’’وادی کاغان‘‘ ایک خوابیدہ سلطنت

hussain-javed-afroz

پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے فطرت کے ہر رنگ سے دل کھول کر نوازا ہے ۔آپ خود ذرا کھوجنے کی کوشش کریں اس دنیا میں کتنے ممالک ایسے ہیں جہاں تھر اور چولستان جیسے ریگزار ہوں،کنڈ ملیر ،گوادر جیسے دنیا کے حسین ترین ساحل ہوں ،عظیم ترین دریاایک کونے سے دوسری طرف روانی سے بہتے رہے ہوں ۔جہاں ہمالیہ ،قراقرم اور ہندوکش جیسے بلند ترین پہاڑی سلسلے ہوں ۔جی ہاں ہم اس لحاظ سے نہایت خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ ہم فطرت کے تمام رنگینیوں سے جی بھر کر لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ایسی ہی ایک خوابیدہ اور قدرتی مناظر سے مزین وادی کاغان ہے جہاں ہمیں جانے کا اتفاق ہوا ۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایک دور میں ہزارہ کا یہ سارا علاقہ کشمیر کی ریاست کے زیر نگین تھا ۔لیکن بعد میں اس کو ریاست کشمیر سے الگ کردیا گیا ۔مغلوں افغانوں کے بعد یہ حسین خطہ سکھوں کے زیر تسلط بھی رہا ۔

download

آج بھی بالا کوٹ جس کو وادی کاغان کا گیٹ وے کہا جاتا ہے سکھوں اور مسلم مجاہدین سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کے درمیان 1831 کے معرکے کی بدولت جانا جاتا ہے ۔یہ جولائی کا مہینہ تھا جب ہم نے وادی کاغان کی سیاحت کی ٹھان لی اور لاہور سے صبح سویرے روانہ ہوگئے ۔ہمارا منصوبہ وادی کاغان کے حسین مقامات شوگراں،ناران سے ہوتے ہوئے گلگت بلتستان کے جنت اراضی فیری میڈوز جانے کا تھا ۔اس کے لئے ہم نے بابو سر پاس کے را ستے گلگت بلتستان جانے کا پروگرام بنا لیا تاکہ شاہراہ قراقرم کے جان توڑ سفر سے ہٹ کر نئے راستوں کو آزمایا جائے ۔راولپنڈی سے آگے ایبٹ آباد جاتے ہوئے موسم نے انگڑائی لی اور بادلوں نے آسمان کو گھیرے میں لے لیا ۔ایبٹ آباد کے بعد سرسبز پہاڑیوں کے دامن میں ہم مانسرہ کی جانب رواں دواں تھے ۔یہاں احساس ہوتا ہے کہ درختوں کے جھنڈ ،ٹھنڈی ہوا اور بوندا باندی یہی اس خوبصورت خطہ ہزارہ کی ٹریڈ مارک نشانیاں ہیں ۔لیکن ایبٹ آباد سے آگے بالا کوٹ تک راستے میں اچھے قیام طعام کا فقدان پایا جاتا ہے ۔لہذا اگر آپ کی منزل بشام یا ناران ہے تو بہتر ہے کہ ایبٹ آباد میں ہی اچھی طرح فریش ہوجائیں تاکہ آگے کا سفر اچھا کٹے ۔حویلیاں سے شروع ہونے والی شاہراہ قراقرم کو چھوڑتے ہوئے ہم دائیں ہاتھ پر بالا کوٹ جانے والی سڑک پر ہو لئے ۔اب ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا ۔اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ اکثر اس جگہ سفر کے آغاز سے ہی موسلا دھار بارش ہوجایا کرتی ہے۔ اس روز بھی ایسا ہی ہوا اورہر طرف گویا جل تھل ایک ہوگیا ۔

download (1)

بالا کوٹ سے ذرا پہلے بٹراسی نامی مقام آتا ہے جہاں ایک سڑک مظفر آباد اور دوسری بالا کوٹ جاتی ہے ۔ہم بالا کوٹ کی جانب چل دئیے جہاں اب دریائے کنہار بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگیا ۔بالا کوٹ ایک چھوٹا سا شہر ہے جو 2005 کے زلزلے کا بری طرح شکار ہوا ۔اور بعد ازاں اس شہر کی ازسر نو تعمیر کرنا پڑی ۔ابھی بھی یہاں جا بجا ٹین کے لال چھتوں والے مکانات دکھائی دیتے ہیں جو کہ اس خوفناک زلزلے کی یاد دلاتے ہیں ۔ آج ہماری منزل شوگراں تھی جو بالا کوٹ سے 32 کلومیٹر دور خاصی بلندی پر واقع ہے ۔کیوائی کے مقام پر پہنچ کر ہم شاہراہ کاغان کو چھوڑ کر بلندی کی طرف روانہ ہوگئے ۔جیسے جیسے ہم اوپر جارہے تھے بالا کوٹ اور چھوٹا دکھائی دے رہا تھا ۔کیوائی سے شوگراں کا 7 کلومیٹر کا راستہ خاصا پرخطر ہے اور کئی بار انتہائی بلندی پر جاتے ہوئے خوف کی ایک لہر سی محسوس ہوتی ہے ۔آخر کار ہم سہ پہر شوگراں پہنچ گئے ۔اور شوگراں کیا ہے ؟پائن کے درختوں کے جھرمٹ ،گورنر ہاؤس کے وسیع سبزہ زار اور سرسبز مکڑا پہاڑ کے دامن میں بسا ایک حسین مقام۔جہاں بارش کسی وقت بھی برستی ہے اور برستی ہی رہتی ہے ۔جہاں سر شام بادل پائن کے درختوں میں اترتے ہیں۔تازہ ہوا کا پر کیف احساس شوگراں میں جا کر ہی ہوتا ہے ۔اگلی صبح ہم سری پائے کے لئے عازم سفر ہوئے ۔پائے میڈوز جانے کے لئے جیپیں ہمہ وقت تیار ملتی ہیں ۔جن میں نہایت طاقتور انجن لگے ہوتے ہیں۔یہ آدھے گھنٹے کا سفر ایک کچے ٹریک پر مشتمل ہے جہاں آپ کا سامنا مسلسل چڑھائی سے ہوتا ہے ۔لیکن خیال رہے یہاں ٹریک کر کے پائے جانا ایک رسک ہے کیونکہ ان گھنے جنگلات میں کسی بھی وقت چیتوں سے بھی آپ کا سامنا ہوسکتا ہے ۔پائے میڈوز جا کر پہلا احساس یہ ہوا کہ شوگراں کہیں بہت نیچے ہی رہ گیا تھا۔ اور یوں محسوس ہوا کہ شوگراں کی بلندی پائے کے سامنے شرما سی گئی ۔پائے کے دلکش سبزے سے بھرپور راستے پر ایک جانب حسین مکڑا پہاڑ آپ کے سامنے ایستادہ ہوتا ہے اور آپ یہاں سے پیدل چک کر آزادکشمیر میں داخل ہوسکتے ہیں۔ جہاں نیلم ویلی آپ کی منتظر ہوتی ہے۔

river green mountains

جبکہ موسیٰ کا مصلہ اور شاران کے سبزہ زار بھی یہاں سے صاف دکھائی دیتے ہیں ۔یہاں ہم نے دو گھنٹے قیام کیا لیکن یہ لمحات ہر لحاظ سے حاصل زیست ثابت ہوئے ۔یہاں آپ گھوڑ سواری بھی کر سکتے ہیں۔ جبکہ نیچے گہرائی میں بادلوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔گویا آپ بادلوں کے اوپر چہل قدمی کر رہے ہوں۔خیال رہے یہاں تیز دھوپ کی تمازت جلد کے لئے ضرر رساں ثابت ہوتی ہے لہذ ا اپنے ہمراہ سن بلاک لانا نہ بھولئے ۔مکڑا پیک جانے کے شوقین حضرات پائے سے چار گھنٹے کی ٹریکنگ کر کے وہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔ شوگراں میں گزارے گئے ان حسین لمحات کی یادیں لئے اب ہم ناران کی جانب گامزن ہوگئے ۔کچھ ہی دیر میں ہم پارس پہنچے جہاں سے 16 کلومیٹر دور ایک اوردلکش سبزہ زار’’شاران‘‘ آتا ہے ۔شاران کے سرسبز جنگلات اس کے پاس پھیلی ہریاول پاکستان کی شدید گھنی اور سبزے سے مزین جگہوں میں سے ایک مانے جاتے ہیں۔جہاں کی مسحورکن خاموشی اور تازگی روح کو باغ باغ کر دیتی ہے ۔پارس کے بعد مہانڈری اور پھر جرید سے گزرتے ہوئے اب ہم کاغان گاؤں پہنچے ۔یہاں دریا ئے کنہار آپ سے تھوڑا دور ہوجاتا ہے ۔اور وادی کاغان کا ایک وسیع وعریض لینڈ سکیپ آپ کا استقبال کرتا ہے ۔کاغان گاؤں کے گزرنے کے بعد اگلی منزل ناران تھا ۔ناران ،کاغان وادی کا صدر مقام ایک چھوٹا لیکن پر رونق قصبہ ہے ۔جس کے حجم میں اب اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ناران میں داخل ہوتے ہی خیمہ ہوٹل کی ایک طویل قطار نظر آتی ہے اور آپ ناران بازار میں پہنچ جاتے ہیں۔یہاں جگہ جگہ ہوٹل اور گیسٹ رومز موجود ہیں۔ ہم نے گرین پائن ناران میں قیام کیا جو سینٹرل جیل ناران کے سامنے واقع تھا ۔یہاں شفاف پانی کا ایک چشمہ بہہ رہا تھا۔ناران میں ایک دلچسپ واقعہ رونماء ہوا ہمارے ایک ساتھی لاہور سے ایک عدد کاؤ بوائے ہیٹ کے ساتھ سارے ٹرپ میں کلنٹ ایسٹ ووڈ بنے گھومتے رہے ۔ہمیں بھی احساس ہوا کہ ان حسین وادیوں ،کہساروں میں ہمارے پاس بھی ایک ہیٹ ہوتا تو لطف ہی آ جاتا ۔خوش قسمتی سے اسی کوالٹی کے ہیٹ ہمیں نہایت کم ریٹ پر ناران بازار سے مل گئے یوں اب ہم بھی ناران کے’’ جان وین‘‘ چکے تھے ۔اس براؤن ہیٹ نے فیری میڈوز کی بلندیوں تک ہمارا خوب ساتھ دیا۔اب ہماری منزل ناران کا مرقع حسن جھیل سیف الملوک تھی ۔جو کہ ناران سے 9 کلومیٹر کے فاصلے پر دنیا کی دلکش جھیلوں میں سے ایک جھیل ہے ۔جہاں شہزادہ سیف الملوک اور ایک دیو سے منسوب داستانیں لوگوں کے جوش کو گرماتی ہیں۔اس جھیل کا سبز پانی اور اس کے سامنے ملکہ پربت کا عظیم روپ قدرت کی تخلیق کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ملکہ پربت ہزارہ کابلند ترین پہاڑہے ۔ یہ نہایت ناہموار ہے جس کو 1920 میں برٹش افسران نے سر کیا ۔اسے اب تک 8 بار سر کیا گیا ہے ۔ ملکہ پربت کا ٹریک سیف الملوک سے چھ کلومیٹر کی دوری پر موجود ہے ۔اکثر ملکہ پربت کی چوٹی بادلوں میں پوشیدہ رہتی ہے ۔جبکہ سیف الملوک سے ۱۱ کلومیٹر دور ’’آنسو جھیل‘‘موجود ہے ۔

images

افسوس کی بات یہ ہے کہ سیف الملوک جھیل تک آسان رسائی نے اس جھیل کے دلنشین کناروں کو خاصا آلودہ کر رکھا ہے ۔اور جگہ جگہ آلائش ،کوڑا کرکٹ اس جھیل کے منظر کو بد مزہ سا کردیتا ہے ۔حکومت خیبر پختونخواہ کو چاہیے کہ اس قومی سیر گاہ کی حفاظت اور صٖفائی کا خاطر خواہ بندوبست کرے ۔تاکہ اس جھیل کا خوابیدہ تاثر تادیر قائم رہے ۔ملکہ پربت کے دامن میں واقع اس جھیل میں کشتی رانی کا ایک الگ ہی مزہ ہے ۔اب ہماری منزل بابوسر پاس تھا جو کہ وادی کاغان کا بلند ترین مقام ہے ۔اس مقام کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ گلگت بلتستان،کشمیر اور خیبر پختونخواہ کا سنگم بھی کہلاتا ہے ۔ بابو سر ناران شاہراہ کو شاہراہ قراقرم کا متبادل بھی کہا جاتا ہے ۔تادم تحریر یہ شاہراہ ہر موسم کے لئے موزوں نہیں اور ستمبر سے جون تک بند رہتی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے زیادہ محفوظ اور ہر موسم کو جھیلنے کے قابل بنایا جائے تاکہ شاہراہ قراقرم پر لوڈ کم کیا جا سکے۔ سویرے چھ بجے ہم ناران سے روانہ ہوئے اور بٹہ کنڈی، جلکھڈ سے ہوتے ہوئے بیسل کے مقام پر پہنچے۔ بٹہ کنڈی سے ایک راستہ اوپر ایک نہایت پرشکوہ وادی لالہ زار کی طرف بھی جاتا ہے جہاں بلندیوں پر موجود پائن کے درختوں سے مزین وادی آپ کی منتظر ہوتی ہے ۔لیکن خیال رہے کہ ایک گھنٹے پر مشتمل یہ را ستہ مکمل طور پر ایک جیپ ٹریک ہے۔ہمارا ارادہ یہاں بھی جانے کو تھا لیکن ہمارے علم میں آیا کہ لالہ زار میں اب آلو کاشت کئے جاتے ہیں لہذا وہ اب بجائے لالہ زار کے آلو زار بن چکا ہے ۔سو ہم لالہ زار پھر کبھی سہی کہہ کر آگے بڑھ گئے ۔ اب ہمارا سامنا ایک اور دلفریب جھیل لو لو سر سے ہوا۔

bea

اس جھیل پر اگرچہ سیف الملوک کی نسبت رش کم رہتا ہے لیکن فطرت کی تمام رعنا ئیاں اس جھیل کے پانیوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔شروع میں یہ جھیل آپ کو خاصی مختصر لگتی ہے لیکن جوں جوں آگے بڑھیں اس کا پاٹ وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔اس کا نیلگوں پانی گویا ہمیں مہبوت سا کر گیا۔وادی کاغان میں دودی پت نامی جھیل بھی موجود ہے لیکن اس کے لئے چار گھنٹے کی جان توڑ ٹریکنگ کرنا پڑتی ہے ۔سچ ہے کچھ خاص حاصل کرنے کا مزہ تھوڑی سی مشقت اٹھانے کے بعد ہی آتا ہے۔لولو سر جھیل سے بابوسر پاس تک کا راستہ محض ایک راستہ نہیں گویا ایک خواب ہے ۔ایک فینٹسی ہے۔چاروں طرف بلند بالا سرسبز پہاڑ،اور بتدریج بلند ہوتے راستے پر چلتے ہوئے گوجروں کے ریوڑ جو پنجاب کی جھلسا دینے والی گرمی سے بچ کر اب شمال کی اونچائیوں کی جانب گامزن ہیں۔کچھ کشمیر کی شاداب وادیوں میں نکل جاتے ہیں جبکہ کچھ گلگت بلتستان کی سرد چراگاہوں میں عارضی طور پر سکونت اختیار کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں گیتی داس کے مقام پرجا بجا ان وادیوں میں پانی کے بہتے چشمے دکھائی دیتے ہیں ۔جو کہ گلیشیر سے نکل کر کشمیر اور کنہار کے پانیوں میں قیام پذیر ہوجاتے ہیں۔شائد دنیا کی حسین ترین صبح بابوسر میں ہی اترا کرتی ہے ۔بابو سر کی اونچائیوں پر درجہ حرارت خاصا گر چکا تھا۔ اور سرد ہوا کی سائیں سائیں کی آوازیں ہمیں سندیسہ دے رہی تھیں کہ اب نانگا پربت ہم سے کچھ زیادہ دور نہیں رہ گیا تھا۔ہم وادی کاغان کے بلند ترین مقام پر سرد ترین ہواؤں کے ہمراہ چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔کچھ ہی دیر میں ہم وادی کاغان کو خیر آباد کہہ کر
گلگت بلتستان کی حدود میں داخل ہوگئے۔لیکن اس احساس کے ساتھ کہ وادی کاغان کی شادابیاں ہمارے وجود کو ہمیشہ کے لئے سیراب کر چکی تھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *