'صومِ اولین'

محمود ظفر اقبال ہاشمی

mehmood zafar iqbal hashmi

غالباً آج سے چوالیس برس پہلےجب مٓیں نے پہلا روزہ رکھا تھا تو میری پہلی سحری کے موقع پر مجھے بڑے اہتمام سے جگایا گیا تھا، گرمیوں کے اس لمبے دن کے دوران میرے سو ناز نخرے بھی اُٹھائے گئے تھے اور میرے ذاتی وزن کے مساوی پھولوں کے ہار میرے گلے میں پہنا کر ان گنت مہمانوں کی موجودگی میں میری رسمِ روزہ کشائی بڑی دھوم دھام سے بالکل اسی طرح کی گئی تھی جس طرح میری شادی کے روز میری سہرا بندی کی گئی تھی!
مگر۔۔۔ دراصل وہ میرا پہلا روزہ قطعاً نہیں تھا!
مجھ سے تین بار چوری چھپے پانی پینے کا گناہ سر زر ہوا تھا مگر قسم لے لیجئیے اصل گناہ گار مٓیں نہیں بلکہ گھر کے باہر ہمارے باغیچے میں ایک طرف لگا وہ پرانا ہینڈ پمپ تھا جس نے آسمان سے آگ کا چھڑکاؤ کرتی اس دوپہر کو تینوں بار ایک چھ سالہ معصوم بچے کو شیطان کی طرح ورغلایا تھا۔ اس گناہ کی میرے پاس ایک مضبوط دلیل یہ بھی ہے کہ تب مجھے اس حقیقت کا بالکل علم نہیں تھا کہ اللہ سب کچھ دیکھتا ہے اور ہر جگہ موجود ہوتا ہے اور تب مٓیں اتنا کم عمر تھا کہ افطاری کے وقت ضمیر بھی صحیح طریقے سے ملامت نہیں کر پایا۔ سو روزہ کھلتے ہی روح افزا کے ان گنت گلاس چڑھاتے، پکوڑوں کو سبق سکھاتے اور چاٹ کے ساتھ مل کر دھمال ڈالتے ہوئے مجھے ایک بار بھی یاد نہ آیا کہ اس تنہا دوپہر کو سب سے نظریں بچا کر مٓیں نے کتنی مہارت کے ساتھ کئی لِٹر پانی اُدھر سے اِدھر کر دیا تھا۔ شکر ہے پانی کی کوئی خوشبو نہیں ہوتی ورنہ میری تیز و طرار بہن میرا منہ سونگھ کر میرے جرم کا بھانڈا پونے ایک بجے تک بِیچ چوراہے پھوڑ چکی ہوتی!
یہاں تک میری اس رُوداد کو میری اولین روزہ کشائی نہیں بلکہ میری داستانِ اوّلین روزہ آزمائی پڑھا جائے!
اللہ شاہد ہے کہ دراصل میرا باقاعدہ پورا روزہ اگلے برس تھا جب میری بہن نے (جسے شاید اللہ میاں یا والدین کی طرف سے کوئی خصوصی ہدایات تھیں) مجھے سارا دن تنہا نہ چھوڑنے کی قسم کھا لی ۔ خوش بخت نے نہانے کے لئے باتھ روم جانے کی بھی اجازت نہ دی اور حکم صادر کیا کہ ابو کا پرانا دھاری دار کچھا پہنو اور خواہ صبح سے شام تک ہینڈ پمپ کے نیچے وقت گذارو مگر وہیں اس کی نظروں کے سامنے نہاؤ ۔ یہ صرف اور صرف میری بہن کی ہٹ دھرمی تھی ورنہ مٓیں تو اس بار بھی اس بےایمانی کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار تھا مگر اس روز میرے حصے کی شیطان سے لڑائی میری بہن نے کچھ اس جواں مردی کے ساتھ لڑی کہ شیطان اس کا معترف اور مٓیں شام تک دل سے اس کا دشمن بن گیا۔ ویسے سچ یہ ہے کہ زندگی میں میرے حصے کی کئی دیگر مشہور جنگیں میری بہن نے کامیابی سے لڑیں مگر ان کا ذکر یہاں مناسب نہیں ۔ شام ڈھلنے تک میری بہن کی اس ایمانداری نے میرا بیڑا تقریباً غرق ہی کر ڈالا۔ کبھی اِدھر گرتا تھا اور کبھی اُدھر۔ ہر بار اُٹھتا تو بہن کو اپنے عین سامنے مسکراتا ہوا پاتا۔ مجبوراً مٓیں بھی چہرے پر ایسی مسکراہٹ زبردستی چپکا کر اسے یہ کھلا پیغام دینے کی کوشش کرتا۔ 'روزہ؟۔۔۔۔ یہ تو میرے لئے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے!'
اس روز شام تک ایک سات سالہ بچے کو ننھی سی عمر میں موت کا مفہوم اور فلسفہ دونوں بخوبی سمجھ میں آگئے۔ اس روز اذان بھی عام دنوں کی نسبت بہت دیر سے ہوئی تھی ۔ اتنی دیر سے کہ اذان ہوتے ہوتے مجھے مسجد کے سپیکر کی خرابی صحت کا تقریباً یقین ہو گیا تھا۔ کتنی ہی دیر ہونٹوں پر جمی پِپڑیوں کو ٹھنڈے شربت کے گلاس کی بیرونی سطح ہونٹوں پر پھیر پھیر کر انہیں تلف اور نرم کرتا رہا۔ اور پھر جب خدا خدا کر کے دُور کہیں اذان فضاؤں میں اُبھری تو دستر خوان پر ایسا گھمسان کا رن پڑا کہ آناً فاناً کئی پکوڑے شہید اور کئی دہی پُھلکیاں بیوہ ہوگئیں۔ ان گنت کھجوریں اپنی گٹھلیوں سے بچھڑ کر شکم برد ہوئیں ، سموسے اپنے تینوں کونے گنوا کر اندھوں کی طرح نمازِ عشا تک میرے پیٹ میں ٹکریں مارتے نجانے کسے زور زور سے آوازیں دیتے رہے، اس خون آشام شام کو رنگ برنگی چاٹ کا گلشن میرے ہاتھوں اُجڑ گیا اور شربتِ روح افزا میرے ہاتھوں اپنی بے حرمتی پر خون کے آنسو رویا، اتنا رویا کہ آج بھی مجھ پر نظر پڑتے ہی اس کی رنگت دہشت سے زرد ہونے لگتی ہے اور اچھا خاصا شربتِ روح افزا بالکل شربتِ بزوری لگنے لگتا ہے!
قصہ مختصر اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ عشا تک میرا پیٹ خراب ہوگیا اور مجھے اس برس باقی روزوں سے استثنی مل گیا لیکن آج پچھلے بتیس برس سے ایک بھی روزہ نہ چھوڑنے والے شخص کو جب وہ اپنا پہلا سرکاری روزہ یاد آتا ہے تو نامعلوم وجوہات کی بِنا پر منیر نیازی کا وہ شعر یاد آجاتا ہے۔۔۔ کُجھ شہر (گھر) دے لوک وہ ظالم سٓن۔۔۔کُجھ سانوں مرن دا شوق وی سی!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *