اس طرح تو ہوتا ہےاس طرح کے کاموں میں

naeem-baloch1

افسوس ناک بات تو یہ ہے مظلوم مشعال کی حمایت یہ کہہ کر کی جا رہی ہے کہ اس نے کسی کی کوئی اہانت نہیں کی، کوئی توہین نہیں کی ، اس لیے وہ بے قصور مارا گیا ۔ آپ پلٹ کر اگر یہ پوچھیں کہ اگر واقعی اس نے وہی کلمات کہے تھے جو اس سے منسوب کیے گئے تھے تو ؟مجھے یقین ہے کہ اکثریت کی رائے بدل جائے گی ، وہ کہیں گے کہ بالکل ٹھیک کیا گیا مردود کے ساتھ ۔
آپ ذرا ملالہ یوسف زئی کا واقعہ یاد کریں ۔ جب وہ موت وحیات کی کشمکش میں تھی اور زیادہ امکان یہی ظاہر کیا جا رہا تھا اس کا بچنا مشکل ہے ، تو جماعت اسلامی سے لے کر پروطالبان تک کے تمام جہادی تعبیرِ دین والے حضرات نے اس کی مذمت کی تھی ۔ لیکن جب یہ بتایا گیا کہ اس نے تو داڑھی کے بارے میں یہ کہا تھا ، فلاں ’کافر ‘ کی حمایت میں یہ الفاظ کہے تھے وغیرہ تو چشم فلک نے عجیب تماشا دیکھا۔ اس پورے واقعے کو ’’ڈراما ‘‘ اور خود ملالہ کو ’’ڈراما کوئین ‘‘ کہا گیا ۔’’کفار ‘‘ کی ایجنٹ قرار دیا گیا ۔ دوسرے الفاظ میں یہ مان لیا گیا اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ اس کا عافیہ صدیقی سے موزانہ کیا گیا ۔ ملالہ کو چند دن پہلے جب کینیڈا میں نئے اعزازات سے نوازا گیا تو کہا گیا ، اس نے کیا کارنامہ انجام دیا تھا؟
اب بھی آپ دیکھ لیجیے گا ، ٹی وی چینلز پر مولانا حضرات اس کی مذمت کریں گے ،یہ بیان کھل کر دیا جائے گا قانون ہاتھ میں نہیں لیا جا نا چاہیے ۔ ملزم کو مجرم سمجھ کر سلوک نہیں کرنا چاہیے لیکن ایک دو دنوں کے بعد جب یہ تجزیہ سامنے آئے گا کہ جب سے یہ قانون بنا ہے، گستاخی رسول کے جرائم میں خوف ناک اضافہ ہوا ہے ، جبکہ پاکستان بننے سے لے کر اس قانون کے بننے تک ،صرف چند واقعات ہی سامنے آئے تھے۔ اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ دیکھ لیجیے گا یہی مولانا حضرات یہ کہتے نظر آئیں گے کہ اگراس واقعے کی آڑ میں’ بے دین عناصر ‘گستاخی رسول کے جرم کی سزا کو ختم کرانا چاہتے ہیں تو یہ ہم کبھی نہیں ہونے دیں گے ۔ اس بعد آہستہ آہستہ یہ اندوہناک واقعہ ایک نیا رخ اختیار کرے گا ۔ اس مظلوم کا کفن بھی میلا نہیں ہو گا کہ کہا جائے گا کہ مارنے والوں کی نیت دیکھیے، کیا انھوں ذاتی انتقام لیا تھا ؟ کیا انھیں یقین نہیں تھا کہ اس نے سخت ترین الفاظ میں اہانت رسول کی ہے؟ تو پھر دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کی انھوں نے غیرت ایمانی کا تقاضا پورا نہیں کیا ؟ کوئی مسلمان ایسا بے غیرت کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کے سامنے اہانت رسول کا مجرم موجود ہو اور وہ کو جہنم رسید کرنے کے لیے ان عدالتوں کے فیصلے کاانتظار کرے جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں ، جو’’ حضرت ممتاز قادری رحمتہ اللہ علیہ ‘‘ کو پھانسی کی سزا دیتے ہیں بھلا وہ کیا جانیں غیرت ایمانی اورعشق کے مقامات کیا ہوتے ہیں ؟آپ کو کئی مولوی خادم حسین باؤلے ہوتے نظر آئیں گے۔ ایسے ہی خونخوار بھیڑیوں کے ڈر کی وجہ سے سیاسی رہنماؤں کی اکثریت نے اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔
آپ اس تجزیے کو اس لیے غلط قرار نہیں دے سکتے کہ گوجرانوالہ کے حافظ قرآن کے قتل سے لے کر مسیحیوں کی بستی جلانے کے واقعات تک، ہمارے حکومتی ، عدالتی اور مذہبی اداروں کا رویہ انتہائی شرم ناک رہا ہے ۔اس معاملے میں انصاف تو دور کی بات، اس میں موجود خرابیوں کا ذکر کرنے کی بھی ہمت ہم اپنے اندر نہیں پاتے ۔
ہمارا احساس ہے کہ جب تک عقیدے سے محبت کو عدل آشنا نہیں کیا جاتا ، درست سمت ایک بھی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ جب تک قانون کو ہاتھ میں لے کر غیرت کے تقاضوں پورا کرنا قابل تعریف سمجھا جاتا رہا ، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ دوسرے کے عقائد اگرچہ کتنے ہی گمراہ کن کیوں نہ ہوں ، ان کو برداشت کرنے کے کلچر کو فروغ نہیں دیتے ، معصوموں کا خون بہتا رہے گا ۔ اور سب سے بڑھ کر جب تک انسانی جان کو ہر عقیدے ، ہر نظریے ، ہر مصلحت سے زیادہ مقدس نہیں سمجھیں گے، مسلمان تو دور کی بات ہم انسانیت کی ابجد سے نا واقف محض رہیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *