گوانتانا مو ڈائری از محمد ولد صلاحی

گوانتانا مو سے رہا ہونے والے محمد ولد صلاحی وہاں درپیش آنے والے پہلے دن کے حالات کچھ یوں لکھتے ہیں، ’’وہ ایک نہایت تنگ وguantanamo تاریک کمرا تھا۔ گانا نہایت اونچی، نہایت ہی اونچی آواز میں بج رہا تھا۔ آنکھوں میں شدیدچبھتی ہوئی روشنی بار بار ڈالی جاتی۔ مجھے بتا دیا گیا کہ اگر میں نہ سویا تو مجھے نہیں مارا جائے گا۔لہٰذامجھے اگلی صبح تک جاگنا پڑا اور ایسا اکثر ہوتا۔۔۔ سونے کا نتیجہ بہت ہولناک ہوتا۔‘‘
صلاحی مزید لکھتے ہیں کہ نومبر 2001ء میں بلآخر ان کی والدہ ان کی راہ تکتے تکتے فوت ہو گئیں۔
ان پر کوئی جرم ثابت نہ ہوا مگر انہیں رہا نہ کیا گیا۔
اس طرح، وسیع اور ظالمانہ تفتیشی میکانزم، جو نامعلوم تفتیش کاروں کے رحم و کرم پر موجودسینکڑوں قیدیوں کے سیاہ قید خانوں پر مبنی جزیروں کے ایک سلسلے کی صورت میں دنیا کے گرد پھیلا ہوا ہے، وہ خود کو ایک الجھی ہوئی مشین میں ڈھال چکا ہے جو محض خودساختہ افسانے تخلیق کرتی رہتی ہے۔گوانتانا مو جیسے امریکی قید خانے ایک ایسا میکانزم ہیں جس کے متعلق کبھی بھی کوئی پرمغز دلائل نہیں دئیے گئے۔ان قید خانوں کی کوئی بھی چیز مہذب سے بھی آگے کے دور کی دنیا سے مماثل نہیں ہے۔یہاں قیدیوں کو وحشیانہ انداز میں آزمایا جاتا ہے:
غضبناک تفتیش کار، محض مشکوک لوگوں کو گرفتار رکھنے اور ان کو اذیت دینے میں کوئی تکلیف محسوس نہ کرنے والے اور اپنے ذاتی تصورات کے مجموعی تشدد سے تخلیق کردہ ایک تصوراتی دنیامیں دہائی دیتے رہنے والے۔۔۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *