خلا میں ایسی چیز کی نشاندہی جس نے آئن سٹائن کی تھیوری سچ ثابت کردی!

Image result for ‫خلا‬‎

میامی -بین الاقوامی ماہرین طبیعیات کا کہنا ہے کہ خلا میں موجود دو بڑے بلیک ہولز کے آپس میں ٹکرانے کے بعد کرہ ارض سے ایک طویل فاصلے پر خلاء میں کچھ لہریں پیدا ہوئی ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق خلاء میں ہونے والے اس ٹکراؤ سے کشش ثقل کی جو لہریں پیدا ہوئیں، وہ زمین سے 3 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہیں جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اس نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔

جنرل فزیکل ریویو لیٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے مشاہدے نے 1915 میں البرٹ آئن اسٹائن کی پیش کردہ تھیوری اور پھر اس کے دو سال بعد آنے والی ان لہروں کے علم کو مزید تقویت بخشی ہے۔

ایک خلائی تحقیقی ادارے کے ترجمان ڈیوڈ شومیکر کے مطابق یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب انسان ایک کہانی ترتیب دے سکتے ہیں اور ایسے واقعات کا مشاہدہ بھی کرسکتے ہیں جو آج سے تقریباً اربوں سال قبل اور زمین سے اربوں نوری سال کے فاصلے پر رونما ہوئے تھے۔ گذشتہ تمام واقعات میں تحقیقی ادارے نے کشش ثقل کی لہروں کا پتہ لگایا جو بلیک ہولز کی بے انتہا توانائی کے انضمام کے نتیجے میں وجود میں آئی۔

حال ہی میں ہونے والے دو بلیک ہولز کے تصادم کے نتیجے میں ایک بہت بڑا بلیک ہول وجود میں آیا ہے جس سے قابل سماعت ایک آواز آتی ہے جبکہ یہ بلیک ہول سورج سے 48 گنا بڑا ہے۔ سب سے پہلے ستمبر 2015 میں کشش ثقل کی ان لہروں کا پتہ لگایا گیا جو زمین سے 1 ارب 30 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر بلیک ہول کے تصادم کے نتیجے میں سامنے آئیں جبکہ دوسرا واقعہ 2 ماہ بعد ہی دسمبر 2015 میں رونما ہوا جو زمین سے 1 ارب 40 کروڑ فوری سال کے فاصلے پر تھا۔

تاہم محققین نے تیسرے واقعے کو GW 170104 کا نام دیا ہے جو رواں برس 4 جنوری کو پیش آیا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *