ہماری یہ حرکت قومی جرم نہیں؟

munir ahmed munir
سپریم کورٹ میں اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومتِ پنجاب و دیگر کی اپیلوں کی 14 اپریل 2017ء کی سماعت کے دوران میں مسٹر جسٹس مقبول باقر نے کہا: ''تاریخی ورثہ پاکستانی عوام کی ملکیت ہے‘‘۔ مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید کے ریمارکس: ''اورنج ٹرین چلانے کے لیے ایک تاریخی عمارت کا نقصان بھی برداشت نہیں کریں گے‘‘۔
اپیل زیر سماعت میں جن تاریخی عمارتوں کا ذکر ہے ان کا تعلق متحدہ ہندوستان کے مسلمان بادشاہوں اور انگریز حکمرانوں سے ہے۔ بہرحال، ہیں وہ بھی تاریخی عمارتیں۔ ان کی بقا ثقافتی، تہذیبی اور تمدنی حوالوں سے ناگزیر ہے۔ لیکن اس اورنج ٹرین پروجیکٹ کی زد میں آنے والے کسی ایسے مقام کے بارے میں ہماری رگ حمیّت کیوں نہیں پھڑکتی جس کا تعلق تحریک قیامِ پاکستان یعنی برصغیر کے مسلمانوں ہی کی نہیں‘ مڈل ایسٹ اور سنٹرل ایشیا کے مسلمانوں اور تیسری دنیا کی اقوام کی بقا کے ساتھ ہے، کہ ان سب کی حیاتی قیامِ پاکستان سے جڑی ہوئی تھی اور جڑی ہوئی ہے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ فی الحال میرے قلم کا رخ پنجاب یونیورسٹی گراؤنڈ کی طرف ہے جسے ریل گاڑی چلانے کے بچگانہ اور دکھاوٹی شوق نے برباد کر ڈالا ہے۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ کا شہنشاہی اور برطانوی عمارتوں کے علاوہ یونیورسٹی گراؤنڈ کے ساتھ غاصبانہ سلوک پروجیکٹ کے منصوبہ بندوں کی سوچ پر جہالت کے چھینٹے اڑا رہا ہے۔ اس یونیورسٹی گراؤنڈ کا ہماری سیاست، ثقافت، تاریخ اور جغرافیے کے ساتھ کئی پہلو سے میل جول ہے‘ جو کھیل کود کے میدان کے علاوہ علاقے کے لوگوں کے لیے ایک سیر گاہ تھی۔ ورزشی مقام تھا۔ اس کے بچے کھچے رقبے کو گزشتہ دو تین برس سے ملبے کے ڈھیروں سے اٹا اٹ کر دیا گیا ہے۔ سپورٹس کے ذکر میں تاریخ اس کی اس قدر تاباں ہے کہ غیرملکی ٹیمیں یہاں فسٹ کلاس کرکٹ کھیلتی رہیں۔ رانجی ٹرافی یہیں کھیلی گئی۔ یہیں 1944ء میں پنجاب یونیورسٹی اور بمبے یونیورسٹی کے درمیان کرکٹ میچ ہوا۔ اول الذکر کے نذر محمد اور آخرالذکر کے کپتان کے ایم منتری تھے۔ پاکستان یونیورسٹیز ٹیم کے یہاں بھارت، ایم سی سی اور نیوزی لینڈی کے ساتھ میچ ہوتے رہے۔ لاہور کے گورنمنٹ اور اسلامیہ کالج کے درمیان کرکٹ میچز کا ایک زمانے میں بڑا شہرہ تھا۔ وہ تاریخی میچ یہیں ہوتے رہے۔ اس گراؤنڈ نے بڑے نامور کھلاڑی پیدا کیے۔ یہاں افتخارالدین خاں، جہانگیر خاں، محمد نثار، فضل محمود، عبدالحفیظ کاردار، گل محمد، نذر محمد اور دلاور حسین وغیرہ جیسے نامی کھلاڑی بھی کھیلتے رہے۔
1882ء میں پنجاب یونیورسٹی قائم ہوئی تو یہ گراؤنڈ اجاڑ بیابان میں تھی۔ اب کثیر آبادیوں میں گھری ہونے کے باعث بجائے اس کے کہ اسے مزید وسیع کیا جاتا ہم اس کا وجود مٹانے پر ہی تلے بیٹھے۔ کھیل کے میدان نوجوان نسل کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے لیے ایک بھرپور ذریعہ ہوتے ہیں، جو صحت مند ماحول سے اپنائیت کے سبب بھٹکنے نہیں پاتے۔ اسی لیے جن ملکوں میں حکمران ہوش مند اور ذاتی اغراض سے دور اور نمود و نمائش سے بے نیاز صرف قومی جذبے میں ڈوبے ہوں وہاں مکانات توڑ توڑ کر انہیں کھیل کے میدانوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں سڑکوں، ٹیوب ویلوں، مسجدوں اور دیگر تعمیرات کے ذریعے پہلے سے موجود میدانوں کا رقبہ گھٹا دیا جاتا ہے۔
حاکمانہ کروفر نے اس تاریخی گرائونڈ کے ساتھ کیا نہ کیا۔ قانون کی موجودگی کے باوجود لیک روڈ کی توسیع کے لیے کوٹھیوں کے بجائے اس کی زمین ہتھیا لی گئی۔ لوئر مال کی توسیع کے لیے بھی نزلہ اسی پر گرا۔ میٹرو بس سروس کے لیے کسٹ روڈ کی طرف سے اس پر یلغار کر دی گئی۔ اب یہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ کی زد میں ہے۔ قانوناً کسی تعلیمی ادارے کے لیے وقف جگہ کسی دوسرے مقصد کے لئے استعمال نہیں ہو سکتی۔ ایک حصے میں جہاز کھڑا کر دیا گیا۔ مولوی صاحب کیسے خاموش رہتے۔ قبضہ مافیہ کے تحت پہلے سے موجود چھوٹی سی مسجد کو وسیع کرتے کرتے ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کی پانچ فٹ چوڑی پٹی بھی ہضم کر لی گئی۔ پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس سے آئے روز سڑکیں نکال کر اسے بد اسلوب کیا جا رہا ہے۔ وائس چانسلر مجاہد کامران نے اپنی نوکری پکی
کرنے کے لیے تاریخی یونیورسٹی گراؤنڈ حکومت کی نذر کر دی۔ انہیں اپنے ایک پیش رو خالد حمید شیخ کے ساتھ حکومتی بدسلوکی یاد ہو گی جو حکومت کے سامنے ڈٹ گئے، نتیجتاً انہیں وائس چانسلرشپ چھوڑنا پڑی۔ ہر کوئی خالد حمید شیخ جیسا جرأت مند، بااصول، قوی اور قومی غیرت مند نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی اوریا مقبول جان جیسا جری اور اشجع۔ وہ سیکرٹری اطلاعات پنجاب تھے۔ ایک صاحب نے کچھ اداروں کی زمین مخصوص مقاصد کے لئے ہتھیانا چاہی۔ اوریا مقبول جان نے یہ خواہش اور کوشش ناکام بنا دی۔ لیک روڈ، مال روڈ، کسٹ روڈ، مولوی صاحب اور جہاز کی یلغار کے بعد جو یونیورسٹی گراؤنڈ رہ گئی تھی، ایک انگریزی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کا ایک تہائی حصہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ کی نذر کر دیا گیا ہے۔ باقی کا ویسے ہی برباد۔
حکمران اپنی اس مارا مار اور بھاگڑ کے جواز میں لاہور کی بڑھتی ہوئی ٹریفک کی آڑ لیتے ہیں۔ انہیں شاید اس کا علم نہیں کہ بھٹو دور میں کراچی کی بے ہنگم ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے جو چار موڈ بنائے گئے تھے ان میں ایک یہ تھا کہ میری ویدر ٹاور سے سولجر بازار تک انڈرگراؤنڈ ٹرین چلے گی۔ اس کے لیے فرانس کی سوفریل (Soferail) کمپنی نے جو بلیو پرنٹ دیا تھا اس کے تحت ایک Moveable (متحرک) برج سڑک کے لیول پر ہو گا۔ اسے پہیے لگے ہوں گے۔ نیچے کام ہوتا رہے گا اوپر ٹریفک چلتی رہے گی۔ وہ حصہ مکمل ہونے کے بعد برج آگے لے جایا جائے گا۔ ٹریفک نہیں رکے گی۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ کے منصوبہ ساز اسے سامنے رکھتے تو نہ اخراجات اتنے زیادہ ہوتے، نہ تاریخی عمارتیں اور نجی جائیدادیں اور کاروبار اس قدر بے رحمی سے متاثر ہوتے۔ نہ لاہور کا ثقافتی سراپا بے سواد ہوتا۔ ان کی ناشائستہ اور بے جوڑ منصوبہ بندی نے لاہور کا ثقافتی جلوہ بے چراغ کر دیا ہے۔
یونیورسٹی گرائونڈ کی ایک اعلیٰ و ارفع شناخت یہ ہے کہ 30 اکتوبر 1947ء کو قائد اعظمؒ نے یہاں خطاب کیا۔ تخلیقِ پاکستان کے جرم میں ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی۔ بچوں کو نیزوں پر اچھالا گیا۔ عورتوں کی عصمتیں لوٹی گئیں، نوجوانوں کی گردنیں کاٹی گئیں۔ کسی کا بیٹا نہیں رہا، کوئی والدین سے محروم، کسی کی ٹانگ نہیں، کسی کا بازو کاٹ دیا گیا۔ عجب سراسیمگی کا عالم! دوسری جانب گاندھی، نہرو اور پٹیل اور اپنے ہی غدار مسلمان ''لیڈروں‘‘ کی پیش گوئیاں کہ پاکستان 6 ماہ بعد ختم ہو جائے گا۔ اسی گرائونڈ میں مایوسی، پریشانی اور بے بسی کی گھٹائوں کو قائد اعظمؒ نے یہ کہہ کر عزم و ہمت میں بدل دیا: ''مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا۔‘‘ ساتھ ہی اپنوں کو امید دلائی اور بیگانوں پر واضح کر دیا: ''دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی۔ یہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔‘‘ جلسہ گاہ اللہ اکبر، پاکستان اور قائد اعظمؒ زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔ اور لوگ زندگی کے حقائق سے نبرد آزما ہونے کے لیے مالا مال ہو کر اٹھے۔
لاہور نے آج تک اتنا بڑا اجتماع نہیں دیکھا۔ تاحدِ نگاہ انسان ہی انسان۔ لاؤڈ سپیکروں کے دھوتو ایک طرف چوک پرانی انار کلی، دوسری طرف مزنگ چونگی میں لگے۔ بھیڑ کے دبائو کے سبب گرائونڈ کی چار دیواری ٹوٹ گئی۔ 1963ء سے میں بھی وہ ٹوٹی ہوئی دیواریں دیکھتا رہا، جو بھٹو دور میں از سر نو تعمیر ہوئیں۔
لگتا ہے اونج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد اس تاریخی یونیورسٹی گراؤنڈ، اس قومی ورثے کا ذکر قصے کہانیوں میں رہ جائے گا۔ آنے والی نسلوں کو وہ جگہ کیسے دکھائی جائے گی جہاں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے جلسے سے خطاب کیا اور مایوس دلوں کو امید آشنا کر دیا۔ پاکستانی عوام کے لیے مغل بادشاہوں اور انگریز حکمرانوں کی چھوڑی ہوئی عمارتوں کے مقابلے میں یہ کہیں بڑا تاریخی اور قومی ورثہ ہے۔ دوسری قوموں نے اپنے فاؤنڈنگ فادرز مثلاً واشنگٹن، ماؤزے تنگ، کمال اتاترک وغیرہ سے متعلق مقامات اور اشیا کس طرح محفوظ کر رکھی ہیں۔ کھیل کے ایک میدان اور قائد اعظمؒ کی نسبت سے قومی اثاثہ قرار دینے کے بجائے ہمارے اجاڑو حکمران اسے مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہماری یہ حرکت قومی جرم نہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *