یہ کوئی اور بھٹو ہے

arshad sulehri.

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی مختصر دستاویزی فلم کی خبر پاکستان میں شاکنگ سٹوری کے طور نشر ہوئی ۔ مجموعی طور پر بھٹو جونیئر کے کرادر کو شرمناک قرار دیا جا رہا ہے۔ وڈیو کے بارے میں حاصل کردہ آراء میں زیادہ تر افراد نے تنقید کی اور کہا کہ بھٹو جونیئر کا یہ زنانہ پن ہے ۔ جس کا انہوں نے اظہار کیا ہے۔ گے ہے۔ ہم جنس پرست ہے۔ کئی نے گلی گلوچ سے بھی نوازا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا پوتا ہے اور کرتوت دیکھو کیسے ہیں۔ اکثر نے اسلام مخالف مہم کا حصہ ہونے کا الزام بھی لگایا ۔ یہ بھی کہا کہ میڈیکل فالٹ ہے۔وڈیو کے منظر عام آنے کے بعد سے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور لکھا جا رہا ہے۔ بہت سے لکھنے والوں نے تعریف کی ہے۔جاری کردہ دستاویزی فلم کو ایک کارنامے کی طرح پیش کیا ہے۔ کچھ نے صحت مند کوشش سے تعبیر کیا ہے۔ بعض نے ہلکی پھلکی تنقید کی ہے۔ تاہم شوشل میڈیا میں زیادہ تر کی رائے ہے کہ منڈا ٹھیک نہیں ہے۔ بات کسی حد تک درست ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے نہ صرف اپنی خاندانی روایت سے ہٹ کر قدم اٹھا یا ہے بلکہ پاکستان کی سیاسی و سماجی روایات سے بھی روگرانی کی ہے۔ پاکستان کے عوام کی سوچ کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کو بلاول بھٹو زرداری کے مقابل اصلی بھٹو کے روپ میں موجود ہونا چاہیے تھا۔ اپنی ماں غنویٰ بھٹو کے ساتھ پیپلزپارٹی شہید بھٹو کی باگ ڈور سنبھالنی چاہیے تھی۔

oo

سینہ تان کر ، مکا لہرا کر اپنے باپ ، دا دا ، چچا اور پھو پھو کے قاتلوں اور مخالفین کو للکار نا چاہیے تھا۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے تو اپنی جون ہی بدل لی ۔ ایک زنانے اور زنخے کے روپ میں ڈھمکے لگاتے ، سلائی کڑھائی کرتے انٹری دی ہے۔ یہ بھٹو کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ بھٹو نہیں ہے اور نہ ہی بھٹو کا خون ہے۔ یہ سچ ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر وہ بھٹو نہیں ہے۔ جن سے گڑھی خدا بخش کا قبرستان آباد ہے۔ یہ ایک اور بھٹو ہے۔ جو نفرتوں ، رنجشوں ، قتل و غارت گری ، تعصب ، انتقام اور مرد کی وحشت ناک مردانگی کے خلاف محبت ، امن اور انسانیت کے پھول لیکر میدان عمل میں نکلا ہے۔ یہ اور بھٹو ہے ۔ جو پاکستان کے ان انسانوں کی بات کرتا ہے ۔ جنہیں انسان سمجھنے کیلئے انسان ہی تیار نہیں ہے۔ جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی کسی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔ جن کی نماز جنازہ بھی عام لوگ پڑھنا مناسب نہیں سمجھتے ہیں۔ یہ ایک اور بھٹو ہے۔ جس نے ایک بڑے سیاسی خاندان کی میراث کو ٹھکرا کر اپنی ذات کی قربانی دی ہے۔ بڑے بڑے پھن پھیلائے مردوں کی منافقت کے منہ پر زور دار طمانچہ مارا ہے۔ جو رات کی تاریکی میں اور اپنے خلوت خانوں میں معصوم کلیوں کو مسلتے ہیں ۔ جن کے دامن پرکئی کنواری عصمتوں کو تار تار کرنے کے داغ ہیں۔ جن کی مرادنگی محض ناف کے نیچے سے شروع ہوتی ہے۔ یہ ایک اور بھٹو ہے۔ جس نے باور کرایا ہے کہ حوا کی پیدائش حضرت آدم کی پسلی سے ہوتی ہے۔ جس نے امن و محبت کے پیامبر بلھے شاہ ، مادھو لال حسین کی طریقت کو زندہ کیا ہے۔جس نے پاکستان میں جاری عقائد ، فرقہ وارانہ جنگ اور دہشت گردی کے مقابل پیار کی شمع روشن کی ہے۔ مرد کی مردانگی یہی نہیں کہ وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے ۔ مرد کی مرادنگی محبت کے اظہار میں بھی پوشیدہ ہے۔ مرد کی مردانگی میں ماں کا پیار بھی ہوتاہے۔ ہاں یہ ایک اور بھٹو ہے ۔ جس نے اپنے لئے انسانیت ، محبت ، امن اور انسانی برابری کی راہ کا انتخاب کیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *