پیٹرول کے بعد اب بجلی کے بحران میں شدت، پیداوار طلب سے آدھی رہ گئی

lineملک بھر میں بجلی کی پیداوار طلب سے آدھی رہ گئی ہے۔لاہورسمیت پنجاب بھر میں بجلی کا بحران مزید بڑھ گیا ۔ لوڈ شیڈنگ میں کئی گھنٹے اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ دوسری طرف ملک کے 945 وی وی آئی پی فیڈرز لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں جس کیوجہ سے لوڈ شیڈنگ کا سارا بوجھ عام صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔پنجاب اور بلوچستان میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گيا ۔ لاہور اور دیگر شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 گھنٹے تک پہنچ گیا ۔بلوچستان میں شارٹ فال 1350 میگاواٹ ، کوئٹہ میں 8 گھنٹے ، دیگر شہروں میں 16 گھنٹےکی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔گڈو ، حبکو اور دیگر کئی ایک پاور پلانٹس کو فرنس آئل کی فراہمی بند ہیں۔ بجلی کا پیداواری عمل معطل ہو چکا۔پشاور میں مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ شہری علاقوں میں 6 گھنٹے سے 8 گھنٹے تک جب کہ دیہی علاقوں میں 14 سے 16 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ جارہی ہے۔پیپکو حکام کا کہنا ہےکہ بجلی کے بحران کی وجہ گیس ، فرنس آئل اور فنڈز کی کمی ہے ۔پنجاب کے صنعتی علاقوں میں بجلی کی بدترین اور غیر اعلانی لوڈشیڈنگ عروج پر ہے۔لاہورمیں ٹاون شپ انڈسٹریل زون کی فیکٹریاں بند ہونے پر صنعت کار اور مزدور سڑکوں پر آگئے اور لیسکو کا گھیراؤ کرنے کی دھمکی دیدی۔لاہور کے سب سے بڑے صنعتی علاقے ٹاون شپ میں بجلی کی غیر اعلانی لوڈشیڈنگ سے سیکڑوں صنعتی یونٹ بند پڑے ہیں ۔بجلی کی بد ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف صنعت کار اور مزدوروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ریلی بھی نکالی ۔ صدر ٹاون شپ انڈسٹریل اسٹیٹ ظہیر بھٹہ کا کہنا تھا کہ لیسکو چیف معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، 18 گھنٹے بجلی نہیں ملتی، فیکٹریاں کیسے چلائیں۔صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ باربارٹرپننگ سے خام مال خراب اور کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔ہزاروں مزدور فارغ ہو رہے ہیں ۔سردیوں میں یہ حال ہے تو گرمیوں میں کیا بنے گا ۔لسیکو حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال کوٹے سے کہیں کم بجلی مل رہی ہے ، اس لیے شیڈول پر عمل ممکن نہیں، تاہم اگلے ہفتے معاملات بہتر ہونے کا امکان ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *