چیمپینزٹرافی2017 کا سفر

hussain-javed-afroz

ہماری ٹیم بھارت سے کیسے جیت پائے گی ؟ان کی بیٹنگ پاور کا جواب نہیں ۔ہم کبھی بڑے ٹورنامنٹ میں بھارت کو پچھاڑ نہیں سکے ۔پہلے میچ میں بھی تو بھارت نے 124 رنز سے ہرا دیا اب کیا نیا ہوگا ؟ رک جائیے ۔ یہ سب کچھ اٹھارہ جون سے پہلے کا بیانیہ تھا ۔اٹھارہ جون کو اوول کے تاریخی میدان میں جو کچھ ہوا اس نے تاریخ کو بدل کر رکھ دیا ۔بلاشبہ یہ ایک گرینڈ فائنل تھا جس میں 2007 کے ٹی ٹونٹی عالمی کپ کے بعد دونوں روایتی حریف مد مقابل ہوئے ۔پچھلے دس سال کے دوران بدقسمتی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت کم کرکٹ دیکھنے کو ملی ۔اور چیمپینزٹرا فی وہ ایونٹ تھا جس میں پاکستان کو اب تک کامیابی نصیب نہیں ہوئی تھی ۔جبکہ 2017 کی چیمپینزٹرافی کے آغاز میں بھی پاکستان کا آغاز انتہائی مایوس کن تھا ۔جب چار جون کو برمنگھم میں بھارت نے 124 رنز سے پاکستان کو شکست دی ۔اس میچ کے بعد کوچ مکی آرتھر ٹیم پر خوب برسے اور ٹیم میں خوب ڈی بریفنگ ہوئی ۔یہاں سرفراز نے ٹیم کو واضح بتا دیا کہ اب ہر میچ کو آخری سمجھ کر کھیلنا ہوگا ۔اس میچ کے بعد آٹھویں پوزیشن پر براجمان پاکستانی ٹیم نے اگلے ہی میچ میں جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیم کو حسن علی کی تباہ کن باؤلنگ کی بدولت کھدیڑ کر رکھ دیا ۔تاہم ابھی امتحان اور بھی تھے ۔سری لنکا کے خلاف میچ جو ناک آؤٹ کی حیثیت کر چکا تھا اس میں بھی گرین شرٹس نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد کپتان سرفراز کی جرات مند اننگ کے باعث تین وکٹوں سے سری لنکا کو ہرا کرٹورنامنٹ سے خارج کردیا ۔اب ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ چکی تھی اور مدمقابل ٹورنامنٹ کی ہاٹ فیورٹ ٹیم انگلینڈ تھی ۔جو کہ اپنے ہوم کراؤنڈ اور عمدہ کامبی نیشن کے سبب گرین شرٹس کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی ۔لیکن اظہر علی کے 76 رنز اور حسن علی کی عمدہ باؤلنگ نے یہاں بھی انگلینڈ کو شکست دے کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ۔اور اس پر ستم یہ کہ دوسری طرف بھارتی ٹیم بھی بنگلہ دیش کو ہرا کر فائنل میں پہنچ چکی تھی ۔یعنی دونوں روایتی حریف ایک بار آمنے سامنے تھے ۔اور اب یہ جنگ میدان سے پہلے میڈیا کے محاذ پر گرم ہوچکی تھی ۔ٹویٹر پر رشی کپور اور وریندر سیہواگ کے شرمناک ٹویٹس نے بھی فائنل کی حدت میں کئی گنا اضافہ کردیا ۔روشی کپور سے تو کیا شکایت کرنی تھی لیکن سہیواگ کے روئیے پر افسوس جب ہوا۔جب اس نے پاکستانی ٹیم کو روندنے کے دعوے کرنے شروع کردئیے ۔بطور کھلاڑی ایسے بیانات دینا ویرو جیسے کھلاڑی کے شایان شان ہرگز نہیں تھا۔بھارتی صحافی وکرانت کے مطابق اگر بھارت ہار بھی جائیگا تو بھی بھارت میں ٹی وی نہیں توڑیں جائیں گے ۔پاکستان کو بھارت کے خلاف کوئی ٹائٹل فتح حاصل کئے زمانہ ہوگیا ہے ۔لیکن دوسری طرف پاکستانی ٹیم کے کیمپ سے کوئی خبر نہیں آرہی تھی ۔ٹیم مکمل طور پر اوول میں پریکٹس میں مصروف رہی ۔مشہور بھارتی کھلاڑی کپل دیو نے حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ فائنل میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو ایج رہے گا ۔اسی طرح عظیم عمران خان نے بھی گرین شرٹش کو مشورہ دیا کہ پہلے بیٹنگ کر کے ہی پاکستانی باؤلرز ٹیم بلیو کی بیٹنگ پاور کو قابو کرسکیں گے ۔انڈین کھلاڑی بھی انسان ہی ہیں۔ وہ بھی غلطیوں سے مبرا نہیں ہیں ۔فائنل سے قبل سارا بریڈ فورڈ اور ساؤتھ ہال اوول کے میدان میں امڈ آیا تھا ۔ہر طرف ترنگے اور سبز ہلالی پرچم کی بھرمار تھی ۔فضاجیسے نیلے اور سبز رنگ میں رچ بس چکی تھی ۔لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ لندن کا اوول کا میدان ہے ۔یوں لگ رہا تھا کہ جیسے یہ گرینڈ فائنل دلی یا لاہور میں کھیلا جارہا ہے ۔حیرانگی کا عالم اس وقت بن گیا جب ویرات کوہلی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے کھیلنے کی دعوت دے ڈالی ۔حالانکہ لندن کی چمکیلی صبح کی ایک موزوں بیٹنگ وکٹ پر یہ فیصلہ تھوڑا غیر موزوں سا لگا ۔کوہلی کا پلان یہ تھا کہ پاکستانی بیٹنگ لائن کو بمرا اور کمار کے ذریعے جلد زیر کر ٹارگٹ کا پیچھا کیا جائے ۔بنگلہ دیش کے خلاف بھارتی بیٹنگ کی جارحیت شائد کوہلی کے دماغ میں بس چکی تھی ۔جبکہ اب یہ گرین شرٹس کا امتحان تھا کہ ٹیم بلیو کو ایسا ہدف دیں کہ جس کا با آسانی پاکستانی باؤلرز دفاع کر سکیں ۔لیکن یہاں رمیز راجہ کے ایک جادوئی بیان نے گویا پاکستانی شائقین کے جذبات کو اور بھی گرما دیا کہ آج میں اپنے تجربے کے نچوڑ کو بیان کروں گا کہ آج پاکستانی ٹیم وہ نہیں جس کو میں جانتا تھا ۔آج یہ ٹیم کچھ اور ہی روپ دھارے ہوئے ہے ۔اور جس طرح کھلاڑیوں میں جوش اور فتح کی بھوک موجود ہے آج پاکستان ہی فیورٹ ہوگا ۔اور اس کے بعد جو مقابلہ ہوا وہ محض ایک میچ نہیں جیسے ایک دیوملائی داستان کا روپ دھار چکا ہے۔بمرا کی نوبال پر فخر کو چانس ملنا ،فخر اور اظہر علی کی شاندار اوپننگ پارٹنر شپ ،غیر معیاری بھارتی فیلڈنگ اور سب سے بڑھ کر پاکستانی رنز کا ہمالیہ دیکھتے ہوئے ویرات کوہلی کا اترا ہوا چہرہ ،یہ سب کچھ جیسے پاکستان کے حق میں جارہا تھا ۔فخر کی یادگار سنچری ،حفیظ اور ا ظہر کی نصف سنچریوں نے 339 رنز سکور بورڈ پر جڑ دئیے۔اب مضبوط انڈین بیٹنگ لائن کے سامنے ایک کڑا امتحان تھا ۔لیکن یہاں محمد عامر کے تباہ کن اسپیل نے روہت شرما ،شیکھر دھون عرف’’ گبر‘‘ اور ویرات کوہلی کو اس طرح پویلین بھجوایا جیسے تیز ہوا تنکوں کو اڑا لے جائے ۔عامر کے اس مہلک اسپیل کو دیکھ کر وسیم اکرم کی 1992 کی وہ جادوئی گیندیں یاد آ گئی جس پر لیمب اورلوئیس بولڈ ہو گئے تھے ۔اور کچھ ہی دیر میں 90 پر 6 بھارتی وکٹیں گر چکی تھیں ۔پاکستانی کھلاڑیوں کی جارحیت نے بھارتی سورماؤں کو زمین بوس کردیا تھا ۔یوں پاکستانی ٹیم نے چیمپینزٹرافی کے فائنل میں بھارت کو 180 رنز سے ہرا کر نئی تاریخ رقم کر دی ۔اوول کا میدان تیزی سے بلیو شرٹس سے خالی ہونے لگا ۔ہر طرف پاکستانی پرچم لہرا رہے تھے ۔ویرات کوہلی نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ پہلے ہی کہا تھا کہ اپنے دن پر پاکستانی ٹیم کسی کو بھی ہرا سکتی ہے ۔انہوں نے ہمیں ہر شعبے میں مات دی ۔جبکہ سرفراز نے ٹیم اور کوچنگ سٹاف کو فتح کا سبب قرار دیا۔بھارتی میڈیا پر مکمل صف ماتم بچھ چکی تھی اور کئی ٹی وی سیٹ بھی توڑے جا چکے تھے ۔بھارتی سپورٹس صحافی ہرپال سنگھ کے مطابق پاکستان نے ہمیں شکست ہی نہیں دی بلکہ جیسے ہمارے کپڑے اتار پھینکے ہیں۔بھارتی کرکٹ پانچ سال پیچھے چلی گئی ہے ۔سابق بھارتی بلے باز ونود کامبلی کے مطابق پاکستان کے ہاتھوں یہ ہار کبھی فراموش نہیں کی جاسکے گی ۔جبکہ رشی کپور کو بھی اپنا توہین آمیز ٹویٹ واپس لینا پڑا اور پاکستانی ٹیم کو جیت کی مبارکباد دی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنی شدت سے جشن فتح رمضان مبارک کی برکت سے پاکستان اور لندن میں منایا گیا ۔اتنی ہی شدت اور جوش مقبوضہ کشمیر میں بھی دیکھا گیا جہاں کشمیری بھائیوں نے شاندار آتش بازی کر کے پاکستانی ٹیم کو دل کھول کر مبارکباد دی ۔جس پر بھارتی کھلاڑی گوتم گھمبیر کہا ایسے لوگ پاکستان چلیں جائیں اور وہاں پٹاخے پھوڑیں۔بہرحال پاکستان ٹیم کی شاندار فتح پاکستانی قوم کیلئے ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے ۔ اور اس جیت کا کوئی مول نہیں ہے ۔سرفراز الیون نے ساری قوم کو یقینی طور پر عید سے پہلے عید کا تحفہ دے دیا ہے ۔اب یہاں سے حسن علی ،فخر زمان ،شاداب اور کپتان سرفراز نے ایک مضبوط ٹیم کی بنیاد رکھ دی ہے ۔یہاں نجم سیٹھی بھی داد کے مستحق ہیں کہ جن کی کاوشوں سے سجی پاکستان سپر لیگ نے قومی ٹیم کو نیا خون فراہم کیا جس نے تجربہ کار بھارتی ٹیم کو کھدیڑ دیا۔ رمیز راجہنے درست ہی کہا تھا کہ آج پاکستانی ٹیم وہ نہیں ہے جس کو میں جانتا تھا ۔آج یہ ٹیم کچھ اور ہی روپ دھارے ہوئے ہے ۔اور جس طرح کھلاڑیوں میں جوش اور فتح کی بھوک موجود ہے چاہے کچھ بھی ہو، انشا اللہ آج پاکستان ہی فیورٹ ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *