ایک اچھی کتاب

ایازا میرAyaz Amir

کسی بھی کتاب ، چاہے وہ نثر ہو، شاعری ہویاکسی فلسفیانہ موضوع پر ہو، کا پہلا امتحان یہ ہے کہ کیا یہ پڑھنے میں عمدہ ہے؟اپنی زندگی اور سیاست کا احاطہ کرنے والی عابدہ حسین کی کتاب ’’Power Failure‘‘ اس امتحان میں مستحسن طریقے سے پاس ہوجاتی ہے۔ آپ اسے پڑھنے کے لئے ہاتھ میں لیں اور ممکن ہے کہ کچھ انکل اور آنٹیاں ورق گردانی میں گزارنی پڑجائیں لیکن کتاب اتنی عمدہ ہے کہ آپ اسے ایک ہی نشست میں پڑھے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ عابدہ سحر انگیز بیان رکھتی ہیں.... آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ گفتگو کے آداب میں طاق ہیں، اگرچہ کبھی کبھار اُن کا لہجہ ضرورت سے زیادہ دوٹوک ہوجاتا ہے، لیکن اچھے مقرر کی طرح وہ بھی مداخلت برداشت نہیں کرتیں اور نہ ہی کسی اور کو ا سٹیج پر قبضہ کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ تاہم اس سوانح عمری میں وہ دوٹوک ہونے کی بجائے اپنی ذہانت اور جاندار طرز ِ تکلم کا مظاہرہ کرتی ہیں، چنانچہ یہ کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔
’’استحقاق یافتہ بچے‘‘ نامی اصطلاح بہت سوں کو ناگوار گزرتی ہے لیکن پھر اس سے مفر بھی تو ممکن نہیں۔ صرف دولت مند ، جاگیرداروں، سیاست دانوں، آبائی زمینیں رکھنے والوں، گھوڑوں کا شوق پالنے والوںوالدین کی اکلوتی اولاد اور جسے سوئس فنشنگ اسکول میں تعلیم کا موقع ملا اور قدرت نے حسن کی دولت سے نوازا....کچھ تصاویر سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ تاہم ان کی نوجوانی کی تصاویر سے بھی معصومیت اور وقار کا ملاجلا تاثر ملتا ہے۔ ایسا نہیں جیسا کہ رئیس خاندانوں کے خودسر اور بگڑے ہوئے بچے ہوتے ہیں۔ یقینا وہ چہرے سے توانائی اور جذبات سے بھر پور لگتی ہیں لیکن جہاں تک روئیے اور برتائو کا تعلق ہے، وہ پرسکون دل اور مطمئن دماغ کا برملا اظہار کرتا ہے۔ اس روئیے کا اظہار آنے والے دنوں میں سیاسی میدان میں چنی گئی راہوں سے بھی ہوتا ہے.... ڈسٹرکٹ کونسل جھنگ....وغیرہ سے سیاسی سفر کا آغاز اور پھر ہنگامہ خیز سیاسی اتار چڑھائو،جس میں ان کے شوہر فخر امام کی طر ف سے ایک جاندار اسپیکر کاکردار ادا کرنا بھی شامل تھا۔ فخر امام جنرل ضیا کی خواہش کے برعکس اسپیکر منتخب ہوئے تھے اور اُنھوں نے جنرل اور منتخب شدہ وزیر ِ اعظم، محمدخان جونیجو، کو پریشان کرنے والی رولنگ دینا شروع کردی۔ دوسری طرف مسٹر جونیجو نے جنرل کو پریشان کرنا شروع کردیا، لیکن یہ ایک اور کہانی ہے۔ بہرحال پاکستانی سیاست میں عسکری اداروں اور سویلین حکمرانوں کے درمیان طاقت کا توازن قائم ہوناہنوز باقی ہے۔
عابدہ حسین کے بارے میں ایک بہت دلچسپ پیراگراف ہے کہ اب وہ چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل جھنگ ہیں اور وہ یواین اسمبلی کے سالانہ اجلاس میںشرکت کے لئے جانے والے وفد کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔ اُن کاکہناہے....’’ یواین جانے کی سوچ نے میری سوچ میں بجلیاں سی بھر دیں۔ ‘‘تاہم وہ گورنر، لیفٹیننٹ جنرل سوار خان سے کہنا نہیں چاہتی ہیں، چنانچہ وہ ضیاءالحق کے وزیر ِخارجہ آغا شاہی سے رابطہ کرتے ہوئے کہتی ہیں....’’ میں گورنر پنجاب سے بات نہیں کروں گی، لیکن آپ ایک دوست ہیں، اس لئے اگر آپ چاہتے ہیںتو اُن سے یہ بات کر لیں۔ اس سے میں فوجی حکام کا کوئی احسان نہیں لوں گی۔‘‘
جب بے نظیر بھٹو وزیر ِ اعظم بنیں تو اپوزیشن پارٹیوں نے فوراً ہی ان کے خلاف ایک الائنس بنا لیا۔ بلوچستان کے وزیر ِ اعلیٰ نواب اکبر بگٹی نے اُن سب کو کوئٹہ میں بلایا۔ ابھی بحث شروع ہونے ہی والی تھی جب نواز شریف نے کہا اُنہوں نے ایک ضروری فون کال کرنی ہے۔ چونکہ اُنھوں نے آنے میں قدرے تاخیر کردی ، اس دوران رہنمائوں نے بے چینی محسوس کرنا شروع کردی۔ آخر کار عابدہ حسین سے کہا گیا کہ وہ اُنہیںلے کر آئیں۔ وہ بتاتی ہیں....’’سوداگر(بگٹی کا پی اے) دروازے پر تھا۔ اُس نے بے خوشدلی سے میرا استقبال کیا اوربتایا کہ نواز شریف فون پر گنگنارہے ہیں۔‘‘
جب عابدہ حسین واشنگٹن میں سفیر تعینات کی گئیں تو اُنھیں حقیقی سیاست، یا سفارت کاری کے اہم رموز، کے اہم سبق سیکھنے کا موقع ملا۔ اُس وقت تک افغان جہاد کا اختتام ہوچکا تھا۔جینوا معاہدے پر دستخط ہوچکے تھے اور امریکی پاکستان پر دبائو ڈال رہے تھے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرے۔ پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان کو ملنے والی تمام امداد روک لی جاتی ہے۔ انڈر سیکرٹری برائے سیاسی معاملات، Reginald Bartholomew اسلام آباد کا دورہ کررہے ہیں۔ عابدہ حسین وہیں موجود ہوتی ہیں جب وہ صدر غلام اسحٰق کو ایک سخت پیغام دیتا ہے۔ صدرصاحب اُسے ایک خط دکھاتے ہیں جو اُنھوں نے امریکی صدر کے نام لکھا ہے۔ عابدہ حسین بتاتی ہیں....’’اس خط کو پڑھنے کے بعد Reginald Bartholomew فائل میز پر پھینکتے ہوئے بڑبڑاتا ہے کہ اگر تم پاکستانی یہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ امریکہ کیا چاہتا ہے تو یہ تمہارے حق میں اچھا نہ ہوگا۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل جاتا ہے ۔‘‘
امریکی پابندیوں کا مطلب تھا کہ ہمیں ایف سولہ طیارے نہیں ملیں گے حالانکہ ہم اُن کی ادائیگی ، پانچ سو ملین ڈالر، کرچکے تھے۔ ان کی ایک اور قسط، دو سو ملین ڈالر، بھی ادا کیے جانے کا وقت آچکا تھا۔ اگر ہم ادائیگی روک لیتے تو ہمیںایک سو پچاس ملین ڈالر جرمانہ ہوتا ۔ تاہم معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں تھی کہ اگر پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان کو وہ طیارے نہ مہیا کیے جائیں تو فراہم کرنے والوںکو بھی کوئی جرمانہ ہوگا۔ اس طرح وہ ایک یک طرفہ معاہدہ تھا۔
عابدہ حسین پنٹاگان جاتی ہیں تو اُنہیں ’’مکمل پروٹوکول ‘‘ملتا ہے۔ اُن کا استقبال ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری کارل فورڈ کرتا ہے ۔ وہ ان کے سامنے ایک پیڈ رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ اُنہیں تھوڑا سا حساب کتاب کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ادائیگی نہیں کرتے تو ہمیں ایک سو پچاس ملین ڈالر’’بطور انتظامی اخراجات‘‘ ادا کرنے پڑیں گے۔ ان کا کیا مقصد ہے؟ یہ وہ رقم تھی جو پے منٹ سے پہلے ہی منہا کی جاچکی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ رقم ’’درمیان کے آدمیوں‘‘کی جیب میں چلی گئی تھی۔ پوری سچائی پی اے ایف یا دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے افسران ہی جانتے ہوں گے کہ وہ خوش قسمت کون تھے جن کی جیب میں اتنی بھاری رقم سمائی۔
جب جنرل آصف نواز پنٹاگان کا دورہ کرتے ہیں تو ڈیفنس سیکرٹری، ڈک چینی، ان کے ساتھ تنہائی میں کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔ کہا جا تا ہے کہ اگر پاکستان ایٹمی پروگرام میں سرخ لکیر عبور کرنے سے گریز کرے تو امریکہ فوجی حکومت کو برداشت کرلے گا۔ جنرل صاحب نے انکار کردیا، تاہم رائے دی کہ اگر نواز شریف کو تبدیل کردیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا۔ تاہم عابدہ حسین کے نزدیک ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ امریکیوں کو کسی فر د سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، وہ اپنی بات منوانا چاہتے تھے۔ ایک اور بات، جس کی وجہ سے امریکی پریشان تھے ، وہ یہ تھی کہ پاکستان اسامہ بن لادن اور دیگردہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے۔ بہت جلد نواز شریف کی چھٹی ہوجاتی اور وسط مدتی انتخابات میں بے نظیر کامیاب ہوجاتی ہیں۔ اُنھوں نے پہلے غلام اسحٰق خا ن کو کچھ یقین دہانی کرائی تھی اُنہیں صدر کے طور پر منتخب کرلیا جائے گا لیکن پھر وہ یہ بات بھول گئیں۔ اس کے بعد اپنی پارٹی کے وفادار، فاروق الغاری کو صدر بنالیا۔ یہ کتاب پاکستان میں فوجی حکمرانوں اور ایوان میں جنم لینے والی بہت سی کہانیاں بیان کرتی ہے۔ یہ اس سے بھی بہتر ہوسکتی تھی اگر اس کی ایڈیٹنگ کچھ بہتر ہوتی اور فقرے اور گرامر کی غلطیوں سے نسبتاً پاک ہوتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *