پاکستان کرکٹ کی جیت، انگلینڈ اور بھارت کیلئے گہرا پیغام

photo-nusrat-javed-sb-6-2

اوول کے تاریخی میدان میں پاکستان کے محنتی اور جی دار لڑکوں نے اتوار کے دن بھارت کی رعونت ہی کو پاش پاش نہیں کیا۔ کئی برسوں سے کرکٹ کے ”اصل مرکز“ مانے اس میدان میں پاکستان کی جیت نے دُنیا کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ہمارا وطن دین اسلام کی من گھڑت تعبیر سے فروغ پاتی دہشت گردی سے وابستہ نہیں ہے۔ اسے وہ کھیل بھی کمال مہارت سے کھیلنا آتا ہے جسے انگریزی اشرافیہ صرف Gentlemenکا کھیل سمجھا کرتی تھی۔
اوول کا میدان مارنے والے ہمارے بچے اس کھیل میں قطعاََ نووارد ہیں۔ انہیں عالمی سطح پر ہرگز جانا نہیں جاتا۔ ان کی اکثریت کا تعلق ہمارے نچلے اور متوسط طبقات سے ہے۔ وہ ایچی سن کالج جیسے Elitistسکولوں میں نہیں گئے۔انہیں ٹیلی وژن کیمروں کے سامنے ٹوٹی پھوٹی اور قواعد کے حوالے سے مکمل طورپر غلط انگریزی زبان میں بھی اپنے جذبات وخیالات بیان کرنا نہیں آتا۔ کرکٹ مگر وہ بے پناہ لگن سے کھیلتے ہیں۔ پنجابی والی ”اپنی آئی“ پر آجائیں تو ”جٹ“ کی طرح وحشی ہوکر مقابل کے چھکے چھڑادیتے ہیں۔بھارتی کرکٹ کے بہت ہی Celebrity Starsکو دھول چاٹنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
اتوار کے دن ہوئے کرکٹ میچ نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ پاکستان کے لوگوں میں دنیا کے ہرشعبے سے متعلق کامیابیوں وکامرانیوں کے جھنڈنے گاڑنے کا بے تحاشہ Potentialموجود ہے۔ امکانات کے اس ذخیرے کو مگر اظہار کے مواقع میسر نہیں۔ آج سے کئی برس پہلے لاہور میں سری لنکا سے آئی کرکٹ ٹیم پر ہمارے دینِ مبین کی غلط تعبیر سے وحشی بنائے درندوں نے حملہ کردیا تھا۔ اس دن کے بعد سے دنیا کی کوئی ٹیم پاکستان آکر کھیلنے کو تیار نہیں ہوتی۔ ہمارے لڑکے دوسرے ملکوں میں جاکر کھیلنے کو مجبور ہیں۔صرف ٹی وی سکرین کی بدولت کرکٹ میچ دیکھنے کی عادت نے ہمارے کرکٹ کے میدانوں کو ویران کردیا ہے۔ ان میدانوں میں اپنے ہی لوگوں کو ہمارے کرکٹر اپنا جوہر دکھانے کے مواقع سے محروم ہیں۔ ”جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا؟“ والے اس ماحول نے ہماری گلیوں اور محلوں سے کرکٹ کے ممکنہ سٹارز پیدا کرنے کے امکانات کو محدود کردیا تھا۔
دنیائے کرکٹ سے دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان پر مسلط ہوئی تنہائی اس بات کو تقریباََ یقینی بنارہی تھی کہ ہم بتدریج اس کھیل کے ”بارھویں کھلاڑی“ بن کر گم نامی کے اندھیروں کی نذر ہوجائیں۔ اس گم نامی سے بچنے کے لئے دوبئی میں PSLرچانے کا فیصلہ ہوا۔
ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ دوبئی میں پاکستان کے نام پر رچائی ”سپرلیگ“ کا اس کے ابتدائی ایام میں میرا سنکی ذہن مذاق اُڑاتا رہا۔ اپنے ہاں کرکٹ کے میدانوں کی مسلسل ویرانی نے مجھے Big Pictureدیکھنے کے قابل نہیں چھوڑاتھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہی یہ دریافت کرپایا کہ پاکستان میں کرکٹ کے ٹیلنٹ کو زندہ رکھنے کے لئے دوبئی میں رچائی PSLکے علاوہ کوئی راستہ ہی موجود نہیں تھا۔ نجم سیٹھی نے ثابت قدمی سے اپنے فیصلے پر ڈٹ کر بالآخر ایک ایسی ٹیم تیار کر ہی لی ہے جس نے اس کھیل کے مہا تجزیہ کاروں کو قطعاََ غلط ثابت کرتے ہوئے انتہائی مشکل حالات میں اپنے لئے جگہ بنالی ہے۔
اتوار کے دن بھارت کے خلاف یہ جیت آسمان سے نہیں ٹپکی۔ پوری لگن سے اپنے امکانات کو یکجا کرتے ہوئے ہمارے لڑکوں نے انگلینڈ جیسی بہت ہی بااعتماد اور دھانسو ٹیم کو بھی سیمی فائنل میں ہرایا تھا۔ میں کرکٹ کو صرف کبھی کبھار ٹی وی سکرین پر دیکھتا ہوں۔ مجھے اس کھیل کی باریکیوں کی ککھ سمجھ نہیں۔ پاکستان نے مگر جب انگلینڈ کو ہرادیا تو میں نے چند دوستوں کے سامنے بڑھک لگادی کہ ہمارے لڑکے اب بھارت کو بھی شکست دینے میں ہر صورت کامیاب ہوجائیں گے۔ میری بڑھک اس کھیل کو بہت توجہ سے دیکھنے والوں کو دیوانے کی بڑ نظر آئی۔ اتوار کے دن البتہ صرف مہارت ہی نہیں دیوانگی بھی جیتی ہے۔ نچلے اور متوسط طبقے سے آئے ہمارے”غلط انگریزی بولنے والے“ تقریباََ نوزائیدہ کھلاڑیوں کی محنت اور لگن کی دیوانگی،جو ہر صورت اپنا ہدف حاصل کرنے کے جنون میں مبتلا ہوچکے تھے۔
میں ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ محض بھارت کو فائنل میں ہرانا ہی اہم بات نہیں۔ اس سے بھی کئی اہم اور گہرے پیغام کی حامل یہ حقیقت بھی ہے کہ بھارت کو یہ شکست انگلینڈ کے ایک تاریخی میدان میں دی گئی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے برطانیہ Globalizationکے عمل سے اُکتایا اور گھبرایا ایک تاریخی بحران سے گزررہا ہے۔ کئی صدیوں تک تقریباََ آدھی دنیا پر راج کرنے والی ”ایمپائر“ خود کو اب صرف اپنی جغرافیائی حدود ہی میں محدود کرنے کے لئے بے چین ہورہی ہے۔ Brexitکے نام پر چلائی مہم کا اصل مقصد درحقیقت برطانیہ کو صرف سفید فام لوگوں کا ملک بنانا تھا جس کی اپنی ”تہذیب“ ہے اور اس ”تہذیب“ کو پاکستان ایسے ”پسماندہ“ ممالک سے آئے پناہ گزین اور تارکین وطن ”تباہ“ کررہے ہیں۔
Brexitکی وجہ سے اپنے معاشرے میں وحشیانہ انداز میں پھیلی تقسیم وتفریق سے نبردآزما ہونے کے لئے برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے قبل از وقت انتخابات کا پنگالیا۔ اسے گماں تھا ان انتخابات کے نتیجے میں وہ قطعی اکثریت کے ساتھ ایک ایسی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے گی جو برطانوی معاشرے کو شکست وریخت سے محفوظ بنانے کے لئے چند سخت اقدامات اٹھاسکے۔
قبل از وقت انتخابات کی بدولت مگر وہ قطعی تو کیا سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرپائی۔ اب اس کی حکومت آئرلینڈ کی ایک ایسی جماعت کی حمایت سے اپنا وجود برقرار رکھنے پر مجبور ہے جو کئی حوالوں سے ”انتہاءپسندانہ “ خیالات اور ”نسلی تعصب“ کا دیوانگی سے پرچار کرتی ہے۔
برطانیہ ہی میں گزشتہ چند مہینوں سے پے درپے ایسے واقعات بھی ہوئے جہاں اسلام کی گمراہ کن تعبیر سے وحشی بنائے دہشت گردوں نے معصوم و بے گناہ افراد کو اپنا نشانہ بنایا۔ ایسے ماحول میں اُنگلیاں اکثر پاکستان کی طرف اٹھتی ہیں جہاں ”طالبان“ ہیں مدارس ہیں۔
برطانیہ ہی میں ہمارے ہاں پھیلی دہشت گردی کی ایک نامور شکار ملالہ یوسف زئی بھی موجود ہے۔اس کی وہاں موجودگی دنیا کو مسلسل یاد دلاتی رہتی ہے کہ پاکستان میں صرف تعلیم حاصل کرنے کی خواہش بھی بچیوں کا جینا حرام کردیتی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے محنتی اور ہونہار لڑکوں نے پہلے انگلینڈ اور بعدازاں بھارت کو کبھی صرف (گورے)Gentlemenسے مختص کھیل میں ہرا کر ایک بہت ہی گہرا اور دور رس پیغام دیا ہے۔ اتوار کے دن پاکستان کی کرکٹ کے فائنل میں جیت میری دانست میں لہذا Soft Messagingکی ایک بہترین مثال ہے۔
میرا وسوسوں بھرا دل اسی لئے جبلی طورپر یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اس میچ میں پاکستان کی کامیابی کے چند ہی گھنٹوں کے بعد ایک متعصب گورا لندن کی Finsburyپارک کی مسجد سے نماز کی ادائیگی کے بعد فٹ پاتھ پر آنے والے مسلمانوں کو اپنی چلائی وین کے ذریعے کچلنے کی خواہش میں مبتلا ہوا۔ اوول کے میدان میں ہماری کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے بارے میں خصوصاََ اور مسلمانوں کے بارے میں عمومی مگر Soft or Positive Messageدیا تھا،اسے یہ جنونی ہضم نہیں کرپایا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *