تیسری جنس کی شناخت کا بحران

hussain-javed-afroz

ہمارے سماج میں خواجہ سرا ،ہجڑا ،یا تیسری جنس کو ہمیشہ سے ایک شجر منموعہ کی حیثیت حاصل رہی ہے ۔یہ ہمارے سماج کا ایسا گروہ ہیں جن کو ہر سطع پر استحصال اور بلاوجہ تحقیر کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ معاشرے میں رہنے کے قابل نہیں ہیں ۔ حالانکہ ہم اپنی تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔سکندر اعظم کے دور سے لے کر سلاطین دہلی اور مغلیہ عہد کو ہی دیکھ لیں۔شاہی حرم میں شاہی بیگمات کے ساتھ ان کی ہم آہنگی اور شاہی خاندان پر اثرو رسوخ کے ان گنت واقعات ہمیں تاریخ میں مل جاتے ہیں۔بلکہ خواجہ سرا کی ہندوستان پر گہری چھاپ اور اثرات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ علاؤ الدین خلجی کے دور میں اس کا ایک نامور جرنیل تھا جس نے خلجی کیلئے نمایاں جنگی خدمات انجام دیں ۔اور حیدر آباد دکن تک کا دور افتادہ علاقہ فتح کیا۔اس جرنیل کا نام’’ ملک کافور‘‘ تھا جس نے بعد ازاں علاؤ الدین خلجی کی موت کے بعد مختصر مدت کے لئے ہندوستان کی بادشاہت سنبھالی۔یہ جرنیل ملک کافور بھی ایک خواجہ سرا ہی تھا۔لیکن برٹش دور میں اس تیسری جنس کو معاشرتی دھارے سے کاٹ دیاگیا۔اور اسی دور میں خواجہ سرا سماج سے کٹ کر رہ گئے۔ یہاں 1871 کے کرمنل ایکٹ کا حوالہ دینا ضروری ہے جس میں پہلی بار خواجہ سرا کمیونٹی کا باقاعدہ اندراج کیا گیا اور ان کی اصلاح کرنے کی ضرورت پر زور دیاگیا۔میڈیکل نقطہ نگاہ سے اگر ایک بچے میں پیدائشی طور پر کچھ نقائص پائے جاتے جاتے ہیں تو اس اس بچے کا کوئی قصور نہیں ہے۔اسی طرح اس کے والدین میں بھی کوئی نقص نہیں ہوتا ۔یہ ایک قدرتی عمل ہوتا ہے ۔لیکن ہمارے سماج میں ایسا بچہ اپنے والدین کے لئے ایک معاشرتی گالی بن کر رہ جاتا ہے ۔Image result for pakistani transgender

اور والدین اسے دھتکارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔اس کو اپنے بہن بھائیوں کی جانب سے بھی ہمدردی کے دو بول تک نہیں ملتے۔یوں اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسا بچہ جو اپنے خاندان سے خصوصی توجہ کا طالب ہوتا ہے وہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور اسے خواجہ سرا کمیونٹی اپنا لیتی ہے ۔اسے رہائش اور معاشرتی تحفظ فراہم کرتی ہے ۔ اس کمیونٹی میں گرو کا اہم کردار ادا ہوتا ہے جو خواجہ سراء کو معاشرتی تحفظ دیتا ہے ۔اور ان کو روزگار فراہم کرتا ہے ۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپنے معاشرے اور خاندان سے دھتکارے جانے کے بعد ایک خواجہ سراء کے پاس پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کیا راستہ رہ جاتا ہے؟ سوائے اس کے وہ بھیک مانگے ،بن سنور کر سڑکوں پر پھرتا رہے اور شادیوں میں رقص و سرود کی محفلوں کی رونق بن جائے ۔پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے خواجہ سراء اس بے رحم معاشرے میں بطور سیکس ورکر بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔پاکستان میں پہلی بار جنوری 2017 میں عدلیہ کے حکم پر خواجہ سرا کمیونٹی کو مردم شماری میں شامل کیا گیا ہے ۔لہذا ملک میں ان کی حتمی تعداد کا تعین تو اس کے نتائج آنے پر ہی ہو سکے گا ۔تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کی تعداد ساڑھے تین سے پانچ لاکھ کے قریب ہے ۔جبکہ صرف کراچی میں ان کی تعداد 70 ہزار کے قریب ہے ۔سپریم کورٹ نے 25 ستمبر 2012 کو دئیے گئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ خواجہ سرا کو بھی پاکستان کے دوسروں شہریوں کی مانند بنیادی حقوق حاصل ہیں۔لہذا ان کو بھی سرکاری نوکریوں میں کم از کم دو فیصد کوٹہ دیا جائے ۔اور ان کو وراثت کاحق بھی ملنا چاہیے۔اس فیصلے کے بعد سندھ حکومت نے 2014 میں تین خواجہ سراؤں کو نوکریاں فراہم کی ۔لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ان میں دو خواجہ سرا ،ناموافق دفتری ماحول کی بدولت نوکری چھوڑ چکے ہیں۔ کراچی ڈیفنس میں خواجہ سراء کے لئے ایک ویلفےئر سینٹر بھی قائم کیاتھا لیکن اس کو بھی کچھ عرصے بعد بند کر دیا گیا۔ یہاں ایک تلخ امر یہ بھی ہے کہ خیبر پختونخواہ میں پچھلے دو سالوں میں 40 سے زائد خواجہ سراء قتل کئے جاچکے ہیں جبکہ ان پر تین سو سے زائد حملے بھی کئے گئے۔یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ پولیس بھی ان کو تحفظ کرنے کی بجائے الٹا ان کو ہراساں کرنے کا سبب بنتی ہے اور جیل میں مقید خواجہ سراؤں کے ساتھ بھی غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے ۔یہاں ہمارے سامنے بھارتی ریاست کیرالا کی مثال ہے جہاں جیل میں خواجہ سراء قیدیوں کے لئے الگ بلاکس بنائے گئے ہیں۔ اکثر خواجہ سراء یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ خواجہ سراء دو قسم کے ہیں ایک وہ جو پیدائشی ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو پیسے کمانے کے لئے سوانگ بھرتے ہیں۔اس پریکٹس کو روکنے کی ضرورت ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی جانب سے مارچ2017 میں بل پیش کیا گیا جس کے تحت خواجہ سرا ء کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پرزور دیا گیا ہے ۔بل کے تحت خوا جہ سرا سے امتیازی سلوک روا رکھنے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ اوردو سال قید کی سزا دی جائے۔ جبکہ خواجہ سرا سے جبری طور پر بھیک منگوانے کی پاداش 30ہزار روپے جرمانہ اور دو ماہ قید کی سزا دی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ پنجاب میں پر خواجہ سراء کی فلاح و بہبود کیلئے کمیٹیاں اور rehablitation کے مراکز بھی قائم کئے جائیں۔جبکہ گزشتہ جون 2016 میں خیبر پختونخواہ حکومت نے خواجہ سرا کی فلا ح و بہبود اور ترقی کے لئے 200ملین روپے مختص کئے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ خواجہ سراء ،تیسری جنس یا ہجڑے ،یہ سب ہمارے معاشرے کا جیتا جاگتا کردار ہیں۔ان کو معاشرے میں آگے بڑھنے ،تعلیم حاصل کرنے کے لئے اتنے ہی حقوق ملنے چاہیے جتنا کہ ہمیں حاصل ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ ان کا ہاتھ جھٹکنے کے بجائے اسے تھاما جائے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *