رائی کا پہاڑ

matee ullah jan

‎ایک جج اور صحافی میں شاید یہی فرق اہم ہوتا ہے۔ کبھی کوئی صحافی رائی کا پہاڑ بنا دیتا ہے اور کبھی کوئی جج ایک پہاڑ کو رائی کا دانا بنا دیتا ہے۔ سپریم کورٹ اور پانامہ تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے اہل خانہ کو دھمکی لگانے والے نہال ہاشمی کی عدالت میں طلبی اور پیشی کے موقع پر معزز جج جسٹس اعجاز افضل خا ن کو کچھ ایسا ہی گلہ تھا۔ انہوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے متعلق ان خبروں کا براہ راست ذکر تو نہیں کیا جن میں کہا گیا تھا کہ رجسٹرار نے واٹس ایپ ٹیلی فون کال کے ذریعے سٹیٹ بنک اور سکیورٹیزاینڈ ایکسچینج کمیشن کے سربراہان کو پانامہ جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے چند مخصوص افسران ( بلال رسول اور عامر عزیز) کو نامزد کر نے کیلئے زبانی احکامات دیئے۔ تین رکنی بینچ کے سربراہ معزز جج نے ایسی خبروں کو غیر ضروری طور پر نمایاں کرنے سے متعلق کہا کہ ایک رائی کا پہاڑ بنا دیا گیا ہے –

گو کہ معاملہ سامنے کھڑے توہین عدالت کے ملزم نہال ہاشمی کی دھمکی آمیز تقریر کا تھا مگر برسر راہ رائی کے دانے جیسی وٹس ایپ فون کال کی خبروں کو بھی ٹھوکر مار کر راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ کاش ہم اللہ کے وہ غازی اور پراسرار بندے ہوتے کہ جن کی ٹھوکر سے صحرا اور دریا دو نیم ہو جاتے اور “سمٹ کر پہاڑ جنکی ہیبت سے رائی” ۔ ہماری بد قسمتی تو یہ ہے کہ ہم خود پر لاگو آئین ، قانون ، ضابطوں اور قوائد کو تو رائی کا دانہ سمجھتے ہیں مگر دوسروں پر ان کے اطلاق کے لیے “رائی” کا پہاڑ بنا دیتے ہیں –

نہال ہاشمی کی طرف سے عدلیہ اور اسکے مقرر کردہ تحقیقاتی افسران کے اہل خانہ کو دھمکی لگانے کے پہاڑ جیسے جرم کی سنگینی سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ اسی معاملے پر فوری اور واضح کاروائی جے آئی ٹی کے ارکان کے تحفظ کیلئے بھی لازمی ہے۔ مگر پھر ایسے اہم قومی ، آئینی، قانونی اور سیاسی نوعیت کے معاملے میں معزز ججوں کو بھی اپنے ضابطہ اخلاق کی پابندی کا وہ معیار مقرر کرنا ہوگا جس کی توقع پانچ رکنی بینچ کے فیصلے نے بین السطور اور کچھ جگہوں پر برملا ملک کے ایک منتخب وزیر اعظم سے کی ہے۔ آئین اور قانون اعلی عدالتوں کے معزز جج صاحبان کو ہرگز یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ ذاتی طور پر یا بذریعہ رجسٹرار ٹیلی فون کے ذریعے سرکاری اداروں یا محکموں کو زبانی حتٰی کہ تحریری ایسے احکامات یا ہدایات جاری کریں جن کا تعلق ان اداروں یا محکموں کے انتظامی معاملات سے ہو ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پانامہ کیس میں معزز ججوں کے پانچ رکنی بینچ نے ایف آئی اے، نیب، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ، سٹیٹ بنک آف پاکستان ، ملٹری اینٹیلیجنس اور آئی ایس آئی کے سربراہان سے گریڈ اٹھارہ اور بالا افسران کی فہرست طلب کی تھی جن میں سے معزز ججوں نے ہر محکمے کا ایک افسر خود منتخب کرنا تھا۔ یوں تو معزز ججوں کو از خود نام لے کر کسی افسر کو تحقیقات پر مامور کرنا کسی زمانے میں معیوب سمجھا جاتا تھا تاہم پاکستان کے حالات میں کچھ مقدمات میں سپریم کورٹ نے ماضی قریب میں ایسا بھی کیا ہے مگر اس سب کے باوجود پانامہ کیس فیصلے میں محکموں کے سربراہان کو افسران کی فہرست بنانے کا واضح اختیار دیا گیا تھا جس کے بعد اگر کسی افسر کا نام فہرست میں شامل نہیں بھی ہوتا تو کھلی عدالت میں متعلقہ محکمے کے سربراہ سے پوچھا جا سکتا تھا اور فہرست کو دوبارہ ترتیب دینے کا حکم بھی صادر ہو سکتا تھا۔ مگر کھلی عدالت میں بلال رسو ل اور عامر عزیز کا نام لینا کسی نا معلوم وجہ کے باعث مناسب نہیں سمجھا گیا۔ یہ تاثر کہ بلال رسول اور عامر عزیز کے نام محکموں نے اپنی معمول کی فہرستوں میں بھیجے تھے اس وقت تک قائم رہا جب تک انصار عباسی کی سٹوری منظر عام پر نہیں آئی۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس غلط تاثر کو قائم کرنے کے پیچھے متعلقہ محکموں کے سربراہ اور خود معزز عدالت کے رجسٹرار تھے۔ کھلی عدالت کی سماعت میں بلال رسول اور عامر عزیز پر اٹھائے گئے اعتراضات کے باوجود بھی وہ حقیقت چھپائی گئی جس کواخباری انکشاف کے بعد رائی کا دانہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

معزز جج کا یہ موقف کہ رجسٹرار نے جو کچھ کہا وہ ججوں کے حکم اور ہدایات کے مطابق تھا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تین محکموں کو ٹیلی فون کالوں کی ذریعے (وہ بھی وٹس ایپ یا فیس ٹائم کال) کم از کم بلال رسول اور عامر عزیز کے نام فہرستوں میں شامل کرنے واسطے زبانی کلامی احکامات دیے گئے ۔ جو کام کھلی عدالت میں زبانی ریمارکس کے ذریعے سرکاری ملازموں کے ساتھ کیا جاتا رہا اب وہ کام ٹیلی فونوں پر بھی ہونا شروع ہو گیا ہے۔ زبان سے نکلی بات اور کمان سے نکلا تیر واپس نہیں ہو سکتے لیکن قلم کی تحریر جج کی ہو یا صحافی کی اس کی اپیل یا وضاحت ضرور ہو سکتی ہے ۔

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ججوں کو صرف اپنے تحریر ی فیصلوں کے ذریعے بولنا چاہئے- اگر واٹس ایپ ٹیلی فون کال کے ذریعے رجسٹرار کا سرکاری محکمے کے سربراہ کو مخصوص ناموں کےواسطے زبانی “ہدایات ” دینا رائی کا اتنا ہی چھوٹا پہاڑ تھا تو پھر یہ نام کھلی عدالت میں کیوں نہیں دیے گئے ؟ ان ناموں کو محکموں کی فہرست میں شامل کروانے کی بجائے براہ راست عدالتی حکم نامے میں از خود کیوں نہ لکھ دیا گیا؟ اور پھر یہ عام سرکاری ٹیلی فون کی بجائے واٹس ایپ یا فیس ٹائم فون کال کا کیا چکر ہے؟

اس کے علاوہ کھلی عدالت میں بلال رسول اور عامر عزیز پر اعتراضات کی کئی گھنٹے سماعت کے دوران (جو ساڑھے تین بجے تک جاری رہی) معزز ججوں نے اس رائی کے دانے کا دانے برابر ذکر کیوں نہیں کیا کہ یہ دو افسران سپریم کورٹ کا انتخاب ہیں اور یہ کہ ہمارے کہنے پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے واٹس ایپ یا فیس ٹائم فون کال کے ذریعے محکموں کے سربراہان کو ان دو افسران کو فہرستوں میں شامل کرنے کا کہا تھا۔ یہ بات کھلی عدالت ان افسران پر اعتراضات کی سماعت کے دوران کیوں نہیں بتائ گئی۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ معزز جج جسٹس عظمت سعید شیخ نے ان افسران پر اعتراضات کی سماعت کے دوران تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ جے آئی ٹی کے ارکان کے انتخاب کیلئے خفیہ اداروں سے “ویٹنگ” یعنی تصدیق بھی کرائی گئی۔ اب نجانے خفیہ اداروں نے بلال رسول اور عامر عزیز کی مخصوص مہارت اور اچھے کردار کی تصدیق کیسے اور کب کی ہو گی۔ اور کیا یہ تصدیق ججوں نے از خود ہی کروا کر واٹس ایپ کال کے ذریعے محکموں کو ان افسران کا نام شامل کرنے کیلئے کہا ہو گا یا پھر واٹس ایپ کال کے ذریعے محکمانہ فہرست میں ان کے نام شامل کروا کر خفیہ اداروں سے ان کی مہارت اور ان کے کردار کی تصدیق مانگی ہو گی- اور کیا خفیہ اداروں کی تصدیق بھی کسی واٹس ایپ یا
فیس ٹائم کال کے ذریعے کی گئ؟
‎ بنچ نے تمام محکموں کی نامزدگیاں کا اختیار
کردار کی تصدیق کے نام پر خفیہ اداروں کو دے دیا تھا ، ہر گز نہیں –
‎‎معزز ججز صاحبان کی ذاتی مشاہدے اور تجربے کے بعد یہ نام سامنے آ ہی گۓ تھے تو پھر خفیہ اداروں کی کیا جرات کہ وہ ان افسران کی مہارت یا کردار پر شک کرتے ۔ایک سوال اور پیدا ہوتا ھے کہ نہجانے ہمارے رجسٹرار سپریم کورٹ واٹس ایپ اور فیس ٹائم فون کالوں کی ذریعے اور کن کن اداروں اور شخصیات سے رابطے بھی رکھتے ہوں گے۔ بظاہر وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ رازداری کا بہترین طریقہ ھے جسکے ذریعے کھلی عدالت کے معاملات بھی بخوبی حل ہو سکتے ہیں – اور ناجانے وہ اس “محفوظ طریقے” کے استعمال سےکن کن کی ہدایات پر کون کون سے محکموں کو کیسے کیسے افسران کیلئے کس کس نوعیت کی کیا کیا “ہدایات” دیتے ہونگے ۔ بات رجسٹرار کے قانونی عہدے یا اختیار کی ہرگز نہیں۔ بات ہے اصول کی اور جب تک ہم اپنی اپنی بے ضابطگی اور بے اصولی کا برملا اعتراف نہیں کریں گے اس وقت تک ہم دوسروں کے گریبانوں میں مافیا کی تلاش کا حق نہیں رکھتے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت میں کوئی شخصیت نا گزیر نہیں ہوتی۔ اسی لیے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ آئین ،قانون اور احتساب سے بالاتر نہیں ۔ تو جناب جہاں ملک کے وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے پر نظام کو فرق نہیں پڑے گا تو وہاں کسی جج کے اپنی ” رائی کے پہاڑ” جتنی غلطی کا اعتراف کر کے بینچ سے علیحدہ ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ایک نیا جج آ جائے گا اور پھر بلال رسول اور عامر عزیز کی جگہ دوسرے افسران کے آنے سے بھی کچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا ۔ ہمارے قبرستان نا گزیرشخصیات سے بھرے پڑے ہیں ،

اصل چیلنج احتساب سے زیادہ احتسابی عمل کی ساکھ کا ہے وگرنہ تو لندن کے چار فلیٹوں کی قیمت جو ہے اس سے کئی زیادہ اہم آصف زرداری کے سوئز بنکوں کے اکائنٹوں کی تحقیقات پر لگا چکے تھے اور اتنی ہی رقم تو سعودی شاہی خاندان نے فوجی آمر جنرل مشرف کو بھی فطرانے میں دے دی تھی۔ اگر ہم خود اعلٰی اصولوں اور ضابطوں کی مثال نہیں بن سکتے تو پھر یاد رہے کہ واٹس ایپ اور فیس ٹائم فون کال پر زیادہ انحصار تو سسیلین مافیا جیسے مافیا بھی کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *