اقتدار اور کرپشن کی دھوپ چھاؤں 

khalid mehmood rasool

محاورے کی حد تک کچھ یوں کہا جاتا ہے کہ اقتدار کے ذریعے کرپشن در آتی ہے، اور اگر یہ اقتدار کلّی ہو تو کرپشن میں بھی یہی رجحان در آتا ہے۔ معاشی ترقی کے ضمن میں بھی ایک قول کچھ یوں ہے کہ تیز تر ترقی کے دوران کہیں نہ کہیں کرپشن لازماٌ اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ گذشتہ چند دِہائیوں میں ایشائی ٹائیگرز کے ہاں جوں جوں ترقی کی محیر العقول داستانیں عام ہوئیں، توں توں کرپشن کی داستانیں بھی عام ہوئیں۔ اکثر معیشت دانوں اور سماجیات کے ماہرین نے اسی قول کا سہارا لے کر یقین دِلانے کی کوشش کی کہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے کے دوران تھوڑی بہت کرپشن اس تیز تر ترقی کا سائیڈ ایفیکٹ ہے جِسے برداشت کر لینے میں ہرج نہیں۔
ایسےٌ اقوالِ زریں ٌ دورانِ ترقی تو لوگ باگ سن لیتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کر لیتے ہیں لیکن خوشحالی کی دہلیز پار کر لینے کے بعد ان کی برداشت جواب دے جاتی ہے۔ شفافیت، اظہارِ رائے کی آزادی اور ہیومن رائیٹس زندگی میں اہم ہونے لگتے ہیں۔ جنوبی کوریا نے مثالی ترقی کی لیکن ترقی کی تیسری دِہائی میں انہوں نے اپنے دو صدور کو کرپشن کے الزام میں کٹہرے میں لا کھڑا کیا اور سزا دلوائی۔ ایک سابق وزیرِ اعظم پر کرپشن کی تحقیقات نے ان دہلیز پر پاؤں رکھا تو موصوف نے خود کشی کو ترجیح دی۔ ابھی حال ہی میں کوریا میں ایک حاضر صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک بالآخر ان کی برطرفی اور بعد ازاں گرفتاری پر منتج ہوئی۔ ہانگ کانگ میں بھی چین کو حوالگی کے بعد سیاسی آزادیوں اور چین کے اثر و نفوذ کے خلاف بار بار آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ تائیوان، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی حالیہ سالوں میں خوشحالی دامن میں بھر لینے کے بعد کرپشن کے بارے میں عوام کی برداشت جواب دے رہی ہے۔
اکثرایسے ممالک میں میڈیا پر ایک حد تک سرکاری کنٹرول نے ماضی میں معاملات کو سنبھالے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن انٹرنیٹ، عالمی میڈیا کی موبائل فون سے آسان رسائی اور حالیہ سالوں میں سوشل میڈیا کی مقبولیت نے ان پابندیوں کو پگھلا کر رکھ دیا ہے۔ اب فیس بک، ٹویٹر اور قسم ہا قسم کی دیگر ایپس نے منظر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں کرپشن ، اقربا پروری اور ہیومن رائیٹس کی خلاف ورزی پل میں زمانے بھر میں نشر ہو جاتی ہے۔ اس رجحان سے ان ممالک میں بھی اختلاف اور تنقید کی آوازیں اٹھنا معمول بن رہی ہیں جہاں قانون اور نظام ایسی آوازوں کو ماضی میں دبانے میں انتہائی مستعد اور چوکس رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں سنگاپور میں ایسے ہی انہونے مناظر پبلک کے عین سامنے زیرِ بحث آئے تو سب اپنے پرائے چونکے۔ سنگا پور کے بانی وزیر اعظم نے اپنے سیاسی مخالفین کو ہمیشہ سختی سے دبایا۔جس کسی نے لی کوآن یو کی اتھارٹی کو چیلنج کیا یا مزید سیاسی آزادیوں کی مہم چلائی، انہیں مقدمات اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ 2004 سے ان کے صاحبزادے وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے مخالفین اور ناقدین کو ہمیشہ آہنی ہاتھوں سے نمٹا۔ Lee Hein Loong نے وال اسٹریٹ جرنل اخبار جو نیو ئارک ٹائمز کی ملکیت ہے اور فنانشل ٹائمز کو بھی ان پر تنقید کے نتیجے میں قانون کے شکنجے میں کسا۔ کئی ایک بلاگرز تو خیر آسان شکار تھے لیکن اب جو مشکل وارد ہوئی ہے وہ اس آسانی سے ٹلنے پر آمادہ نہیں۔ اس بار ناقد کوئی سر پھرا سیاسی یا ہیومن رائٹس تحریکی نہیں بلکہ ان کا اپنا سگا بھائی اور بہن ہیں۔ جس بانی ءِ قوم لی کوآن یو سے تعلق کی وجہ سے موجودہ وزیر اعظم لی ہِین لونگ آج وزیرِ اعظم ہیں، اسی شخصیت سے ان کا بھی یہی رشتہ ہے ۔
بانی وزیراعظم لی کوآن یو کے تین بچے ہیں۔ موجودہ وزیراعظم سب سے بڑے ہیں اور جواں عمری ہی میں انہیں لی کوآن یو کے جانشین کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور ان کی شخصیت کی نشو و نما بھی کچھ اسی ڈھب سے ہوئی۔ یہ کیمبرج اور ہارورڈ یونی ورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ہیں۔ 2004 سے ملک کے وزیراعظم ہیں اور اس سے قبل کئی سال کابینہ کے ممبر رہے۔ ان کے ایک بھائی سول ایوی ایشن میں اعلیٰ عہدیدار ہیں اور بہن ایک معروف سرجن ڈاکٹر۔
لی کوآن یو دو سال قبل فوت ہوئے تو ایک نہایت ہی مرکزی جگہ پر ان کے گھر کی ملکیت پر بہن بھائیوں میں تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا۔ بظاہر گھر کا تنازع تھا لیکن اب اس میں کئی دیگر الزامات بھی شامل ہو گئے ہیں۔ دونوں چھوٹے بہن بھائی کا اصرار ہے کہ ان کے والد کی واضح وصیت تھی کہ ان کی وفات کے بعد یہ گھر مسمار کر دیا جائے تاکہ اس گھر کو میوزیم یا کسی یاد گار کی شکل نہ دی جا سکے۔ مقصد یہ تھا کہ شخصیت پرستی کی آڑ میں ان کا خاندان اس کا سیاسی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم اس مکان کے انہدام کے حق میں نہیں۔ بات یہاں تک رہتی تو بھی خاندان کے اند رہتی لیکن ان کے چھوٹے بھائی اور بہن نے ان پر دیگر سنگین الزامات بھی لگائے ہیں جس نے سنگاپور کی گورننس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بہن بھائی کا الزام ہے کہ ان کے وزیر اعظم بھائی سیاسی طور پر طاقت اپنے خاندان میں جمع کر رہے ہیں۔ ان کی بیوی کارِ سرکار میں دخیل رہتی ہیں ۔ حکومت کے سب سے بڑے سرمایہ کاری ادارے کی وہ خود سربراہ ہیں۔ اپنے صاحب زادے کو وزیر اعظم اپنے جانشین کے طور پر تیار کر رہے ہیں۔ دونوں بہن بھائی کا لزام ہے کہ انہیں اپنے بھائی کی طرف سے ہمہ وقت نگرانی کا سامنا ہے جس کے سبب ان کے بھائی نے سول ایوی ایشن سے مستعفی ہو کر ملک چھورنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اس قدر سنگین الزامات ہیں کہ سنگاپور کی عمدہ گورننس کو دنیا بھر میں ٹھیس لگی ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا میں حکمران خاندان کے درمیان تنازعے کو شہ سرخیوں میں جگہ ملی۔
سنگاپور کے وزیراعظم نے ایک ویڈیو پیغام میں ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے سنگاپور کے عوام سے معافی مانگی ہے کہ ان کے خاندانی جھگڑے کی وجہ سے انہیں تکلیف اور شرمندگی کا سامنا کر نا پڑا ہے۔ انہوں نے اپنا موقف بتانے کے بعد وعدہ کیا کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ کے اجلاس میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اوپن تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائے گی۔ہمارے کچھ دوستوں نے اس ویڈیو کو اس نوٹ کے ساتھ شیئر کیا کہ دیکھیں، یہ ہوتا ہے ترقی یافتہ ملک کی قیادت کا انداز ۔اِدھر الزام لگا ا’دھر وزیراعظم معافی کے طلبگار ہوئے اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے صاف اور براہِ راست تحقیقات پر آمادہ ہوئے۔ اس انداز کو بہت سے یار لوگوں نے پانامہ لیکس پر تحقیقات کے ساتھ جوڑا اور اسکا تقابل کیا کہ کس طرح ہمارے ہاں تحقیقات سے گریز کیا گیا۔ اب اگر بعد از خرابی ء بسیار جے آئی ٹی کے ذریعے اعلیٰ عدالت کسی نتیجے پر پہنچنے کے لئے کمر بستہ ہے تو بقول ان احباب کے انصاف اور تحقیقات کی راہ میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔
ہمیں اس پہلو سے تو اتفاق ہے کہ وزیر اعظم سنگاپور نے اپنے ملک کے امیج اور مفاد پر ایک گھریلو جھگڑے کے ضرر رساں اثرات کی عوام سے معافی مانگی اور اوپن تحقیقات کا فوراٌ وعدہ کیا۔ لیکن اس بظاہر نہایت معذرت خواہانہ اور مودب پیغام کی دو سال کی طوالت کے بعد نوبت ہی نہ آتی اگر موصوف اپنے آبائی گھر کو یادگاری شکل دے کر اپنے والد کی سیاسی وراثت کی نشانی کے طور پر وصیت کے برخلاف استعمال پر بضد نہ ہوتے۔ مزید یہ کہ ان کی بیوی اگر حکومت کے سب سے بڑے سرمایہ کاری فنڈ کی سربراہی نہ کر رہی ہوتیں، سرکاری امور میں بظاہر انکی مداخلت واضح نہ ہوتی اور اپنے بیٹے کو وہ سیاسی جانشین بنانے کے لئے کمال ہوشیاری سے تیار نہ کر رہے ہوتے تو اس رضاکارانہ معافی اور کھلے عام تحقیقات کی بات میں وزن ہوتا۔ لیکن ساقی پر یہی تو الزام ہے کہ اس نے چابکدستی سے کچھ ملا دیا ہے جام میں۔ اور ۔۔۔ یہاں بھی کچھ اس سے ملتے جلتے الزامات ہیں، سو اسقدر جلد اور لمحاتی جذباتیت کی رو میں بہہ کر دوسروں کی توصیف اور خود کو حقیر سمجھنے پر اصرار مناسب نہیں۔ وقت کو موقع دیں اور اس کا بہاؤ دیکھیں کہ کیا ظہور میں آتا ہے، یہاں بھی اور سنگا پور میں بھی ۔ ایک بات البتہ ضرور واضح ہو رہی ہے کہ اقتدار جہاں بھی ہو ، اسکے ہوتے ہوئے کرپشن کسی نہ کسی شکل میں در آتی ہے اور اگر یہ اقتدار ہمہ جہتی اور ہمیشگی پر کمر بستہ ہو تو کرپشن میں بھی یہی رجحان در آتا ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *