انسانی جسم میں وہ 28 چیزیں جو چائے سے متاثر ہوتی ہیں

Image result for ‫چائے‬‎

چائے کے متعدد طبی فوائد سامنے آتے رہتے ہیں جیسے ہارٹ اٹیک اور ہائی بلڈپریشر کا خطرہ کم کرنے سے لے کر مخصوص اقسام کے کینسر سے تحفظ دینے تک۔ مگر اب ایک نئی طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ گرم مشروب جینز پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔

یہ بات سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اپپسلا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے پینے کی عادت ڈی این اے کو ممکنہ طور پر تبدیل کردیتی ہے جو کہ امراض اور مجموعی صحت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ گرم مشروب 28 مختلف جینز میں تبدیلیاں لاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کے جینز میں تبدیلیاں لانے کے حوالے سے چائے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس تحقیق کے دوران یورپ بھر سے تین ہزار سے زائد بالغ افراد کے ڈی این اے نمونے لیے گئے جو کہ چائے اور کافی پینے کے شوقین تھے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ سیاہ چائے کو اکثر پیتے ہیں ان کے ڈی این اے میں موجود جینز میں تبدیلیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔

محقین کا کہنا تھا کہ اس تحقیق میں چونکہ خواتین رضاکاروں کی تعداد زیادہ تھی تو مردوں پر اس کے حقیقی اثرات جاننے کے لیے مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بات پہلے ثابت ہوچکی ہے کہ اس گرم مشروب کا استعمال خواتین میں ورم کی سطح اور ایسٹروجن کی سطح میں کمی لاتا ہے جو کہ مختلف امراض سے تحفظ دیتا ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے ہیومین مالیکیولر جینیٹکس میں شائع ہوئی۔

اس سے پہلے رواں سال سنگاپور میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ روزانہ کم از کم ایک کپ چائے پینا دماغی تنزلی یا یوں کہہ لیں دماغی مرض ڈیمینشیا کا خطرہ نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران 55 سال سے زائد عمر کے 957 افراد کی چائے نوشی کی عادت کا جائزہ بارہ سال تک لیا گیا۔ تحقیق کے دوران ہر دو برس بعد رضاکاروں کے دماغی افعال کا جائزہ لیا جاتا ہے جبکہ محققین نے ان کے طرز زندگی، طبی عوارض اور جسمانی سرگرمیوں کی معلومات بھی اکھٹی کی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں مقبول اس مشروب کا روزانہ استعمال عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو لاحق ہونے والے اس مرض کا خطرہ 50 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ تحقیق کے مطابق سبز یا ہو سیاہ چائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ دونوں ہی دماغ پر یکساں انداز سے مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *