میرے ابا ۔ ۔ ۔ سلمان تاثیر

سارا تاثیر

Image result for sara taseer

میں اپنے والد کے اچھے اوقات کو یاد کر کے ہنس مسکرا کر کچھ یادیں تازہ کر لیتی ہوں اور اس دوران میں اپنے آپ کو غصے اور پشیمانی سے دور رکھنے میں بھی کامیاب رہتی ہوں۔ اپنے والد کی وفات کے 6 سال بعد میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اپنے والد کی یادیں تازہ کرنے میں مشغول ہو گئی اور والد کی بہت سی کہانیاں ایک دوسرے سے شئیر کیں۔ چونکہ اگر وہ زندہ ہوتے تو آج ہم ان کا 73 واں یوم پیدائش مناتے اس لیے میں ان کے جنم دن کی خوشی میں ان کی شخصیت کے کچھ ایسے پہلو پر لکھنا چاہتی ہوں جو ان کے مزاحیہ مزاج سے تعلق رکھتے ہیں۔

میرے والد کی حس مزاح بہت شاندار تھی۔ ان کے دوست، رشتہ دار اور بچے بھی ان کی مزاح ، اٹھکیلیوں اور لطیفوں سے محظوظ ہوتے تھے۔ وہ کسی بھی صورتحال کو مزاحیہ بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور اگر کوئی چیز مزاحیہ نہ ہو تو بھی وہ اس میں سے کوئی ایسا پہلو ڈھونڈ نکالتے تھے۔ وہ لوگوں کو مزاحیہ نام بھی دیتے اور مزاحیہ انداز میں گفتگو کا آغاز کرتے تھے۔ وہ صبح سویرے اٹھنےکے عادی تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ خاندان کا ہر فرد صبح ناشتے کی ٹیبل پر موجود ہو۔ جب ہم ان سے پوچھتے کہ آپ کو اتنی صبح اٹھنے میں کیا مزہ آتا ہے تو وہ بتاتے کہ یہ عادت انہوں نے جیل میں سیکھی تھی۔ میرے پاپا کو جنرل ضیا الحق اور نواز شریف کے سیاسی مخالف ہونے کی وجہ سے کئی بار جیل جانا پڑا۔ جب وہ صبح چائے پیتے تو ہم سب سو رہے ہوتے اس وقت میرے پاپا نت نئے طریقے اختیار کر کے ہمیں جگانے کی کوشش کرتے تھے۔ میری بن صنم کو جگانے کےلیے پاپا اپنے بل ڈاگ کو اس کے بیڈ کے نیچے لے آتے۔ اس عادت کی وجہ سے اور بُل ڈاگ کے خوف سے صنم آج بھی صبح سویرے اٹھتی ہے۔

ایک بات ابا نے ویلن ٹائن ڈے پر نواز شریف کو  گلدستہ بھجوا دیا۔ اس واقعہ سے قبل نواز شریف نے میرے ابا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن عام طور پر نواز شریف میرے والد کے معترف تھے اور ابا کو اس بات پر بہت فخر تھا۔

جب 80 کی دہائی میں موبائل فون پاکستان میں متعارف ہوئے تو ابا نے اپنے گیجٹ سے ایک شرارت کرنا چاہی۔وہ باتھ روم میں تھے جب لینڈ لائن فون بجنے لگا۔ میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف ایک فرانسیسی شخص میرے والد کے بارے میں پوچھنے لگا۔ میں نے باتھ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ابا نے کہا کہ وہ اس وقت کسی سے بات نہیں کر سکتے۔ میں نے فرنچ مین کو بتایا کہ ابا اس وقت باتھ روم میں ہیں ا سلیے بات نہیں ہو سکتی۔ جواب ملا کہ وہ شخص فرانسیسی سفارت خانے سے بول رہا ہے اور ابا سے ہر حال میں بات کرنا چاہتا ہے۔ جب میں نے دوبارہ باتھ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ابا نے غصہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مصروف ہیں اور بات نہیں کر سکتے۔ میں اب بتا تو نہیں سکتی تھی کہ ابا کس حالت میں ہیں اس لیے میں نے فرنچ مین کو کہا کہ ابا اس وقت بات نہیں کر سکتے کیونکہ وہ مصروف ہیں۔ دوسری طرف سے آواز آئی کہ کیا وہ باتھ روم میں ہیں؟

میں نے ہچکچاتے ہوئے بتایا کہ جی ہاں وہ باتھ روم میں تھے۔فرانسیسی نے پوچھا کہ کیا وہ یہاں کوئی بزنس کرتے ہیں؟ اس کے بعد کئی اور سوالات پوچھے گئے۔ میں نے پریشانی کے عالم میں فون بن کر دیا ۔ باتھ روم کی طرف جا کر ابا کو فرانسیسی شخص کے بارے میں بتایا ۔ ابا نے ہنستے ہوئے بتایا کہ فون پر وہ خود تھے اور فرانسیسی شخص ہونے کا ڈرامہ کر رہے تھے۔ ایک ویک انڈ کی صبح 90 کی دہائی میں ابا اخبار پڑ ھ رہے تھے تو انہوں نے اچانک پرانے فرنیچر کی ایک ایڈ دیکھی۔ انہوں نے پتا کیا تو معلوم ہوا کہ نجم سیٹھی اس فرنیچر کی فروخت کر رہے تھے۔ ابا نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور ایک شرارت کرنے کی ٹھان لی۔ انہوں نے ایک عرب کی شکل اختیار کر کے سیٹھی صاحب کو فون کیا اور اینٹیک کی قیمت دریافت کی۔ انہوں نے سیٹھی صاحب کو بتایا کہ وہ ایک مہمان شیخ ہیں جو اینٹیک خریدنے کے بہت شوقین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت بڑی رقم دینے کے لیے تیار ہیں اور اینتیک وصول کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صبح وہ اپنی سفید مرسڈیز میں سیٹھی صاحب کے گھر آئیں گے اور سامان وصول کر لیں گے۔

ابا کا مذاق وہیں ختم نہیں ہوا بلکہ وہ صبح سویرے سیٹھی صاحب کے گھر پہنچ گئے اور کہا کہ وہ اپنے پرانے دوست کے ساتھ ناشتہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ سیٹھی صاحب کے ہاں کوئی عرب تاجر آنے والا تھا اس لیے وہ میرے والد کو آتے دیکھ کر بہت پریشانی کا شکار ہو گئے۔انہوں نے ابا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے پارٹنر، آپ کے آنے کا یہ وقت ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کو کچھ غیر ملکی مہمانو ں کی آمد کی توقع ہے اس لیے ابا کسی اور وقت کا انتخاب کر لیں۔ ابا نے ناراضگی میں پوچھا کہ اتنی صبح سیٹھی صاحب کو کون ملنے آ رہا ہے؟

Image result for sara taseer with his father

مسٹر سیٹھی نے بتایا کہ کچھ عرب دوستوں کی آمد متوقع ہے۔ حیرانی کے عنصر کو دباتے ہوئے ابا نے پوچھا کہ کیا عرب دوست سفید مرسڈیز کار میں آ رہے ہیں۔ مسٹر سیٹھی نے ہاں میں سر ہلایا اور ابا نے بتایا کہ راستے میں انہیں کچھ عرب دکھائی دیے جو سیٹھی کا گھر ڈھونڈ رہے تھے اور فرنیچر خریدنے کے متمنی تھے۔ابا نے بتایا کہ انہوں نے عربوں کو بتایا تھا کہ وہ صحیح راستے جا رہے ہیں اور عربوں کو کچھ بے چینی اس معاملے میں تھی کہ ایک صحافی کا فرنیچر بزنس میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے ؟ جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں، مسٹر سیٹھی کا دل یہ دیکھ کر بہت دکھا ہو گا کہ ابا کی وجہ سے ان کے لیے ایک بڑی رقم ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ لیکن بہت جلد انہیں اندازہ ہو گیا کہ ابا مزاق کر رہے تھے۔

ٹویٹر پر وہ بہت خوش مزاج طریقے سے ٹویٹ کرتے تھے اور اکثر مجھے شرارتی انداز میں مخاطب کرتے تھے۔ میں ان کے کچھ ٹویٹس آپ کے سامنے پیش کیے دیتی ہوں۔

1۔ میں نے اس سال اپنی سب سے پیاری چیز عید پر قربان کرنی ہے۔ سارا تم کہاں ہو؟

2۔ میری بیٹی سارا فٹ بال کا فائنل دیکھنے سپین جا رہی ہے۔ کوئی اسے یہ نہیں بتا رہا کہ فائنل تو ساوتھ افریقہ میں ہونا ہے۔

3۔ اس ہفتے کسی چور نے میرا کریڈ ٹ کارڈ اڑا لیا لیکن میں نے پولیس کو اطلاع نہیں کی کیونکہ چور میری بیوی سے کم رقم خرچ کر رہا ہے۔ سچ !

4۔ لوگ میری ذہانت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ کسی نے لکھا: دنیا کو کوئی گورنر تم جیسا ٹوئیٹ نہیں کرتا۔ میں نے اسے شکایت سمجھ لیا۔

sa

5۔ آج دنیا ٹی وی پر میرے انٹر ویو کے بعد میں ایک ایس ٹی فین کلب کھولنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ اس میں ایسے افراد شرکت کر سکتے ہیں جن کی عمر 80 سال سے کم ہو اور ان کے دل کی دھڑکن چل رہی ہو۔

6۔ جب نواز شریف نے بابر اعوان کے جہاز استعمال کرنے پر اعتراض کیا تو مجھے بہت حیرانی ہوئی۔ کیونکہ شریف خاندان گورنر پنجاب کے طیارے کو رکشہ کی طرح استعمال کرتا ہے۔

7۔ شریف فیملی نے پال آکٹوپس کو اپنے مستقبل کی خبر دینے کےلیے رائیونڈ بلا لیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ سچ بول کر ان کے پایا میں نہ پھنس جائے ۔

8۔ میں تو چاہتا تھا کہ موزگر جاتے ہوئے انجلینا جولی کو ساتھ لے چلوں لیکن قسمت میں فرزانہ راجہ کا ساتھ تھا۔ سارے خواب پورے نہیں ہوتے۔

9۔ میرے پاس ایچ بی او پر ڈراونی فلم اور رانا ثنا اللہ، اعجاز الحق اور اکرام سیگل کا پروگرام دیکھنے کی چائس تھی۔ میں نے ایچ بی او کا انتخاب کیا کیونکہ یہ کم ڈراونا تھا۔

مجھے امید ہے کہ میں نے کامیابی سے ان کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو اپنے قارئین کے سامنے اجاگر کیا ہے۔ اکثر لوگ جو انہیں جانتے ہیں وہ ان کے بارے میں کوئی ایک مزاحیہ کہانی ضرور جانتے ہوں گے۔ میں ایک بار پھر اپنے پیارے ابا کو پورے دل سے یوم پیدائش پر مبارک باد دیتی ہوں۔ ہیپی برتھ ڈے ابا!

source: http://blogs.tribune.com.pk/story/50550/remembering-my-father-salmaan-taseer-and-his-love-for-pranks-on-his-73rd-birthday/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *