لو گو ں کی واپسی ہو ئی ،لیکن آپس میں ملنے کے بعد تم ایک دوسرے سے صرف ایک ہی سوال کر تے ہو کہ کتنے آدمی تھے؟ان کا جواب تھا کہ ہم وہاں صرف مردم شماری کر تے رہے۔اس لئے کہ وہاں سیاسی جما عتوں کے لوگوں کو بلا یا گیا تھا۔ہم ان کو سننا نہیں چا ہتے تھے۔ بس ہر کو ئی حساب کتاب میں لگا تھا۔کئی لوگوں نے مو لانا بجلی گھر کا تذکر ہ بھی کیا۔ کہ اگر وہ حیات ہوتے اور اس اجتماع میں شریک ہو تے تو ہم حساب کتاب کے علاوہ بھی اور کچھ آپ کو سنا تے۔ کئی لو گوں کو بڑے بڑے بینرز پر دیو قامت تصویروں پر بھی اعتراض تھا۔بعض نے بتا یا کہ ہم نما ز کی ادئیگی کے لئے با ہر مسجد جا یا کر تے تھے ۔بہر حال جہاں اس اجتماع کے زریعے مو لا نا فضل الرحمان نے بہت کچھ پا یا میر ے خیال میں اس اجتماع کے زریعے انھوں نے بہت کچھ کھو یا بھی ہے۔ایک طر ف اگر وہ یہ دکھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ دیوبند مکتبہ فکر ان کے ساتھ ہے تو دوسری طر ف مدارس کے طلبہ ،مہتم حضرات ،مدرسین اور تبلیغی جماعت کے لوگ کئی سوالات اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں۔خصوصا تبلیغی جماعت کے لو گوں کو اگر ان کے سوالوں کے جو اب نہیں ملے تو آئندہ انتخابات میں جے یو آئی (ف) پر اس کے منفی اثرات مر تب ہو سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *