کالم

محتاج اپنے گھر میں ہی سردار ہوگیا

Share

جمہوریت ایک ایسا انظام ہے جس میں مختلف پارٹیاں انتخابات ہار جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک ایسے ملک میں جہاں انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں۔تاہم ایک ہی پارٹی بعض اوقات کئی دہائیوں تک جیت جاتی ہے اور اپنے حریفوں سے ہمیشہ کے لیے ہار جاتی ہے۔

ایک پارٹی کے غلبے کی ایسی مثالیں کچھ جگہوں پر دوسروں کے مقابلے زیادہ دیر تک کیوں رہتی ہیں؟ ان حالات کو سمجھنا جن کے تحت ایک جماعتی غلبہ ختم ہوتا ہے نہ صرف اس لیے ضروری ہے کہ مقابلہ جمہوریت کا ایک اہم عنصر ہے بلکہ اس لیے بھی کہ قابل عمل اپوزیشن کا ابھرنا ملک کی ترقی اور ترقی سے جڑا ہو اہے۔زیادہ تر تحقیق واحد پارٹی کے غلبے اور اس کے خاتمے کی وضاحت کرتی ہے۔ غالب پارٹی کی حکمت عملیوں اور وسائل پر مرکوز ہے۔ اگر چہ بہت سی غالب جماعتیں جن میں اسرائیل، اٹلی، جاپان، سویڈن، ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک شامل ہیں،شاذ و نادر ہی کبھی مقبول اکثریت کو کچلنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ بلکہ ایسی غالب جماعتیں اقتدار میں رہتی ہیں کیونکہ حزب اختلاف عام طور پر متعدد، منقسم اور نظریاتی طور پر مختلف جماعتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

کئی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی اگر اپوزیشن اس کے بجائے ایک بڑی پارٹی پر مشتمل ہو تو غالب پارٹی کو ہٹانا آسان ہوجاتا ہے۔کیونکہ اپوزیشن کے ووٹ ایک پارٹی کے پیچھے اکھٹے ہوجاتے ہیں جو انتخابی فتح کی صورت میں ایک مستحکم واحد پارٹی حکومت بنا سکتی ہے۔1929میں جرمنی کی ویمار ریپبلک شدید معاشی بدحالی اور وسیع پیمانے پر بے روزگاری کے دور میں داخل ہوئی۔ نازیوں نے حکمران حکومت پر تنقید کر کے حالات کا فائدہ اٹھایا اور الیکشن جیتنا شروع کر دیا۔ جولائی 1932کے انتخابات میں انہوں نے ریخسٹاگ یا جرمن پارلیمنٹ کی 608نشسستوں میں سے 230پر قبضہ کر لیا۔جنوری 1933میں ہٹلر کو جرمن چانسلر مقرر کیا گیا اور اس کی نازی حکومت نے جلد ہی جرمن زندگی کے ہر پہلو کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ نازی دور حکومت میں دیگر تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔1933میں نازیوں نے سیاسی قیدیوں کو رکھنے کے لیے جرمنی کے شہر داخو میں اپنا پہلا حراستی کیمپ کھولا۔ جو کہ ایک موت کے کیمپ میں تبدیل ہوا جہاں لاتعداد ہزاروں یہودی غذائی قلت، بیماری اور زیادہ کام کی وجہ سے مر گئے یا انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

نازیوں نے 1930کی دہائی کے اوائل سے دوسری جنگ عظیم کے اختتام تک جرمنی کو کنٹرول کیا۔ پارٹی کا انگریزی میں پورا نام نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی تھا۔ اس کے نام میں لفظ سوشلسٹ ہونے کے باوجود یہ ایک فاشسسٹ پارٹی تھی۔ نازیوں نے کمیونزم اور آزادانہ دانشورانہ تحقیقات کی مخالفت کی۔ وہ ایک ماسٹر نسل بنانے کی خواہش رکھتے تھے جو دنیا پر حکمرانی کرے۔ اگر اسی تناطر میں ہندوستان کی صورت ِ حال کا جائزہ لیا جائے تو کم و بیش موجودہ صورتِ حال کم و بیش یکساں دکھائی دیتی ہے۔مثلاً ایک پارٹی پر یقین رکھنا، اپوزیشن کا خاتمہ کردینا، ایک خاص فرقے کو نشانہ بنانا،کمزور طبقوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا،جھوٹے الزام کے تحت لوگوں کو گرفتار کرنا اور انہیں جیل میں بند رکھنا وغیرہ ایسی باتیں ہیں جو جرمنی کی نازی پارٹی سے مشابہ ہیں۔

پچھلے کئی برس سے رام مندر کی تحریک سے قوم پرست ہندو لیڈروں نے عام لوگوں کے ذہن میں مذہبی جنون اور ایک خاص فرقے کے خلاف نفرت کی بیج کو ایسا بویا کہ دیکھتے دیکھتے ہندوستان میں امن پسند لوگوں کا جینا دشوار ہوگیا اور ان میں بے چینی شروع ہوگئی۔اس کے علاوہ آئے دن الگ الگ ڈھنگ سے مسلمانوں کے خلاف غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے الیکشن کو جیت جانا۔ پھر لوگوں میں ایساخوف و ہراس کا ماحو ل بنا دیا گیا کہ عام لوگوں کا جینا حرام ہوچکا ہے اور زیادہ تر لوگ مایوسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

لیکن کرناٹک اسمبلی الیکشن میں کانگریس کی جیت نے جہاں مودی کی من کی بات کو رد کردیا بلکہ بی جے پی کے 2024کے عام انتخاب کو ایک بار پھر نفرتوں اور جھوٹ پر مبنی باتوں سے جیتنے کے خواب کوکچھ پل کے لیے چکنا چور کردیا ہے۔بی جے پی کے خیمے میں عجیب سا سناٹا چھا گیا ہے اور گودی میڈیا مودی کے غم میں آنسو بہا رہاہے۔جب سے کرناٹک میں بی جے پی کی انٹری ہوئی ہے وہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سواے حجاب کی پابندی اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کے بی جے پی نے کوئی کام ہی نہیں کیا ہے۔یعنی یہاں بھی جرمنی کی نازی پارٹی کی طرح ایک خاص فرقے کو نشانہ بنایا جانے لگا اوراس طرح حکومت کو قائم رکھنے کا خواب دیکھا جانے لگا۔حیرانی تو اس بات سے ہوتی ہے کہ ملک کے وزیراعظم ان واقعات پر خاموشی سادھے گوتم بدھ کی تعلیم کو عام کرنے کی بات کرتے ہیں۔جو کہ ایک شرمناک بات ہے۔

جرمنی سمیت دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں فاشسٹ طاقتوں نے اپنے ملک میں مذہبی نفرتوں کے ذریعہ ایک خاص فرقے کو نشانہ بناتے ہوئے اپنا الو تو سیدھا کیا لیکن وہیں تاریخ گواہ ہے کہ ان کا حشر بھی کافی برا ہوا۔کیا آپ نے کبھی اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ میں فلاں سے نفرت کیوں کرتا ہوں؟ کیا یہ اس لیے ہے کہ آپ ان سے خوفزدہ ہیں؟ کیا آپ کو ان کے لیے کوئی احساس نہیں ہے؟چونکہ آپ کو یقین ہے کہ وہ کسی بھی چیز سے کم کے مستحق نہیں ہیں یا یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ ناراض ہیں؟اگر آپ کر سکتے ہیں تو آپ ان کے خلاف تشدد کا استعمال کریں گے۔اور قرآن ہمیں ان گھٹیا جذبات پر قابو پانے میں مدد کرنے کے لیے ایک خوبصورت دعا سکھاتا ہے۔”اے رب، ہمارے دلوں میں نفرت کو جڑنہ پکڑنے دے، رب تو رحم کرنے والا اور خیال رکھنے والا ہے”(الحشر:۰۱)۔

کرناٹک الیکشن کی ہار سے ایک بات تو صاف عیاں ہے کہ مودی کو اپنی غلط فہمی کا کچھ تواحساس ہوچکا ہے۔ مثلاً ہندوستان کی سیاست میں مذہبی ایجنڈا لے کر الیکشن میں کامیاب ہونا ایک وقتی پیش قدمی ہے۔ کیونکہ ہندوستان کی عوام ملک کی ترقی اور بھائی چارگی پر یقین رکھتے ہیں اور اسے مودی اینڈ ٹیم کی مذہبی نفرتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تاہم ہندوستانی عوام اس سے پہلے بھی سخت امتحان سے گزر چکے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی عوام ایک بار پھر ہندوستان کی خوبصورت ثقافت اور بھائی چارگی کو مد نظر رکھتے ہوئے مذہب کی آڑ میں سیاست کرنے والوں کو جلد منہ توڑ جواب دے گے۔ تاریخ گواہ ہے جب کبھی بھی طاقتور حکمرانوں یااکثریتی گروہ نے اقلیتی یا کمزوروں پر ظلم کیا ہے، اس کا نتیجہ زوال پزیر ہی ہوا ہے۔میں اپنے اس شعر سے آج کی بات ختم کرتا ہوں کہ:

تھی سلطنت ہماری مگر آج دیکھیے
محتاج اپنے گھر میں ہی سردار ہوگیا