تلمیذ حقانی اور نپولین مقبول جہانگیر۔۔۔

مستنصر حسین تارڑMHT

اپنے محسنوں کو یاد کرتے رہنا چاہیے۔۔۔ میں بھی کرتا رہتا ہوں اگرچہ یہ سکہ رائج الوقت نہیں ہے لیکن ہم جو کاشتکار لوگ ہوتے ہیں، جن کے آباء و اجداد جانوروں کی مانند مشقت کر کے زمین سے اپنا رزق حلال کشید کرتے تھے ہم شہروں میں آبسیں ، بہت پڑھ لکھ جائیں تب بھی ہم قدرے گنوار اور اجڈ ہی رہتے ہیں۔ جس نے کبھی مشکل وقت میں ہمارا ہاتھ تھاما ہو، کبھی پیاس میں ٹھنڈے پانی کا ایک پیالہ پلایا ہو۔۔۔ یا پھر کبھی ڈھارس بندھائی ہو، دشمنوں کے درمیان کسی شام میں ہمارا ساتھ دیا ہو، ہم اُسے کبھی نہیں بھولتے، اُسے یاد رکھتے ہیں، اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔
بے شک میں اپنی ادبی زندگی کا آغاز مجید نظامی کی فرمائش پر ’’لنڈن سے ماسکو تک‘‘ کا سفرنامہ 1958ء میں تحریر کر کے کب کا کر چکا تھا اور یہ تو انگلستان میں قیام کے بجھتے جاتے قصے ہیں لیکن جب میں 1969ء میں پاکستان سے پیدل سیاحت پر نکلا اور تقریباً سترہ ملکوں کی خاک چھان کر کئی ماہ کے بعد وطن لوٹا تو مجھ میں اس خواہش نے جنم لیا کہ میں اپنے سیاحتی تجربوں میں لوگوں کو شریک کروں اور میں نے اردو بازار سے پونے دو روپے فی کلو کے حساب سے دو لکیر دار رجسٹر خریدے اور اس طویل دربدری کے نوٹس، تصویریں، اور ڈائریاں سامنے رکھ کر کاغذ پر پھر سے اپنے پورے سفر کی داستان حرفوں کی صورت تصویر اور تشکیل کی۔۔۔ بے شک میں نے سکول کے زمانوں میں ہی وہ سب کچھ پڑھ ڈالا تھا جو کہ اردو زبان میں میسر تھا اور پھر گورنمنٹ کالج کے زمانوں میں جب بین الاقوامی ادب کی چاٹ پڑی تو میں کتابوں کا کیڑا ہو گیا۔۔۔ اس کے باوجود مجھے کچھ خبر نہ تھی کہ یہ ادیب لوگ کہاں پائے جاتے ہیں، روزانہ علمی اور ادبی بحثوں کے دوران کونسے چائے خانے میں چائے کے کتنے کپ پیتے ہیں، سگرٹ پیتے ہیں اور جانے اور کیا کیا پیتے ہیں۔ میں نے تو گوالمنڈی چوک کے نزدیک چیمبر لین روڈ پر واقع اپنی بیجوں کی دکان ’’کسان اینڈ کمپنی‘‘ میں بیٹھ کر جب کہ بازار میں ٹھیلے والے پھل فروٹ، گنڈیریاں، لڈو پیٹھیاں والے، داس قلچے اور ریوڑھیاں وغیرہ فروخت کرتے بلند آواز میں مسلسل صدائیں دیتے تھے اور اکثر دنگا فساد بھی ہوتا تھا، گالی گلوچ تک بھی نوبت آتی رہتی تھی، اپنی سیاحت کی داستان لکھ ڈالی۔۔۔ کہتے ہیں کہ ادب تخلیق کرنے کے لیے ایک نہایت پرسکون اور رومانوی ماحول درکار ہوتا ہے۔۔۔ اگر آس پاس پرندے چہک رہے ہوں، بلبلیں گیت گاتی ہوں،مست ہوائیں چلی آتی ہوں اور بادلوں میں سے رم جھم پڑتی پھوار ہو تو سونے پر سہاگا ہو جاتا ہے۔۔۔ مجھے تو یہ ماحول میسر نہ آیا، پر میرا یقین تھا کہ اگر آپ کے اندر تخلیق کی آگ بھڑکتی ہو تو اس کے اظہار کے لئے کسی ماحول کی حاجت نہیں ہوتی، آپ گوالمنڈی کے شور و غل اور ابلتے گٹروں کی بدبو میں بھی تخلیق کر سکتے ہیں اگر آپ کے اندر صدف ایک چنگاری بھی مستور ہو۔۔۔ اب میں نے سیاحت کی داستان تو لکھ ڈالی لیکن اسے شائع کون کرے گا۔۔۔ اور آخر کیوں کرے گا، ایک گمنام شخص کے سفرنامے کو چھاپنے کا خدشہ کون مول لے گا۔۔۔ چنانچہ میں نے اُن زمانوں کے جتنے بھی ادبی، فلمی، مزاحیہ، ہفتہ وار، مہینہ وار جرائد تھے، جتنے ڈائجسٹ تھے اُن سب کو نہایت عاجزانہ، نہایت فقیرانہ خط رقم کیے کہ۔۔۔ حضور۔۔۔ میں نے ایک سیاحت نامہ لکھا ہے، اپنے تئیں نہایت معرکے کا کارنامہ لکھا ہے، پلیز اسے اپنے مؤقر جریدے میں شائع کر دیجیے۔۔۔ مجال ہے میری درخواست کا کوئی ایک بھی جواب آیا ہو۔۔۔ چنانچہ میں اس یقین کا اسیر ہو گیا کہ میری سیاحتوں کی داستانوں سے بھرے ہوئے وہ دو اردو بازار کے لکیر دار رجسٹر اب تو صرف ردی کے بھاؤ ہی فروخت ہو سکتے ہیں، تقریباً ساڑھے چھ آنے کی ردی۔۔۔ ویسے میں بہت زیادہ مایوس نہ ہوا کہ مجھے یوں بھی توقع کم کم تھی بلکہ ایک تسلی تھی کہ چلئے میں نے اپنے طویل سفر کو ایک مرتبہ پھر دوبارہ تو محسوس کر لیا، اُس کا اظہار تو کر لیا۔۔۔ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں سفرنامے کے سوا۔۔۔ ایک تپتی ہوئی دوپہر تھی، گوالمنڈی میں چیلیں تو نہیں تھیں، اگر ہوتیں تو صرف زندہ نہیں اپنے تمام انڈے چھوڑ جاتیں جب دکان کے باہر ایک دراز قامت، خوش لباس شخص نے فٹ پاتھ پر اپنا سکوٹر فروکش کیا، کان کھجاتا میرے پاس آیا اور کاؤنٹر کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر رومال سے پسینہ پونچھا اور کہنے لگا ’’میرا نام تلمیذ حقانی ہے، واپڈا کے تعلقات عامہ کے شعبے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہوں۔ دراصل پنجاب پبلک لائبریری کے نذیر صاحب نے مجھے بتایا تھا کہ آپ پچھلے ایک برس سے لائبریری کے تہ خانے میں ہر دوپہر آ بیٹھتے ہیں اور اُندلس کے بارے میں پرانی کتابوں کی ورق گردانی کرتے کچھ تحقیق سی کرتے رہتے ہیں۔۔۔ چونکہ مجھے بھی اُندلس سے عشق ہے اس لیے آپ سے ملنے چلا آیا۔ تو کیا آپ واقعی اُندلس گئے تھے، چار پانچ ماہ وہاں گھومتے رہے ہیں، قرطبہ، غرناطہ اور اشبیلیہ دیکھ کر آئے ہیں؟ کیا آپ مجھے اُندلس کے قصے سنا سکتے ہیں۔۔۔‘‘
مجھے کیا خبر تھی کہ یہ شخص تلمیذ حقانی میری خشکی پر متروک شدہ ادبی بادبانی کشتی کے بادبانوں میں اپنی محبت اور خلوص کی ہوائیں پھونک کر اُسے شہرت اور ناموری کے سمندروں میں رواں کر دے گا۔۔۔ غیب سے آنے والا وہ فرشتہ ہے جو مجھے گمنامی کے فرش سے اٹھا کر ناموری کے عرش پر لے جائے گا۔۔۔
ایک روز اس نے کھانس کی پوچھا ’’مستنصر صاحب ۔۔۔آپ اپنے سفرنامے کو کیوں نہیں چھپواتے؟‘‘
’’کوئی چھاپتا ہی نہیں‘‘
وہ مجھے ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ کے نوائے وقت بلڈنگ میں واقع دفتر میں لے گیا جہاں ایک پستہ قد نپولین ایڈیٹر کی میز پر بیٹھا تھا اور یہ ایک اور چھوٹا سا فرشتہ تھا جو شکار کی کہانیاں لکھتا تھا اور سموسے بے دریغ کھاتا تھا۔
(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *