کیا پرابلم 1970 کے بعد پیش آئی؟

nadeem F paracha

اپنی 2003 کی کتاب میں سابقہ جنرل مینیجر پی ٹی وی برہان الدین حسن نے لکھا کہ جولائی 1977 میں اقتدار میں آ کر جنرل ضیاء نے پی ٹی وی کو جو نصیحت کی وہ یہ تھی کہ ٹی وی شوز اور ڈراموں میں مولویوں کو ہمیشہ مثبت کردار میں دکھایا جائے۔ یہ نصیحت ضیاء الحق کی وزارت اطلاعات کے تحفظات کو دیکھتے ہوئے کی گئی ۔ وزارت اطلاعات کو تردد تھا کہ اردو فلموں، ٹی وی ڈراموں اور اردو لٹریچر کے ذریعے جو ثقافتی احساسات پروان چڑھائے جا رہے تھے ان میں مولویوں اور علما کو ہمیشہ منفی کردار میں پیش کیا جاتا ہے۔

اس ایک بڑے پیراڈائم شفٹ کی عکاسی تھی جس کا آغاز ضیا ء کی حکومت کے دوران ہوا تھا اور جس میں علما کو سیاست اور قانون سازی میں زیادہ مثبت اور محرک کردار ادا کرنے کا کہا گیا تھا۔ لیکن ضیا کو ایسا کیوں محسوس ہوا کہ مذہبی احساسات کو برا نا کر پیش کیا جا رہا ہے اور انہیں ریاست اور حکومت کے معاملے پر اثر انداز ہونے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ سابقہ مورخ کی اتھارٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر علی عثمان قاسمی بتاتے ہیں کہ کیسے 1947 سے 1970 کی دہائی کے نصف تک ریاست اور حکومت جان بوجھ کر علما کو حکومت اور قانون سازی کے معاملات سے دور رکھا کرتے تھے۔

عثمانی مزید بتاتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ جو لوگ ریاست اور حکومت چلاتے تھے وہ سیکولر تھے۔ بلکہ ان کا عقائد کے بارے میں اور پاکستانی قومیت میں خیالات علما اور ملاؤں سے نہیں ملتے تھے۔ سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ جو 1947 سے 1971 کے دوران ریاستی اور حکومتی معاملات کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی وہ سرسید احمد خان، سید عامر علی، چراغ علی، احمد الدین امرتسری، محمد اقبال، غلام احمد پرویز، ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، اور ڈاکٹر فضل الرحمان ملک جیسے علما کی طرف سے متعارف کروائی گئی مسلم نیشنلزم کو ترجیح دیتی تھی۔

انہی سکالرز نے ساوتھ ایشیا میں اسلامک ماڈرن ازم کو متعارف کروایا۔ ایک آئیڈیا کی حیثیت سے اس نے عوام کو اس بات پر ابھارا کہ وہ عقلی، پریٹیکل اور فلسفیانہ معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے مذہبی کتابوں کا مطالعہ کریں اور اس مقصد کےلیے موجودہ دور کے روشن خیال علما کی لکھی گئی تفاسیر کا مطالعہ کریں۔

19 سے 20 ویں صدی کے دوران ان علما اپنے بہترین تحاریر اور فلسفی ڈسکورس کے ذریعے یہ کوشش کی کہ مذہب اور عقائد کے معاملات سے مذہبی علما اور مولویوں کا اختیار ختم کیا جائے۔ انہوں نے عقائد کے منجمد اور غیر محرک ہونے جیسے معاملات سے متعلقہ مسائل پر کتابیں لکھیں اور ان کو سائنسی اور ثقافتی معاملات سے جوڑنے کی کوشش کی تا کہ یہ چیز واپس زندہ ہو جائے۔ ان کے مطابق یہ نئی فارم ایسے انجن کی شکل اختیار کرنے والی تھی جس کے ذریعہ ساوتھ ایشیا کے مسلمانوں کو زیادہ روشن خیال بنایا جانا تھا۔

Illustration by Abro

پاکستان کے بانی محمد علی جناح اس بیانیہ کے حامی تھے اور ساوتھ ایشیا میں اسلامک ماڈرن ازم کا پھیلاو چاہتے تھے۔ مثال کے طور پر پاکستان بننے کے چند ماہ بعد آئی آر آئی (انسٹیٹیوٹ فار دی ری کنسٹرکشن آف اسلام) کے قیام کے لیے قائد اعظم نے گرین سگنل دیا جس کے سربراہ محمد اسد کو بنایا گیا جو ایک یہودی سے مسلمان سکالر بنے تھے۔ اشتیاق احمد نے 1987 میں لکھی گئی کتاب دی کانسپیپٹ آف اسلامک سٹیٹ میں آئی آر آئی کے پہلے تفصیلی انیشیٹیو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں یہ طے پایا تھا کہ مسلمانوں کی مذہبی کتابوں میں کسی قسم کا طریقہ حکومت تجویز نہیں کیا گیا اور مسلمانوں کا اختیار ہے کہ وہ اپنے حالات کو دیکھتے ہوئے طریقہ اقتدار اختیار کر لیں۔ اس رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلمان جو بھی طریقہ حکومت اختیار کریں، یہ بنیادی طور پر اسلام کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔

اگرچہ 1949 کی قرار داد مقاصد قومی اسمبلی نے پاس کی تھی اور اس کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنایا جانا تھا لیکن عثمانی ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اس قرارداد میں علما کو کوئی اہمیت اور اتھارٹی نہیں دی گئی۔

1950 میں گورنمنٹ نے اقبال اکیڈمی کا قیام عمل میں لایاجس کا پہلا قدم ایک مونوگراف تھا جس کا عنوان 'اقبال اینڈ دی ملا' تھااور اس کے مصنف ڈاکٹر خلیفہ حکیم تھے۔ مونوگراف میں اقبال کے فلسفہ عقیدہ اور ری ایکشنری علما کا تصور عقیدہ کے بیچ فرق کو واضح کیا گیا تھا۔ یہ مونوگراف فوج کے ذریعے عوام میں تقسیم کیا گیا۔ یہ اقدام پنجاب میں احمدیت کے خلاف اٹھنے والے دنگے فساد کے خلاف آپریشن کے دوران اٹھایا گیا۔

پاکستانی نیشنلسٹ بیانیہ جس کے پیچھے اسلامک ماڈرنزم ملوث تھی تیزی سے ایوب خان کے دور میں مقبول ہونے لگا۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ اسلام کو پاکستان میں ترقی اور اتحاد کا ذریعہ بنانے کےلیے یہ لازمی تھا کہ ریاست کو علما اور ملاؤں کے اثر ورسوخ سے بچایا جائے۔

اگرچہ اس وقت تک علما قانون سازی کے معاملات پر انداز نہیں ہو پاتے تھے لیکن ایوب نے تمام مساجد اور درباروں کو ریاستی کنٹرول میں داخل کر کے انہیں مزید بے اثر بنا دیا۔ یہ قدم اٹھانے کا مشورہ ڈاکٹر جاوید اقبال نے دیا تھا جو علامہ اقبال کے بیٹے تھے۔ پھر ڈاکٹر فضل الرحمان ملک کے مشورہ پر ایوب خان نے حکومت کی طرف سے منظور شدہ خطبہ نافذ کرنے کا بھی ارادہ کیا جو ہر جمعہ کو ہر مسجد میں پڑھا جانا تھا۔

Image result for zia ul haq

اینٹی ٹراڈیشنلسٹ قانون سازی اور اسلامک ماڈرنسٹ اداروں کے ذریعے ایوب نے علما کی تمام کوششوں کو مین سٹریم پالیسی فارمیشن میں مداخلت سے دور رکھا۔ 1967 میں ایوب حکومت نے ایک پراجیکٹ کا اعلان کیا جس کا مقصد علما کو جدید تعلیمات سے آراستہ کرنا تھا تا کہ وہ معاشرے کے زیادہ پر اثر شخصیت بن سکیں۔

1960 کی دہائی کے آخر میں جب ملکی معیشت گِر رہی تھی تب ایوب کو رائٹ ونگ مذہبی گروپوں کی طرف سے اور لیفٹ ونگ کی طرف سے بھی سخت مزاحمت کا سامنا رہا۔ 1969 میں لیفٹ ونگ کی طرف سے آنے والے دباو کے نتیجے میں ایوب خان کو مستعفی ہونا پڑا۔

اسلامک ماڈرنسٹ بیانیہ زندہ رہا لیکن 70 کی دہائی کے نصف میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس کا اثر زائل ہونے لگا۔ ضیا کی ڈکٹیٹر شپ کے دوران یہ بیانیہ مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔

علما کی سوچ پر مبنی بیانیہ اور پیراڈائم جو ضیا نے پیدا کیا تھا وہ 1988 کے بعد بھی جاری رہا۔ اسلامک ماڈرن ازم کے متبادل کے طور پر شروع ہونے والے اس پیراڈائم میں تبدیلی آئی اور ایک انارکی کا نظام وجود میں آیا جس کی وجہ سے ریاست اور معاشرہ ایک خطرناک صورتحال میں گھر گیا۔ اب ہم سوچتے ہیں کہ کیا اگر 1970 کی دہائی کے بعد اسلامک ماڈرن ازم کو ملک میں پنپنے دیا جاتا تو کیا ملک اس وقت مختلف صورتحال میں ہوتا یا اب بھی یہی حالت ہوتی؟

https://www.dawn.com/news/1329822/smokers-corner-curbing-the-mullah

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *