بی بی شہید کی یاد، اعتراف اور احترام میں!

آج 21؍جون 2017ء، بی بی شہید کی 64 ویں سالگرہ کا دن ہے، ان کی یاد، اعتراف اور احترام میں ایک گفتگو!
پہلے اعجاز رضوی مرحوم کی ایک نظم مطالعہ کرتے جائیں!
---oتیز پیجرو رُکے،
تو تیری ایک جھلک کے شیریں پل کو،
آنکھوں کی کالک میں گھولیں،
میلے کپڑوں والے بالک،
اِک دوجے کا ہاتھ پکڑ کے دوڑتے جائیں،
O
---oتیرے سنگ دریدہ دامن،
الجھے بالوں والی مائیں،
اور مناجاتوں میں ساری ساری رات گزارنے والی،
حیرت سے درو دیوار کو تکتی بہنیں،
غربت کے آزار نے جن کے خواب چرائے،
رحل پہ گریں بکھرتے جائیں،
اشکوں کی تسبیح کے دانے،
کب آئیں گے سمے سہانے!
---oہم جو تیرے شہنواز ہیں،
کوئی مہارت نامہ جن کے کام نہ آئی،
قسمت کی پتھریلی گھاٹی میں سارا دن،
بھاری پتھر توڑتے گزرے،
لیکن جوئے شیر نہ پھوٹے ،
حرماں کی زنجیر نہ ٹوٹے،
اور وہ ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں، حرماں کی زنجیریں توڑنے کا جنہوں نے عَلم اٹھایا اور الم سے گزرتے، ایک وھبی کیفیت میں انہوں نے غربت کی تعریف متعین کرتے ہوئے کہا، ’’غربت کا مطلب یہ ہے کہ عین اس وقت جب بچے پروان چڑھنے لگیں، آپ کے بچوں کو آپ سے چھین لیا جائے، آپ کی بیوی کو جلد بوڑھا ہوتے دیکھنے اور آپ کی ماں کی پیٹھ کو زندگی کے بوجھ تلے جھکتا دیکھنے کا نام غربت ہے، کسی گستاخ افسر کے سامنے بے بس ہو جانے یا پھر کسی استحصال کنندہ اور دھوکے باز کے سامنے غیر مسلح کھڑے ہونے کا نام غربت ہے، ’’غربت‘‘ انصاف کے دروازوں پر گھنٹوں کھڑا رہنے اور پھر اندر جانے کی اجازت نہ ملنے کا نام ہے، یہ بھوک، مایوسی، سوگ اور بے اثری کا نام ہے جس میں کسی قسم کا حسن نہیں‘‘، کالم نگار خالد ایچ لودھی شکریے کے سزا وار ٹھہرتے ہیںان کی کاوش سے ذوالفقار علی بھٹو کے نایاب وژن کی ایک اور نایاب جھلک سامنے آئی!
تو بی بی شہید، ان ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی تھیں، یہ پاکستانی قوم کی روح کا ذبیحہ ہے جب اسے غربت کی اس تعریف کے آئینے میں بی بی شہید کا چہرہ بھی نظر آئے، وہ بی بی کو بچے گود میں لئے انصاف کے دروازوں پر گھنٹوں کھڑا دیکھیں، غربت کے بطن سے انسانی توہین کی پیدائش کے خلاف انہوں نے باپ کی جنگ آگے بڑھانے میں زندگی ہار دی،1990ء میں پاکستان کے عوام نے انہیں بطور وزیراعظم پاکستان منتخب کیا، اور 1990ء میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سہ رکنی مقتدرہ نے انہیں اپنی ذاتی ذہنی نقشدمی کی زنجیروں میں جکڑ دیا، یہ سہ رکنی مقتدرہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل پر مشتمل تھی۔
یہ محض ایک مثال ہے، ایک حصہ ان کی جدوجہد کے خلاف مزاحم قوتوں کے ذکر کا، حاصل کے طور پر وہ پیدائش سے شہادت تک، غربت یعنی انسانی توہین کے ہر چہرے پر حملہ آور رہیں، تاآنکہ شہادت سے سرفراز ہوئیں!
O
یہ اسٹیبلشمنٹ کیا ہے؟ کیا اس کا وژنری معیار ہے؟ خود بی بی نے اس کی مثال دیتے ہوئے ایک بار بتایا! ’’دوسری مدت اقتدار کے دوران مجھے سیکورٹی پر بریفنگ دینے کے لئے ایک بار پھر جنرل ہیڈ کوارٹرز میں مدعو کیا گیا۔ ڈائریکٹر ملٹری آپریشن میجر جنرل پرویز مشرف (جو بلا شبہ بعد میں چیف آف آرمی اسٹاف بنے اور اقتدار چھین کر صدر بنے) نے پہلے بریفنگ دی۔ مجھے یہ گھسا پٹا منظر محسوس ہوا کیونکہ ایک مرتبہ پھر میں نے یہ سنا کہ اگر میں احکامات جاری کر دوں تو پاکستان کس طرح سری نگر پر قبضہ کر سکتا ہے۔ مشرف نے اپنی بریفنگ ان الفاظ پر ختم کی، ’’فائر بندی ہو جائے گی اور پاکستان کا مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر پر قبضہ ہو جائے گا‘‘۔ میں نے ان سے استفسار کیا اس کے بعد کیا ہو گا؟ وہ میرے سوال پر حیران ہوئے اور کہا کہ اس کے بعد ہم پاکستان کا جھنڈا سری نگر کی پارلیمنٹ پر لہرا دیں گے۔ پھر کیا ہو گا؟ میں نے جنرل سے پوچھا، اس کے بعد آپ اقوام متحدہ جائیں گی اور انہیں بتائیں گی کہ سری نگر اب پاکستان کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے بعد کیا ہو گا؟ میں نے اصرار جاری رکھا، میں دیکھ سکتی تھی کہ جنرل مشرف اس قسم کے سخت سوالوں کے لئے تیار نہ تھے اور اس صورتحال سے گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا کہ اور ۔ اور آپ انہیں بتائیں گی کہ نئے جغرافیائی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا کا نقشہ بدل دیں گے؟‘‘ کیا ایسا محسوس نہیں ہوتا جیسے وہ شخص کشمیر کو اس موجودہ خطہ ارضی سے علیحدہ کسی خلاکا کوئی جزیرہ سمجھ رہا تھا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ ہرگز لازم نہیں کسی مسئلہ کا مطلوبہ ادراک بھی رکھتی ہو، اسی اسٹیبلشمنٹ نے بی بی شہید کی پوری زندگی انہیں پاکستان کی خدمت نہ کرنے دی مگر شکست کھائی، بدنام ہوئے، ناکام ٹھہرے کہ بی بی شہید نے پاکستان کی خدمت کر کے دکھائی، (عالم اسلام) کی ممتاز ترین شخصیت تسلیم کی گئیں، وہ بین الاقوامی استعارہ بنیں اور آج اسٹیبلشمنٹ کے ان کے کرداروں کے نام سے بھی کوئی آگاہ نہیں۔
یہ بی بی شہید کے پاسنگ بھی نہیں تھے، آپ پھانسی کی کوٹھڑی سے ذوالفقار علی بھٹو کے ایک سندیسے کی چند سطریں ملاحظہ کریں، یہ بات کرتے ہیں۔ ’’میں جو کچھ لکھتا ہوں وہ کمزوریوں سے پُر ہے۔ میں بارہ مہینے سے قید تنہائی میں ہوں اور تین مہینے سے موت کی کوٹھڑی میں ہوں اور تمام سہولتوں سے محروم ہوں، میں نے اس خط کا کافی حصہ ناقابل برداشت گرمی میں اپنی رانوں پہ کاغذ رکھ کر لکھا ہے۔ میرے پاس حوالہ دینے کا کوئی مواد یا لائبریری نہیں ہے۔ میں نے نیلا آسمان بھی شاذونادر ہی دیکھا ہے۔ حوالہ جات ان چند کتابوں سے لئے گئے ہیں جن کو پڑھنے کی اجازت تھی اور ان اخبارات و رسائل سے لئے گئے ہیں جو تم یا تمہاری والدہ اس دم گھونٹنے والی کوٹھڑی میں مجھ سے ہفتہ میں ایک بار ملاقات کرنے کے وقت ساتھ لے کر آتی ہو، میں اپنی خامیوں کے لئے بہانے نہیں تراش رہا ہوں لیکن اس قسم کے جسمانی اور ذہنی حالات میں گرتی ہوئی یادداشت پر بھروسہ کرنا مشکل ہوا کرتا ہے۔ میں پچاس سال کا ہوں اور تمہاری عمر مجھ سے نصف ہے۔ جس وقت تم میری عمر کو پہنچو گی تمہیں عوام کے لئے اس سے دگنی کامیابی حاصل کرنی چاہئے جس قدر کہ میں نے ان کے لئے حاصل کی ہے، یہ غلام مرتضیٰ جو میرا بیٹا اور وارث بھی ہے وہ میرے ساتھ نہیں ہے اور نہ ہی شاہنواز اور صنم میرے ساتھ ہیں۔ میرے ورثے کے حصے کے طور پر اس پیغام میں ان کو بھی شریک کیا جائے۔ امکانات تو بہت زیادہ ہیں، دائو پر بہت کچھ لگا ہوا ہے، میں آنے والی نسل کے لئے ٹینی سن کا مایوس کن لیکن اسی طرح سے آفاقی پیغام چھوڑتا ہوں کہ ’’50سال کی عمر میں میں کیسا ہو جائوں گا اگر قدرت نے مجھے زندہ رکھا جبکہ اس پچپن سال کی عمر میں دنیا کو اس قدر تلخ پاتا ہوں‘‘۔دونوں خطوط اپنے اپنے وقت کے تناظر میں دیکھیں، کیا اس حیرت زا فطانت و بصیرت کی شخصیت کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے وہ عناصر مرعوب و متاثر کر سکتے تھے جنہیں تاریخ سے کبھی اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی اجازت ہی نہیں دی؟ پاکستان کی ساری تاریخ میں نیکی کے آسیبوں اور سفید پوش طاقتوروں کی مقدس نفس پرستیوں کے ملبے تلے انسانیت روندی گئی، رسوا ہوئی، اس کی تدفین کر دی گئی، معلوم نہیں وہ لوگ کون ہیں جو ان قرضوں کی ادائیگی کی بات کرتے ہیں جو واجب الادا بھی نہیں ہیں۔ یہاں پاکستان میں تو صرف ایک قومی ذریت نے قرضے چکائے، اس کا نام ہے ’’بھٹو خاندان‘‘ بی بی کی یاد، اعتراف اور احترام ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *