آہ یروشلم!

Irfan Hussainعرفان حسین

قدیم دور سے لے کر اب تک دنیا کے کسی بھی شہر میں اتنا انسانی خون نہیں بہا جتنا یروشلم کی گلیوں میں طویل عرصے تک بہتا رہا۔ یکے بعد دیگر ے کئی ایک فاتحین اور حملہ آوروں نے اس شہر کوتاراج کیا تو دوسری طرف بہت سے حکمرانوں نے اس کی تعمیرِ نوکی۔ تینوں عظیم الہامی مذاہب اس شہر کو مقدس گردانتے ہیں۔زائرین، پادری، فقیر، جوگی، مسیحا، ہیرو، قاتل، بادشاہ، الغرض ہر قسم کے لوگ اس شہر کی طرف اس طرح کھنچے چلے آتے ہیں جیسے چراغ کی طرف پروانے۔ اس سرزمین نے کئی ایک حکمران خاندانوں کا عروج و زوال دیکھا ، تاریخ نے بہت سے اوراق پلٹے لیکن ایک بات کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے کہ یروشلم کے اصل مالک کو ن ہیں۔ فی الحال جو قوم اس کے ساتھ سختی سے چمٹی ہوئی ہے، وہ یہودی ہیں۔
یہودیوں کے لیے داؤدعلیہ السلام کی اس شہر میں واپسی کا خواب اور اس کے حوالے سے ان کی مقدس کتاب کی آیات نے انہیں ایک قوم بنائے رکھا اگرچہ وہ صدیوں تک دنیا کے مختلف ممالک میں بکھرے رہے۔ یروشلم پانچ ہزار قبل مسیح سے آباد ہے۔ پندرہ سو قبل مسیح کے مصری تہذیب کے ریکارڈز میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک میں ایک غیر واضح تصور رکھتا تھا کہ یہ شہر یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے لیے مذہبی حوالوں میں کس قدر اہمیت کا حامل ہے ، تاہم اعتراف، کہ کچھ جاننے کے باوجود میں ان حوالوں کی کشش سے ناواقف تھا۔ تاہم سیمن سیبگ مونٹی فیور(Simon Sebag Montefiore)کی کتاب’’Jerusalem: A Biography‘‘ پڑھنے کے بعد مجھے احساس ہوا ہے کہ یروشلم کی سرزمین کیسے جذبات و احساسات کو ابھارتی ہے۔بلاشبہ یہ کتاب عظیم مقاصد، سکوپ اور علمیت کا احساس دلاتی ہے ۔ مونٹی فیور سٹالن پر لکھی گئی دوکتابوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اگرچہ ان کا خاندان انیسویں اور بیسویں صدی میں یہودیوں کے موقف اور یروشلم کے بارے میں ان کے عقائد کے ساتھ وابستہ رہا لیکن مسٹر مونٹی فیور نے بے لچک غیر جانبداری برقرا ر رکھی ہے۔ اس شہر کے حوالے سے مختلف مورخین اور مبصرین کی طر ف سے دیے جانے والے مختلف دلائل دردلائل کابے لاگ جائزہ لیتے ہوئے مصنف نے کسی طرف جھکاؤ ظاہر نہیں کیا۔
مسٹر مونٹی فیور اپنے قاری کو اس شہر اس کے قدیم دور سے لے کر جنگ و جدل سے لہورنگ تاریخ کی بل کھاتی راہوں سے موجودہ دور تک لے آتے ہیں۔ داؤد علیہ السلام کے حکمران خاندان کے بعد ایرانیوں، یونانیوں، رومنوں ، میکابیز(Maccabees)، ہیروڈینز (Herodians) اور بازنطینی حکمرانوں کے ادوار کو دیکھتے ہیں۔ اس کے بعد اسلامی دور آتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ 636 میں ابوعبیدہ ابن جراحؓ کے لشکر نے ا س شہر کا محاصرہ کررکھا ہے۔ اگلے سال یہ شہر ہتھیار ڈال دیتا ہے ۔ عیسائی بشپ کے زوال کے بعد یہ شہر اسلامی ریاست میں شامل ہوجاتاہے اور مسلمانوں نے یہاں رواداری( جتنی اُس زمانے میں ممکن ہوسکتی تھی) یقینی بنائی ۔ یہ دور پہلی صلیبی جنگ( گیارویں صدی کے اختتام) تک جاری رہا۔ 691میں اموی خلیفہ عبدالمالک نے ڈوم آف راک(قبتہ الصخرہ)، جہاں سے روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام ﷺ معراج کے لیے تشریف لے گئے، تعمیر کرایا ۔ دیگر مسلمان حکمرانوں نے بھی اس شہر میں مساجد بنانے اور ان میں توسیع دینے اور شاندار عمارات تعمیر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
اُس دور میں یروشلم مسلمانوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے مقدس شہرتھا، تاہم بعد میں عیسائیوں نے ایسٹر (Easter) کے حوالے سے مغرب سے مشرق کی طرف سفر شروع کردیا۔ پھر اُنہیں عیسیٰ علیہ السلام سے وابستہ بہت سے مقدس مقامات کا بھی علم ہونے لگا۔ اُن پر فاطمی حکمرانوں، جن کا پایۂ تحت قاہرہ تھا، نے بھاری ٹیکس عائد کیے۔ اکثراوقات عیسائی زائرین کو عرب حملہ آوروں کابھی خطرہ رہتا۔ 1000ء میں اپنے باپ عزیز کی جگہ حاکم نے بطور فاطمی خلیفہ مسند نشین ہوا۔ اس کے دور میں یروشلم میں روایتی برادشت اور رواداری دم توڑنے لگی۔ اُس نے یہودیوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو تباہ کردیا۔ اس کے بعد اُس نے اسلامی احکامات کو بھی نشانہ بنایااور رمضان پر پابندی لگادی اور سنیوں اور شیعوں پر ظلم و جبرکو معمول بنالیا۔ خوش قسمتی سے وہ نفسیاتی مریض خلیفہ صرف چھتیس برس کی عمر میں قاہرہ سے نکلا اور پہاڑیوں میں کہیں کھو گیا، تاہم اس کی تباہ کن پالیسی کے مضر اثرات کا خاتمہ نہ ہوسکا۔ ان کی مہلک جھلک پہلی صلیبی جنگ کے دوران دکھائی دی۔ جب صلیبی افواج نے 1099میں یروشلم میں مسلمان دستوں کے دفاعی حصار کو توڑا توانتہائی ہولناک قتل و غارت دیکھنے میں آئی۔ یہاں مونٹی فیور کی چشم دید گواہ کا بیان نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں...’’ حیرت انگیزمناظر سامنے تھے۔ ہمارے جوان اپنے دشمنوں کے سر اُڑا رہے تھے۔ گلیوں میں سروں اور انسانی اعضا کے ڈھیر لگ چکے تھے۔ گزرنے کے لیے آدمیوں کی لاشوں کے درمیان سے گزرنا پڑتا تھا اور گھوڑوں کی رکاب لہو کو چھورہی تھی۔ یقیناًیہ خدا کا شاندار فیصلہ تھا اور مسجد(مسجدِ اقصیٰ) منکرینِ خداکے لہو سے بھرچکی تھی۔ ‘‘
1178میں صلاح الدین ایوبی نے یروشلم کو دوبارہ فتح کرلیا۔ اس کے بعد یہ شہر بیسویں صدی تک مسلمانوں کے پاس رہا یہاں تک کہ پہلی جنگِ عظیم میں عثمانی سلطنت کی شکست کے بعد برطانیہ نے 1948میں فسطین میں اسرائیل کی تخلیق کامنصوبہ سوچا۔ اُس وقت سے لے کر اب تک اسرائیل اس شہر کو اپنا ’’ابدی درالحکومت ‘‘قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینیوں کادعویٰ ہے کہ ان کی ریاست کا دارلحکومت بھی یہی شہر ہوگا۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے لامتناہی مذکرات میں شریک کسی شخص نے کہا تھا کہ فلسطینی مواقع گنوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ 1931میں ان کے پاس موقع تھا جب برطانیہ نے تجویز پیش کی تھی کہ ستر فیصد علاقہ عربوں جبکہ بیس فیصد یہودیوں کو دے کر یروشلم کو انٹر نیشنل شہر قرار دے کر برطانیہ کی نگرانی میں دے دیا جائے۔ اُس وقت کے اسرائیلی وزیرِ اعظم Ben-Gurion نے تجویز مان لی لیکن عربوں نے انکار کردیا.... باقی تاریخ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *