آہ ۔۔۔مانچسٹر

faheem-akhter-uk

سوموار کی شب برطانیہ کے وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے مانچسٹر ارینا میں ایک موسیقی شو کے آخر میں خود کش حملے سے بائیس لوگوں کی موت ہوگئی اور سو سے زیادہ لوگ بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔یوں توخود کش حملے آئے دن دنیا کے کسی نہ کسی ملک میں ہو رہا ہے ۔ لیکن برطانیہ میں 2005کے بعد یہ دوسرا ایسا واقعہ ہے جس سے خفیہ ایجنسی کے ہوش اڑ گئے ہیں۔اس دھماکے میں زیادہ تر ہائی اسکول کے بچے شامل ہیں جو اپنی پسند کے سنگر کے گانے کوسننے آئے ہوئے تھے۔ کئی والدین ان بچّوں کے ساتھ ہال میں موجود تھے تو کئی رات کے کھانے کے بعد اپنے بچّوں کو کنسرٹ سے لینے جانے کی تیاری کر رہے تھے۔
وزیر اعظم تھریسا مے نے فوراً الیکشن مہم کو ملتوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ ایک بزدلانہ اور بے حِس حملہ ہے جس نے مانچسٹر اور برطانیہ کے ان معصوم لوگوں کی جان لی ہے جو اس کے لئے تیار نہیں تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ خفیہ ایجنسی اس بات کا پتہ چلا رہی ہے کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ تاہم خفیہ ایجنسی کو یقین ہے کہ وہ حملہ آور کو جانتی ہے۔وزیر اعظم تھریسا مے نے ایمرجنسی کوبرا میٹنگ بلاکر اس معاملے پر اپنی حکومت کے وزرا اور اعلیٰ افسران سے بات چیت کی اور بعد میں مانچسٹر جانے کا اعلان کیا۔
گریٹر مانچسٹر پولیس کے چیف کانسٹبل ائین ہوپکنس نے کہا کہ مانچسٹر کا یہ اب تک کا ایک ہولناک واقعے ہے جسے شہریوں نے دیکھا ہے۔ ہماری ٹیم تیزی سے اس بات کا پتہ لگانے میں لگی ہوئی ہے کہ یہ کام محض ایک آدمی کا ہے یا اس کے پیچھے کسی گروپ کا بھی ہاتھ ہے۔
ابتدائی رپورٹ میں سولہ لوگوں کی جان جانے کی بات کہی گئی تھی لیکن جوں جوں وقت بیتا مرنے والوں کی تعداد بائیس ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سارے لوگ اب بھی بری طرح زخمی ہیں ۔ خودکش حملے کے فوراً بعد ساٹھ ایمبولینس جائے واردات پر پہنچیں اور زخمی لوگوں کو شہر کے آس پاس کے آٹھ ہسپتالوں میں داخل کیا گیاہے۔

Image result for manchester attackچشم دید گواہوں میں سے ایک اینڈی ہولی نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی اور بیوی کو گھر واپس لانے کے لئے جب ہال پہنچے تو اسی وقت ایک زوردار دھماکہ ہوا اور وہ لگ بھگ تیس فٹ دور جا کر گرے۔ جب وہ کسی طرح اٹھے تو انہوں نے اپنے آس پاس زمین پر پڑے ہوئے کئی زخمی جسموں کو دیکھا۔
دھماکے کے بعد ایرینا میں بھگدڑ سی مچ گئی اور لوگ افراتفری میں سیڑھیوں سے بھاگنے لگے۔ زیادہ تر لوگ حواس باختہ تھے کہ آخر ہوا کیا ہے لیکن لوگوں کو اس بات کا علم ہو گیا تھا کہ یہ ایک بم دھماکہ ہے۔ بہت سارے والدین جو اپنے بچّوں کو لینے کے لئے آئے تھے ان کا کہنا ہے کہ وہ ایرینا کے باہر کھڑے اپنے بچّوں کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک ایک زور دار دھماکے سے ان کے ہوش اُڑ گئے۔ پہلے تو انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ دھماکہ ہوا کس طرف ہے لیکن جب ہال سے لڑکے اور لڑکیا ں باہر آرہے تھے تو ان کو یقین ہوگیا کہ دھماکہ اندر ہوا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ کس نے یہ خود کش حملہ کیا تھا۔ اس ظالم انسان کا نام سلمان رمضان عا بیدی تھی جس کی عمر بائیس سال تھی۔ عابیدی کی پیدائش 1994میں مانچسٹر میں ہوئی تھی۔ عابیدی کے والدین کو کرنل قذافی کے دورِحکومت میں ان کی مخالفت کی وجہ سے ملک چھوڑنا پڑا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے برطانیہ میں سیای پناہ لی تھی۔ عابیدی کے والد مقامی مسجد میں موذّن کی حیثیت سے روزانہ شرکت کرتے تھے۔ عابیدی کے والدین چند سال قبل واپس لیبیا چلے گئے ۔
عابیدی نے 2009میں برنیج اکیڈمی سے تعلیم حاصل کی تھی۔اس کے بعد مانچسٹر کالج سے بھی تعلیم حاصل کی اور بعد میں سلفرڈ یونیورسٹی میں 2014میں داخل ہوا تھا۔ لیکن اس نے یونیورسٹی کی تعلیم مکمل نہ کر کے ایک بیکری کی دکان پر کام کرنے لگا۔عابیدی کے چال وچلن پر لوگوں کو پہلے ہی سے شک تھا۔ کئی بار پڑوسیوں نے بھی پولیس کو عابیدی کی حرکتوں اور انتہا پسندی پر شک کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی تھی۔ کہا جارہا ہے کہ عابیدی مزاج کا کافی تیکھا تھا اور انتہا پسندی اور خود کش حملوں کی ستائش کرتا تھا۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عابیدی کی حرکتوں سے اس کے والدین کافی پریشان تھے اور آئے دن عابیدی سے ان کی نوک جھونک بھی ہوتی تھی۔
اس واقعے کے بعد برطانیہ میں سوگ کا ماحول بنا ہوا ہے۔ سرکاری عمارتوں پر یونین جیک کو سرنگ کر دیا گیا ہے اور تمام پارٹیوں نے الیکشن مہم کو چند دنوں کے لئے ملتوی کر دیا ہے۔سیکورٹی سروس اس بات میں جٹی ہوئی ہے کہ سلمان رمضان عا بیدی آخر کس طرح خود کش حملہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ سیکورٹی سروس اس بات سے بھی پریشان ہے کہ کیا یہ کام ایک فرد کا ہے یا اس کے پیچھے کسی گروپ کا ہاتھ ہے ۔
تاہم مختلف خبر ایجنسیاں اور سیاستدان سیکورٹی سروس کی لاپرواہی اور سست رفتاری پر انگلی بھی اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ کی خفیہ ایجنسی اس بات کا پتہ پہلے چلا لیتی تو شیاید یہ حادثہ نہیں ہو پاتا۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے سیاستدان کا کہنا ہے کہ برطانوی پولیس میں کٹوتی سے ایسے ملزمان کو آزادی مل جارہی ہے ۔ جس سے وہ فائدہ اٹھا کر ناحق لوگوں کی جان لے رہے ہیں۔
مانچسٹر میں خود کش حملے سے جہاں برطانوی لوگوں کو شدید صدمی پہنچا ہے تو وہیں سیکورٹی سروس کے ہوش بھی اُڑ گئے ہیں۔ کیونکہ برطانیہ خفیہ ایجنسی 2005کے خود کش حملے کے بعد اس بات کا دعویٰ کر رہی تھی کہ وہ برطانیہ کے انتہا پسند کے حامی لوگوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے برطانوی لوگوں کو اور بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں کو اس بات کا خوف محسوس نہیں ہورہا تھا کہ برطانیہ میں خود کش حملہ ہوسکتا ہے۔ لیکن مانچسٹر کے خود کش حملے نے ایک بار پھر لوگوں کے ذہن میں ایک سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا برطانیہ محفوظ ہے۔
برطانیہ کے حکمرانوں کی مصیبت یہ ہے کہ وہ اپنی روایت اور تاریخ کی وجہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر کسی بھی ملک کے معاملات میں دخل اندازی کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ خاص کر مسلم آبادی والے ممالک میں برطانوی سیاستدانوں کو دخل اندازی کرنا لازمی دیکھا جاتا ہے۔
دیکھا جائے تو برطانیہ پہلے لیبیا کے کرنل قذافی کو ذلیل کر تا ہے اور پھر اسے مار ڈالتا ہے ۔ اس کے بعد ان انتہا پسندوں کی حمایت کرنا جو صرف سر پھرے ہی نہیں بلکہ خطرناک بھی ہیں ۔ تو ظاہر سی بات ہے اگر برطانیہ ایک مسئلے کو حل کر رہی ہے تو دوسری طرف ان انتہا پسندوں کی بھی پست پناہی کر رہی ہے جو اپنے مفاد کی خاطر برطانیہ سے مدد تو لیتے ہیں لیکن پھر اس کے بدلے میں برطانیہ کے لوگوں کے لئے وہ خطرہ بھی بن جاتے ہیں ہے۔
اس کی مثال سلمان رمضان عا بدی جیسا شیطان ہے جس نے برطانیہ میں پیدا ہو کر بھی بے گناہ برطانوی لوگوں کی جان لے لی۔ انتہا پسندی اور نفرت کے درخت کی جڑیں کافی مظبوط ہو چکی ہیں۔انہیں اکھاڑنا اب بے حد مشکل ہو چکا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *