پاکستان اُن کا دوسرا گھر تھا

رؤف طاہرrauf

’’پاکستان ایک اچھے دوست سے محروم ہوگیا‘‘۔لیکن وہ پاکستان کو دوست سے زیادہ بھائی سمجھتے تھے۔ یہی بات اُنہوں نے نئی دہلی میں بھی کسی لاگ لپیٹ کے بغیر کہی اور امریکہ سمیت سارے مغرب کو بھی اِن کا یہی دوٹوک جواب تھا۔ کوئی نصف صدی کے بعد یہ کسی سعودی فرمانروا کا ہندوستان کا پہلا دورہ تھا۔ روانگی سے قبل بھی اُنہوں نے واضح کر دیا تھا کہ ہندوستان کے دورے کا مطلب یہ نہیں کہ سعودی عرب کے لیے پاکستان کی اہمیت کم ہوگئی اور دہلی پہنچ کر بھی اُنہوں نے صاف صاف کہا، پاکستان ہمارا بھائی ہے، دوست بدل سکتے ہیں، بھائی نہیں۔ مئی 1998 میں جب ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان جوابی اقدام کے چیلنج سے دوچار تھا جس سے روکنے کیلئے صدر کلنٹن وزیراعظم نوازشریف کو فون پر فون کر رہے تھے،پیرس اور لندن سے بھی فون آرہے تھے۔ وزیراعظم پاکستان بھارتی دھماکوں کے فوراً بعد جوابی دھماکوں کا فیصلہ کرچکے تھے۔ وزیراعظم کے استفسار پر ڈاکٹر قدیر اور ثمرمبارک مند سمیت پاکستان کے نیوکلیئر سائنسدانوں نے دھماکے کی تیاری کیلئے کوئی ڈیڑھ ہفتے کا وقت مانگا تھا۔ وزیراعظم اس وقت کو اندرونِ ملک مشاورت اور بیرونِ ملک دوستوں کو اعتماد میں لینے کیلئے استعمال کر رہے تھے۔ نوازشریف کو دوسری بار بھی کمزور و ناتواں معیشت ورثے میں ملی تھی۔ گزشتہ چودہ، پندرہ مہینوں میں ابھی یہ ڈھنگ سے سنبھلنے بھی نہ پائی تھی کہ ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں عالمی اقتصادی پابندیوں کا سنگین چیلنج سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔ شاہ فہد کی علالت کے باعث امورِ مملکت ولی عہدعبداللہ چلا رہے تھے۔ سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری تھی۔ اب آزمائش کا ایک اور مرحلہ درپیش تھا جس میں دُنیا کی سولر سوپر پاور سمیت پورے مغرب کی ناراضی کا معاملہ بھی تھا لیکن سعودی عرب اس آزمائش میں بھی پورا اُترا۔ اس نے پاکستان کو ’’ڈیفرڈ پے منٹ‘‘ پر تیل مہیا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ (یہ ڈیفر پے منٹ فائلوں کی حد تک ہوتی ہے، عملاً یہ مفت کا معاملہ ہوتا ہے)۔ دھماکوں کے چند ہفتوں بعد ولی عہد عبداللہ 8ملکوں کے دورے پر روانہ ہوئے۔ آغاز واشنگٹن سے ہوا، عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود پاکستان کو تیل کی فراہمی کے متعلق امریکی اخبار نویسوں کے سوال پر سعودی رہنما کا جواب تھا پاکستان کے لیے زندگی اور موت کے اس مرحلے پر آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہم اسے تنہا چھوڑ دیں گے؟
اس عالمی دورے کا اختتام پاکستان پر ہوا۔ اس ترتیب کی اپنی اہمیت تھی جس سے دُنیا کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ پاکستان ان کے دوسرے گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر غلام اکبر نیازی (حفیظ اللہ نیازی کے قریب عزیز) کو برسوں سعودی عرب میں طبی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ شاہ فیصل نے اس دور میں سعودی عرب کی واحد ڈیفنس فورس، حرس الوطنی (نیشنل گارڈز) کی سربراہی نوجوان عبداللہ کو سونپی۔ اُنہوں نے اِسے جدید خطوط پر منظم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان میں میڈیکل سروسز کی فراہمی بھی شامل تھی، جس کا آغاز جن تین ڈاکٹروں سے ہوا، ان میں ایک مصری (اخوانی) اور ڈاکٹر غلام اکبر نیازی سمیت دوپاکستانی تھے۔ نوجوان نیازی، اپنی غیر معمولی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت و دیانت کے باعث، حرس الوطنی کے سربراہ کا مرکز نگاہ بن گیا۔ اس میں پاکستان سے محبت کا بھی دخل تھا۔ ڈاکٹر نیازی بعد میں جناب عبداللہ کے ذاتی معالج اور فیملی فزیشن بھی رہے۔ ہم 1998 میں جدہ چلے گئے، تو وہاں ڈاکٹر صاحب سے ملاقاتوںمیں عبداللہ بن عبدالعزیز کی پاکستان سے محبت کی حکایاتِ لذیذ بھی ہوتیں۔ 1965 میں شمالی یمن کے ساتھ سعودی عرب کی کشیدگی انتہاء پر تھی۔ تب مصر کے جمال عبدالناصر ، عرب دُنیا میں سوشلسٹ انقلابات کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی فرمارہے تھے۔ شمالی یمن میں جنرل سلال نے امام بدر کا تختہ اُلٹ دیا تھا۔ دونوں کے وفادار دستے باہم برسرِ پیکار تھے۔ سعودی عرب امام بدر کو سپورٹ کر رہا تھا۔حرس الوطنی کے سربراہ کی حیثیت سے جناب عبداللہ یمن کی سرحد پر تھے۔ ان ہی دنوں پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔ مصر کا ’’صوت العرب‘‘ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے میں پیش پیش تھا۔ عبداللہ نے ڈاکٹر نیازی کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ٹرانسسٹر پر پاکستانی خبریں سنیں اور اُنہیں لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرتے رہیں۔ اُنہوں نے اپنی طرف سے بھاری ذاتی عطیہ کے علاوہ ، حرس الوطنی کی طرف سے ایک دن کی تنخواہ بھی پاکستان کے لیے ہدیہ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر نیازی کو چھٹی پر پاکستان بھیج دیا کہ وہ جنگ کے دوران طبی خدمات انجام دے سکیں۔ ان دنوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی عجیب کیفیت ہوجاتی۔ سعودی عوام نے بھی اسے خود اپنے ملک پر حملہ تصور کیا تھا۔ حرمین کے علاوہ تمام مساجد میں بھی پاکستان کے لیے خصوصی دُعائیں ہوتیں۔ عبداللہ، شاہ فہد کے ولی عہد اوّل تھے۔ تب وہ دوپہر کا کھانا اپنے دفتر میں عموماً تنہا کھاتے۔ (وہ ضیاء الحق کے دور میں پہلی بار پاکستان آئے، یہاں انہیں بریانی اتنی پسند آئی کہ پاکستانی باورچی کو بھی ساتھ لے گئے)۔کبھی ڈاکٹر نیازی بھی ان کے ساتھ شریکِ طعام ہوجاتے۔ اس دوران زیادہ تر پاکستان کے متعلق گفتگو رہتی۔ انہوں نے ڈاکٹر نیازی اور ان کے خاندان کو سعودی شہریت بھی ’’ہدیہ‘‘ کردی ( جس کے لیے ڈاکٹر صاحب نے کوئی درخواست نہیں کی تھی)۔انہوں نے 2000میںپاکستان واپسی کے لیے درخواست کی جسے ولی عہد نے بادل نخواستہ قبول کر لیا، اس ’’حکم‘‘ کے ساتھ وہ سعودی شہریت برقرار رکھیں گے۔ ڈاکٹر نیازی لوٹ آئے لیکن سعودی رہنما کا حکم تھا کہ ان کے بعد بھی ان کا ذاتی معالجہ اور فیملی فزیشن پاکستانی ہی ہوگا۔ یہ پاکستان سے ان کی محبت اور پاکستانیوں پر حد درجہ اعتماد کا اظہار تھا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں نواب زادہ صاحب کشمیر کمیٹی کے سربراہ تھے۔ او آئی سی کی کاسابلانکا سمٹ میں، وہ بھی محترمہ کے ساتھ شریک تھے۔ کانفرنس میں کشمیر پر کنٹیکٹ گروپ بنانے کا فیصلہ ہوا۔ نواب زادہ صاحب بتایا کرتے کہ نہایت خوشگوار حیرت کا باعث تھی کہ کنٹیکٹ گروپ کے پہلے اجلاس میں خود ولی عہد عبداللہ کی شرکت وزیراعظم بے نظیر صاحبہ سمیت پاکستانی وفد کے لیے نہایت خوشگوار حیرت کا باعث تھی ۔
شریف فیملی کے ساتھ شاہی خاندان اور خصوصاً شاہ عبداللہ کے ذاتی تعلقات پاک، سعودی تعلقات کی تاریخ کا ایک الگ باب ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد وزیراعظم نوازشریف سعودی عرب گئے، ایوانِ شاہی میں ان کے لیے بے مثال استقبالیہ کا اہتمام تھا۔ تب ولی عہد عبداللہ نے ان کا ہاتھ فضاء میں بلند کرتے ہوئے انہیں اپنا ’’فل برادر‘‘ قرار دیا (شاہ فہد اور دیگر بھائی ان کے ’’ہاف برادر‘‘ تھے)۔
12اکتوبر کی فوجی کارروائی پر شاہ عبداللہ دیر تک پرویز مشرف سے ناراض رہے۔ اُنہوں نے نوازشریف کو پھانسی سے بچانے کیلئے بھی اہم کردار ادا کیا۔ خود پرویز مشرف کے بقول یہ شاہ عبداللہ تھے جنہوں نے نوازشریف (اور ان کے خاندان ) کو سعودی عرب بھجوانے پر اصرار کیا جس پر پاکستان کا ڈکٹیٹر انکار نہ کرسکا۔ 10ستمبر 2007 کو نوازشریف کی اسلام آباد آمد اور دوبارہ جلاوطنی ایک الگ کہانی ہے۔ جس کیلئے شاہ اس شرط پر آمادہ ہوا کہ بے نظیر بھی وطن واپس نہیں آئیں گی۔ نوازشریف کی جدہ آمد کا تیسرا دِن تھا، جب وزیر خارجہ سعودالفیصل’’شریف پیلس‘‘ تشریف لائے(اب میاں صاحب نے سرور پیلس میں سرکاری مہمان بننے کی بجائے، حسین نواز کے ذاتی گھر میں قیام کا فیصلہ کیا تھا)۔ تین چار دن بعد شاہ جدہ تشریف لائے، تو میاں صاحب کو ون ٹو ون ملاقات کے لیے یاد فرمایا۔ نومبر میں میاں صاحب کی پاکستان واپسی رکوانے کے لیے مشرف خود ریاض پہنچا، لیکن شاہ نے انکار کردیا۔ مشرف اس پر اتنا کبیدۂ خاطر تھا کہ حرمین میں حاضری کی بجائے ریاض ہی سے لوٹ آیا۔ شاہ نے ریاض میں نوازشریف کے لیے الوداعی عشائیے کا اہتمام کیاجس میں سعودی روایات کے مطابق تحفے تحائف کے علاوہ دعاؤں کا ہدیہ بھی پیش کیا۔ سعودی عرب سے بلٹ پروف گاڑی میاں صاحب کی وطن واپسی سے قبل لاہور پہنچ چکی تھی۔ وہ تیسری بار وزیراعظم بنے، تو شاہ نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی سلامی پیش کی ، جو پاکستان کی جاں بلب معیشت کے لیے جاں بخش گلوکوز کی حیثیت رکھتی تھی۔ شاہ عبداللہ کی وفات سے پاکستان ،محبت کرنے والے بھائی اور شریف فیملی برے بھلے وقت میں ساتھ نبھانے والے حقیقی دوست سے محروم ہوگئی لیکن محبتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *