اس لڑکی کی ہمت دیکھئے! 

عمر باچا

is

24 سالہ گل افشاں طارق نے مردانہ معاشرے کی تمام اقدار کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے موٹر بائیک پر خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی سیر کا ریکارڈ قائم کر لیا۔ یہ سفر انہوں نے 6 مئی سے 23 مئی 2017 کے دوران مکمل کیا۔ سرگودھا کی سافٹ وئیر انجینئر نے یہ سفر اکیلے مکمل کیا اور دوران سفر شانگلہ، سوات، مانسہرہ، گلگت بلتستان، چترال، مالاکنڈ اور اپر اور لوئر دیر کے علاقوں کی سیر کی۔ انہوں نے اپنی روداد بتاتے ہوئے کہا؛ میں نے ان کچی سڑکوں پر 3000 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا ۔ اس سفر کے دوران مجھے کے پی کے کے بارے میں بہت معلومات ملیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے اور گلگت بلتستان کی سیر ان کی زندگی کا ایک خواب تھا جو اب پورا ہو چکا ہے اور اب میں اس ریکارڈ کے ذریعے دنیا پر ثابت کرنا چاہتی ہوں کہ ہمارا ملک کتنا پر امن ہے۔ مجھے راستے میں مشکلات بھی پیش آئیں اور کچھ حادثات بھی پیش آئے جس کی وجہ یہاں کی سڑکوں کی خراب حالت تھی لیکن میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ مجھے زیادہ بڑا نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔

کے پی کے عوام کی مہمان نوازی کا ذکر کرتے ہوئے گل افشاں طارق نے کہا کہ ان لوگوں کے دل بہت کھلے ہیں اور یہ لوگ ہر وقت مدد کےلیے تیار نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے 4000 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا اور میری اگلی منزل کوہاٹ ہے ۔ وہاں سے میں اسلام آباد جا کر اپنے سفر کا اختتام کروں گی۔ جب پوچھا گیا کہ انہیں کس نے اس بڑے سفر کا مشورہ دیا توطارق کا جواب تھا کہ ان کے والد دنیا بھر کی سیر کرتے ہیں اور اس وجہ سے ان میں بھی سفر کا اشتیاق پیدا ہوا ہے۔

اپنے ٹرپ کی فنڈنگ کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے افشاں طارق نے بتایا کہ انہوں نے حکومت اور کچھ دوسری تنظیموں سے رابطہ کیا لیکن کہیں سے مثبت جواب نہیں ملا۔ پھر ایک پرائیویٹ تنظیم نے آگے بڑھ کر ان کی مدد کی ٹھان لی جس کی وجہ سے یہ ٹرپ ممکن ہو سکا۔ نیشنل بک آف ریکارڈ میں اپنا نام درج کروا کر افشاں طارق بہت خوش دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ پہلی ایسی خاتون ہیں جنہوں نے موٹر بائیک پر گلگت بلتستان اور کے پی کے کی سیر کی ہے۔ اس سیر کے اختتام کی رسمی تقریب 25 مئی کو ہوئی۔

courtesy: https://www.dawn.com/news/1334922/breaking-barriers-the-girl-who-rode-a-motorbike-through-khyber-pakhtunkhawa

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *