خواجہ سرا 'مینو' کی سعودی عرب میں موت

ایم الیاس خان

محمد امین ایک خاندانی شخص تھا جس کی بیوی، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں۔ لیکن 26 فروری کو جب ریاض میں پاکستانی ٹرانسجینڈرز کی پارٹی پر پولیس نے چھاپا مارا تو محمد امین کو زنانہ کپڑوں میں ملبوس پایا ۔ محمد امین نے زیورات پہن رکھے تھے اورمیک اپ بھی کر رکھا تھا۔ باقی ساتھی اسے مینو باجی کہہ کر پکار رہے تھے۔ سعودی عرب میں مخالف جنس کے لباس پہننے پر پابندی عائد ہے اس لیے محمد امین اور 34 دوسرے لوگوں کو عزیزیہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ اسی رات محمد امین کا انتقال ہو گیا۔ پاکستانی ایکٹوسٹس کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس پر ڈنڈوں اور پائپ سے تشدد کیا ہے جس سے اس کے دل کی بیماری میں اضافہ ہو گیا جو اس کی موت کی وجہ بنی۔ سعودی حکام نے اس الزام کی فوری تردید کی اور دعوی کیا کہ وہ کسٹوڈی میں رہتے ہوئے ہارٹ اٹیک سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پاکستانی حکام نے بھی سعودی حکام کی تقلید کرتے ہوئے دعوی کیا کہ وہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی کاموں میں ملوث تھے۔ لیکن مینو باجی کی فیملی ، دوست اور کچھ دوسرے ٹرانس جینڈ ایکٹوسٹس کا کچھ اور ہی کہنا ہے۔

مینو کون تھی؟

Meeno, in an undated image

مینو سوات کے علاقے باری کوٹ میں 1957 میں ایک کرائے دار کسان کے گھر پیدا ہوئے ۔ ان کا نام محمد امین رکھا گیا۔ ان کے تین بھائی اور پانچ بہنیں تھیں۔ اپنی جوان عمری میں وہ لیڈیز ٹیلر بنے اور باری کوٹ میں اپنی دکان کھول لی۔ لیکن پاکستان کی زیادہ تر ٹرانس جینڈر خواتین کے بر عکس محمدامین نے گھر نہیں چھوڑا اور اپنے والدین کے ساتھ رہے۔ انہوں نے 80 کی دہائی میں اپنے خاندان کی ایک خاتون سے شادی کی اور ایک دہائی بعد سعودی عرب چلے گئے جہاں انہیں لیڈیز ٹیلر جاب کے لیے ویزا دیا گیا تھا۔ ان کی حقیقی جنسی شناخت کے بارے میں صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔

معاشرتی دبائو کی وجہ سے ان کے خاندان کے افراد اور بچپن کے دوست کچھ کھل کر نہیں بتا پا رہے۔ ہمیں البتہ یہ معلوم ہے کہ ٹیلر کی نوکری کے علاوہ مینو باجی اپنے دوست خواجہ سرا خواتین کے ساتھ ڈانس اورشادی کی تقریبات اور کبھی کبھار پراسٹیٹیوشن کا کام بھی کیا کرتی تھیں۔ ان حرکات کی وجہ سے ان کے گھر میں مختلف قسم کی گفتگو ہوتی تھی۔ ان کے سب سے بڑے بھائی سر زمین کا کہنا ہے کہ وہ ٹرانسجینڈر نہیں تھیں لیکن ٹرنس جینڈر لوگوں کے ساتھ رہتی تھیں اور اس وجہ سے خاندان میں مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ سر زمین بھی سعودیہ میں ایک ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرتے ہیں اور ان کی شادی بھی ہو چکی ہے۔

ان کے والد ین اور بہن بھائی انہیں بہت ڈانٹتے تھے ۔ ہم جو ان کے بچے ہیں نے بھی کچھ عرصہ تک ان سے بائیکاٹ کیے رکھا ۔ میری ماں کا اکثر ان سے جھگڑا ہوا کرتا تھا۔ ہم انہیں بتاتے کہ ان کی وجہ سے خاندان کی عزت پر حرف آ رہا ہے۔ اس لیے انہیں نماز ادا کرنی چاہیے۔ لیکن وہ جواب دیتے کہ وہ اپنے دوستوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ وہ غصہ کرنے والے شخص نہیں تھے لیکن اس طرح کی گفتگو کی وجہ سے ان کا موڈ اکثر خراب ہو جاتا تھا۔ اس سب کہ باوجود سرزمین کا کہنا ہے کہ ان کے والد بہت مہربان اور شفیق آدمی تھے۔ انہوں نے سعودی عرب جانے سے پہلے کم آمدن کے باوجود سر زمین کو ایک مہنگے سکول میں داخل کروایا ۔

وہ گھر پر کافی خرچہ دیتے تھے اور رشتہ داروں اور ہمسایوں کو بھی مشکل میں مالی مدد فراہم کرتے تھے۔ خاندان کو ان سے شکایت صرف اس بات کی تھی کہ وہ کسی کو بتاتے نہیں تھے کہ ان کے پاس کتنی رقم ہے اگر یہ بات ان کے بہت سے دوستوں کو معلوم تھی۔ ان کی ایک دوست ٹرانس جینڈر خاتون کہتی ہیں: مینو فریش اور پر کشش لگنے کےلیے بہت پیسہ خرچ کرتی تھیں۔ انہوں نے راولپنڈی کے ایک کلینک میں سے ایک بہت مہنگا فیسلفٹ خریدا اور بہت سے سکن وائٹنگ انجکشن خریدے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس بہت سے مواقع پر لیزر سے جسم اور چہرے کے بال صاف کروائے۔ وہ بہت خوبصورت تھیں۔

ایک محبت کی طویل کہانی

Farzana Jan

فرزانہ جان جو ٹرانس جینڈر خاتون ہیں اور پشاور میں موجود ٹرانس جینڈر رائٹ گروپ میں کام کرتی ہیں جسے بلو وینز کا نام دیا جاتا ہے۔ ان کی مینو سے ملاقات 1990 کی دہائی میں ہوئی تھی جب مینو پہلی بار سعودی عرب سے واپس پاکستان آئی تھیں۔ اس وقت فرزانہ جان ڈانسر تھیں اور اس سے کئی سال بعد وہ رائٹ ایکٹوسٹ بنیں۔ انہوں نے بتایا: مینو اپنے تین دوستوں کے ساتھ مجھے ملنے آئی تھی۔ ان سب نے مردوں کے کپڑے پہن رکھے تھے لیکن ان کے صاف چہرے، مینی کئیر والے ہاتھ اور بھوئنیں ان کی شناخت بتا رہی تھیں۔ان سب کا تعلق سوات کے دیہاتی علاقے سے تھا اور سب درزی کا کام کرتی تھی۔ وہ میرے لیے بہت سے تحائف بھی لائی تھیں۔ مینو نے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ ابراہیم استاد ان کے گرو ہیں۔ (گرو سے مراد ہو ٹرانس جینڈ ر خاتون ہیں جو سوات میں ٹرانسجینڈر طبقہ کے لیے اپنا گھر کھلا رکھتی ہیں۔ )

انہیں معلوم ہوا تھا کہ پشاور میں ایک نئی ڈانسر آئی ہے اس لیے وہ مجھے ملنے آئے تھے۔ وہ میرا ڈانس دیکھنا چاہتے تھے۔ جاتے وقت مینو نے وعدہ کیا کہ وہ اگلی بار میرے لیے اچھے اچھے کپڑے لائیں گی۔ اپنے ہر دوسرے پر مینو فرزانہ جان کے لیے قیمتی تحفے لاتی تھیں۔ مینو کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک خفیہ زندگی جی رہی تھیں جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا۔ سپوگ مائی نے بتایا کہ مینو ایک مرد سے 30 سال تک محبت میں گرفتار رہی ۔ 2008 میں اس شخص کے انتقال کے بعد یہ محبت کی داستان ختم ہوئی۔فرزانہ کان نے بتایا کہ گل باچا ایک حقیقی مرد تھا جس کا اپنا خاندان تھا لیکن وہ ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔ وہ اکٹھے سعودی عرب گئے اور ریاض میں اکٹھے رہتے تھے۔

جب گل کی موت ہارٹ اٹیک کی وجہ سے 2008 میں واقع ہوئی تو مینو اس کا جسد خاکی باری کوٹ لے کر آئیں اور پھر کافی عرصہ تک واپس ریاض نہیں گئیں۔ گل کی موت کے ایک سال بعد مینو کو دل کی بیماری کے بارے میں پتہ چلا۔ ان کے خاندان کے لیے یہ ایک نئی چیز تھی۔ سپوگ مائی کے مطابق گل کی موت کا صدمہ مینو نے دل پر لے لیا اور مینو کی دہری زندگی نے بھی ان کی صحت پر برا اثر چھوڑا۔ ان سالوں میں مینو زیادہ تر وقت اپنے ٹرانس جینڈر دوستوں کے ساتھ گزارتی تھیں۔ ہم باری کوٹ بازار میں ایک فوٹو گرافر کی دکان پر اکثر ملا کرتے۔ کبھی کبھار میں انہین منگورا بلا لیا کرتی تھی۔ ہم سب دوست مل کر بیٹھتے اور گپ شپ کے علاہ گا بجا کر اچھا وقت گزارتے۔ ان کی صحت کا ان کی آواز پر بہت اثر پڑا تھا۔ اب وہ گا نہیں سکتی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ گانے کی کوشش میں مگن رہتی تھیں۔

واپس سعودی عرب کا سفر

مینو اپنے گھر پر کپڑے سی کر وقت گزارتی تھیں۔ ان کے دو بچے سعودی عرب میں تھے جس کا مطلب تھا کہ خاندان میں اخراجات کا مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن پھر ان کے لیے سوات میں رہنا مشکل ہو گیا۔ ان کو لگتا تھا کہ وہ اگر بیرون ملک چلی گئیں تو ان کی زندگی پرسکون ہو جائے گی۔ اس لیے وہ 2013 میں سعودیہ چلی گئیں۔

سپوگ مائی بتاتی ہیں کہ ریاض میں مینو نے کچھ لوگوں سے تعلقات بنانے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ جب وہ آخری بار 2015 میں پاکستان آئیں تو انہوں نے اپنی دوستوں کو بتایا: تمہاری ماں نے دوسری شادی کی لیکن وہ مرد اچھا نہیں تھا اس لیے طلاق ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی نظر میں ایک اور مرد بھی تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ 'تمہاری ماں ایک بار پھر شادی کرنے والی ہے'۔ ہم نے از راہ مذاق پوچھا کہ اب کس گلی میں سے لڑکا تلاش کیا ہے؟

فروری 2016 میں مینو واپس ریاض گئیں اور یہ ان کا آخری دورہ تھا۔ فرزانہ جان جو اپنے سوشل ورک کی وجہ سے ٹرانس جینڈر کمیونٹی میں ایک خاص شناخت رکھتی ہیں کو ایک ٹرانس جینڈر گروپ نے ریاض میں 26 فروری 2017 کو ہونے والی ایک شادی کی پلاننگ سے دور رکھا۔ 24 فروری کو انہیں ایک کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ جس بچی کا جنم دن تھا اور ایک اور لڑکی نے مینو کواپنی ماں کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اس لیے انہیں مشورہ درکار ہے۔ ان کا میوزک اور ڈانس کا کوئی پروگرام نہیں تھا البتہ ان میں سے کچھ نے خواتین کا لباس پہنا اور زیورات اور میک اپ سے بھی خود کو آراستہ کر لیا۔ لیکن پھر خوفناک خبر آئی۔ 27 فروری کو صبح 3 بجے کے قریب فرزانہ جان کو وٹس ایپ میسج ملا جس میں کچھ خواجہ سراوں کی تصاویر تھیں ۔ ان میں سے چند نے پنک پارکر سے اپنی آنکھیں رنگ رکھی تھیں۔ وہ کہتی ہیں: میں یہ دیکھ کر گھبرا گئی۔ میں نے پوچھا کہ تم کون ہو اور یہ لوگ کون ہیں؟ پھر مجھے ایک وائس میسج ملا جس میں ساری تفاصیل بتائی گئی تھیں کہ وہ لوگ کون تھے اور ان کے ساتھ کیا واقعہ ہوا تھا۔ میں نے ایک بار پھر تصاویر دیکھیں اور اس بار میں ان کو پہچان سکتی تھی۔

ریاض کے ایک اخبار میں خواجہ سراوں کی گرفتاری کی خبر چھپی تھی لیکن فرزانہ جان نے دعوی کیا کہ پولیس نے ہر کسی پر تشدد کیا تھا اور ان میں سے دو افراد جن میں مینو بھی شامل تھیں کو بہت بری طرح ڈنڈوں سے پیٹ کر ان کی بری حالت کی گئی۔فرزانہ جان کو ریاض میں موجود افراد نے بتایا تھا کہ دونوں کو موت واقع ہو گئی تھی لیکن دوسرے شخص کے جسم کے بارے میں کوئی خبر یا ثبوت نہ مل سکا۔ مارچ کے دوسرے ہفتے میں صرف مینو کا جسد خاکی پاکستان بھیج دیا گیا۔ کچھ خواجہ سرا طبقہ کے حقوق کے علمبرداروں نے اسلام آباد سے رابطہ کر کے احتجاج کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ مینو کے جسم کا پوسٹ مارٹم پاکستان میں کروایا جائے لیکن پاکستان میں مینو کی فیملی نے ایسا کرنے سے روک دیا اور اس طرح کوئی میڈیکل ثبوت نہ مل سکا۔

ان ایکٹوسٹس میں سے ایک جن کا نام قمر نسیم تھا اور ان کا تعلق بلیو وینز سے تھا نے اسلام آباد ائیر پورٹ پر میت وصول کی ۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہیں موقع دیا گیا کہ تابوت کھول کر مینو کا چہرہ دیکھ سکیں۔ مینو کے دانت ٹوٹے ہوئے تھے اور منہ کا ایک حصہ لٹک رہا تھا۔ انہوں نے اس کی تصاویر بھی لیں۔ لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے متعلقہ احکام کو کسی ایکشن پر مجبور نہ کیا جا سکا۔ پاکستانی سینیٹ نے خواجہ سراوں کے احتجاج پر ایک کمیٹی قائم کرنے کا عندیہ دیا جو مینو کی موت کے معاملے میں سعودی عرب سے رابطہ کرے گی۔ لیکن بہت کم لوگوں کو انصاف کی توقع ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب قریبی دوست ملک ہیں اور شہریوں کے حقوق پر معاملات کو بگڑنے کی اجازت دینے کے حامی نہیں ہیں۔ اس لیے مینو کی موت کے حقائق اب کبھی پوری طرح واضح نہیں ہو پائیں گے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ مینو کی زندگی محمد امین اور مینو کے بیچ، ایک باپ ، خاوند اور ایک خواجہ سرا کے بیچ الجھ کر آخر کار اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *