میں پیپلزپارٹی سے وابستہ کیوں رہوں؟

arshad sulehri

ریاست معذور افراد کی سرپرستی کرنے کو بالکل تیار نہیں ہے۔ حکومتیں معذور افراد کیلئے برائے نام اور عارضی پالیساں اور پروگرام بناتی ہیں ۔ موجودہ حکومت نے وفاق کی سطح پر تو کوئی پروگرام نہیں دیا ہے ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے خدمت کارڈ کا ڈرامہ کیا گیا ہے۔ خدمت کارڈ کی تشہیر کیلئے کروڑوں روپے کی اشتہار بازی کی گئی تھی۔ مگر اعلان کردہ فی کس 2500 اعزازیہ کسی ایک بھی معذور فرد کو آج تک نہیں دیا گیا ہے۔ کسی ایک معذور فرد کو ترجیحی بنیاد پر ملازمت نہیں دی گئی ہے۔ ایسا ہی ڈرامہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں رچایا گیا۔ معذور افراد کے معذوری سرٹیفکیٹ بنائے گئے۔ معذوری کی علامت والے قومی شناختی کارڈ بنائے گئے ۔ مگر معذور افراد کو کچھ بھی نہیں دیا گیا۔ حکومت نے مردم شماری شروع کی تو معذور افراد کا خانہ ہی نہ رکھا ۔مردم شماری میں معذور افراد کو نظرانداز کیے جانے پر جب معذور افراد کی تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ معذور افراد کو شمار کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔ جس پر محکمہ شماریات کے حکام کا جواب تھا کہ ہم معذور افراد کو الگ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ معذور افراد کے مسائل الگ نہیں ہیں ۔ معذور افراد کے بھر پور احتجاج پر مردم شماری میں معذور افراد کا خانہ تو شامل کردیا گیا ۔ لیکن مردم شماری کے دوران عملہ مردم شماری نے ڈنڈی مارتے ہوئے معذور افراد کے اعداد و شمار جمع کرنے میں پہلوتہی سے کام لیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معذور افراد کی مشکلات اور مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ اقتدار کی خواہش پر بنائی گئی چار سو کے الگ بھگ سیاسی پارٹیوں میں ایک بھی سیاسی جماعت نہیں ہے ۔ جو معذور افراد کیلئے کوئی پروگرام رکھتی ہو یا کوئی ایسی سیاسی جماعت ہو جس نے اپنی پالیسی ساز کمیٹی میں معذور افراد کو نمائندگی دے رکھی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی ملک کی سب سے بڑی سیاسی اور عوامی جماعت ہے۔ پی پی کی بے شمار ذیلی تنظیمیں ہیں۔ اس کے باوجود پی پی کے لیڈر معذور افراد کی سر پرستی کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔ راقم نے پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام لیڈروں کی اس جانب توجہ دلائی ہے کہ پی پی میں معذور افراد کی تنظیم ہونی چاہیے اور پیپلزپارٹی معذور افراد کی سرپرستی کرے۔ ڈس ایبلڈ پیپلز موومنٹ کے نام سے پیپلزپارٹی سے وابستگی رکھنے والے معذور افراد 2008سے اپنی مدد آپ کے تحت کا م کر رہے ہیں ۔ اس ضمن میں جب پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمرزمان کائرہ اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات چودھری منظور کے روبرو معذور افراد کی پیپلزپارٹی میں تنظیم کا سوال اٹھایا تو ان کا جواب بھی یہی تھا کہ ہم معذور افراد کو الگ نہیں کرنا چاہتے ہیں ۔ مطلب معذور افراد کے مسائل سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کو خطوط ارسال کیے گئے کہ پیپلزپارٹی معذور افراد کا پارٹی ونگ بنا کر سرپرستی کرے ۔صرف فرحت اللہ بابر کی جانب سے جواب موصول ہوا کہ تجویز قابل غور اور اچھی ہے۔ پاکستان میں پندرہ فیصد سے زائد معذور افراد ہیں ۔ جو بے یارومدگار ہیں۔اگر پیپلز پارٹی جیسی بڑی جماعت میری آواز نہیں بنتی ہے۔ میرے لئے کوئی پروگرام اور پالیسی وضع نہیں کرتی ہے ۔ پارلیمان میں میرے حقوق کی بات کرنے سے گریزاں ہے۔ مجھے قومی دھارے میں شامل کرنے سے کتراتی ہے۔ تو کوئی بتائے گا کہ میرے لئے پیپلزپارٹی کی افادیت کیا ہے۔ میرے لئے وہ سیاسی پارٹی اہم ہے ۔ جو میرے حقوق کی بات کرے ۔ میرے حقوق اور مفاد کا تحفظ کرے۔میری مشکلات اور مسائل کا حل کرے۔ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت اور جیالوں سمیت اہل فکر سیاسی کارکنان سے میرا سوال ہے ۔میں پیپلزپارٹی کو ووٹ کیوں دو۔ پیپلزپارٹی سے وابستہ کیوں رہوں۔
جس دل میں پیار نہ ہو اس دل میں کیوں رہوں
میں غم کا آنسو کیوں بنوں آنکھوں سے بہتا کیوں رہوں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *