چین نے ایسی سروس متعارف کروادی کہ دنیا دنگ رہ گئی!

چین نے ایک بار پھر لگتا ہے کہ ایک اور شعبے میں دنیا کو پیچھے چھوڑ ہے اور وہ ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں بس،ٹرام اور ٹرین کو ایک ہی بنادیا ہے۔ جی ہاں چین کی ریل ٹرانزٹ کمپنی سی آر آر سی نے ایک نئی سواری اسمارٹ بس کے نام سے متعارف کرائی ہے جو دیکھنے میں تو کسی ٹرین کی طرح لگتی ہے مگر یہ کسی بس کی طرح سڑک پر چلتی ہے۔ اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اسے چلانے کے لیے ڈرائیور کی ضرورت نہیں بلکہ یہ ایک طے شدہ راستے پر دوڑتی ہے۔

یہ ٹرین یا بس ایسے سنسر سے لیس ہے جو اسے سڑک پر بنی سفید لائنوں پر چلنے میں مدد دیتے ہیں اور انسانی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کمپنی کے مطابق یہ دنیا کی پہلی ورچوئل ٹرین ٹریک ہے جسے وسطی چین میں متعارف کرایا جائے گا۔ اس تیس میٹر لمبی بس میں تین بوگیاں ہیں جن میں 300 مسافر ایک وقت میں سفر کرسکتے ہیں جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید بوگیاں لگائی یا نکالی جاسکتی ہیں۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ اسمارٹ بس یا ٹرین کسی سب وے یا ٹرام سسٹم سے سستی پڑتی ہے کیونکہ اسے چلانے کے لیے مخصوص انفراسٹرکچر کی ضرورت نہیں، بس مخصوص سفید لائنیں ہی کافی ثابت ہوں گی۔ چین میں ایک کلو میٹر طویل سب وے کی تعمیر پر 102 ملین ڈالرز کا اوسط خرچہ ہوتا ہے جبکہ اس اسمارٹ بس کی لاگت محض 2 ملین ڈالرز پڑے گی۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی بس یا ٹرین سروس کا آغاز 2018 میں چینی شہر Zhuzhou میں ہوگا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *