برطانیہ کے مسلمان نوجوان

Jonathan Blaustein

مہتاب حسین جو پاکستانی نژاد برطانوی آرٹسٹ ہیں، مسلمانوں کو مہاجر اور دہشت گرد قرار دینے کے بیانیہ سے تھک چکے تھے۔جب وہ آرٹ سکول میں تھے اور پھر لندن کی نیشنل پورٹریٹ گیلری میں تھے تو انہیں یہ دیکھ کر غصہ آتا تھا کہ ان کی طرح کوئی دوسرا شخص ایشین اور مسلمانوں کے بارے میں کسی پراجیکٹ پر کام کیوں نہیں کرتا۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس منصوبے پر خود کام کریں گے۔ پچھلے 9 سال سے وہ انگلیند کے شہر نوٹنگھم، برمنگھم اور لندن میں بسنے والی ایشین مسلم کمیونٹیز کے عوام کی تصاویر لیتے رہے۔ ان کا فوکس برطانوی ایشین نوجوانوں اور لڑکوں کی ورکنگ کلاس پر تھا۔

اس کام کے نتیجے میں ان کی سیریز ' YOU GET ME' لندن میں ہونے والے آٹو گراف اے بی پی پر نمائش میں پیش کی گئی اور بہت جلد میک کی طرف سے ایک مونوگراف کی حیثیت سے ریلیز کی جائے گی۔ تصاویر جن میں مردانگی کے کنسیپٹ کو پیش کیا گیا ہے میں ٹئیر ڈراپ ٹیٹو، غصے سے بپھرے بیل اور پاگل کتوں کے گھورنے کی تصاویر کے ذریعے ٹینشن اور ذہنی الجھن کو اجاگر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تصاویر یہ دکھانے کےلیے بنائی گئی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو کس طرح دیکھے جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مہتاب حسین نے کہا کہ اگر آپ محرومیت کا شکار ہیں تو آپ کے پاس سسٹم سے لڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر اس غصہ کو تخلیقی لحاظ سے اجاگر نہ کیا جائے تو یہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ اگر آپ کو جارح قرار دے دیا جائے تو آپ جارحیت کا ہی سہارا لیں گے۔ اگر ہم مسلم نوجوانوں کو بار بار یہ احساس دلائیں گے کہ وہ معاشرے کےلیے خطرہ ہیں تو وہ خطرہ ہی بن جائیں گے۔ مہتاب حسین کے دادا نے جنگ عظیم دوم کے بعد برطانیہ میں سکونت اخیتار کی جب برطانیہ نے اپنے تمام کالونی کے عوام کے جنگ کے بعد بحالی کے لیے اپنے ملک میں رہنے کی اجازت دی ۔

مہتاب حسین کی پرورش ڈرئیڈ ہیتھ میں ہوئی جہاں زیادہ تر عوام گورے تھے اور مہتاب کو پاکی کہا جاتا تھا۔ اپنے سکول میں واحد ایشین طالب علم ہونے کی وجہ سے انہیں بہت مشکلات اور ذہنی کوفت سے گزرنا پڑا۔ وہ بتاتے ہیں: "میرے پاس گوروں کی کمیونٹی کا حصہ بننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھے۔ اپنی جسمانی اور بالوں کی رنگت مختلف ہونے کی وجہ سے معاشرے کا حصہ نہ بن پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔" لیکن مہاجرین کے دوسرے بچوں کے لیے وہ ایک غیر تھے۔ انہوں نے کہا: ایشین لڑکے جن کے ساتھ میں نے وقت گزارا وہ مجھے کہتے تھے کہ تم بہت زیادہ وائٹ ہو۔ میں بہت زیادہ گورا نظر آتا تھا۔ وہ مجھے فش اینڈ چپس کہہ کر پکارتے تھے اور مجھے جان کہہ کر بلاتے تھے کیونکہ وہ سمجھ نہیں پاتے تھے کہ میں اتنا زیادہ برٹش کیسے دکھائی دیتاتھا۔

Gucci jacket, hat and bag. 2010.

جب وہ سڑکوں پر عوام سے ملے وہ ان سے ہاتھ ملاتے اور السلام علیکم کہہ کر مخاطب کرتے اور کہتے: کیا آپ کو بھی دہشت گرد اور بچہ باز کہا جاتا ہے؟ آپ بھی برٹش سوسائٹی سے الگ قرار دیا جاتا ہے؟ ہم اس بیانیہ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ بہت سے نوجوانوں نے افریقی امریکی کلچر اپنا رکھا ہے۔ مہتاب حسین کے مطابق یہ ایک اقلیتی گروپ ہے جسے امریکی پاپ کلچر میں اکثر پیش کیا جاتا ہے۔ امریکن کلچر ایک عالمی تجربہ ہے۔ انگلینڈ بہت سے معاملات میں امریکہ جیسا ہے ملک ہے۔ ہم وہی کھاتے ہیں جو آ پ ہمیں دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک فوٹو میں ایک شخص سامنے والے شخص پر تصوراتی بندوق تانے کھڑا نظر آتا ہے۔ اس کی نظریں بہت خوفناک دکھائی دیتی ہیں۔ یہ سب انہوں نے جانتے بوجھتے تصاویر میں دکھایا ہے۔ وہ سکار فیس کے ٹونی مونٹانا کو چینل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مہتاب حسین کے زیادہ تر کردار یہ جانتے ہیں کہ مردانہ طاقت کو کیسے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ سٹائلش، میٹرو سیکشول طریقے کا استعمال، سڑکوں کا رخ کرتے ہوئے، یا دھمکی آمیز رویہ اختیار کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے ۔ مہتاب کی تصاویر میں عوام کے لباس سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کیسا ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو انگلش معاشرے میں کیسا پاتے ہیں۔

اگرچہ ان کی تصاویر میں کچھ عام معاملات کو بھی سامنے لانا چاہتے تھے لیکن ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو اس طرح دکھا سکیں جس طرح وہ اپنے آپ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ سخت مزاج نظر آ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ طاقت کو وہ پاور سمجھتے ہیں جوعزت کا واحد زریعہ ہے۔ مہتاب کی مسکولینٹی میں دلچسپی ان کی ذاتی ہے نہ کہ سیاسی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بچپن سے تشدد کا سامنا کرتے آئے ہیں اور ایہی چیز ان کے والدین کے بیچ طلاق کا باعث بنی۔ اپنے والد کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا: "وہ ایک بہت سخت مزاج آدمی تھے۔ 10 سال تک مجھے انہوں نے بہت زیادہ جسمانی اور ذہنی تکلیف سے گزارا۔ اس کام کا ایک عنصر یہ ہے کہ آپ میچو ازم اور سخت مزاج مینٹلٹی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس جارحیت اور شدت پسندی پر غور کریں کہ یہ چیز کہاں سے آتی ہے۔ "

Milkshake and shisha pipe. 2010.

طلاق کے بعد وہ اپنے والد کے گھر میں 10 سال تک قیام پذیر رہے۔ ان کےوالد ٹرک ڈرائیور تھے اور اکثر گھر سے باہر رہتے تھے اس لیے مہتاب حسین گھر کے سربراہ بن گئے اور چھوٹے بھائی کی دیکھ بھال میں لگ گئے۔17 سال کی عمر میں وہ اپنے والد کے گھر سے بھاگ گئے اور اپنی ماں کے ذریعے ایشین کمیونٹی کا حصہ بن گئے۔ اگرچہ وہ مانتے ہیں کہ مشکل وقت میں تھیراپی نے ان کی مدد کی لیکن جس چیز نے ان کی زندگی بچائی وہ ان کا آرٹ تھا۔ تصویر بنا کر وہ اس قابل ہوئے کہ اپنے مشکلات سے بھرے بچپن کو سمجھ سکیں اور اپنی تربیت کا فہم حاصل کر سکیں۔

میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں یہاں آ سکوں گا۔ اپنے والد کے ساتھ رہتے ہوئے ایک دو بار میں نے خود کشی کے بارے میں بھی سوچا۔ لیکن میرے آرٹ نے مجھے بچا لیا۔ یہ میرے لیے ایک تھیراپی سے کم نہیں تھا۔ میں تخلیق کا ایک بہت بڑا سفارت کار ہوں اور یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ تخلیقی صلاحیت آپ کو کیسے ڈویلپ کر سکتی ہے۔ اگر آپ اس میں قدم رکھنے کی ہمت رکھتے ہیں تو یہ خاصیت آپ کو مکمل طور پر بدل ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *