ڈسکو اور ڈکٹیٹر

بشکریہ: ڈان

nadeem-f-paracha

ضیاء الحق کی ڈکٹیٹر شپ کے پاکستان کے سماجی، ثقافتی اور سیاسی حالات پر اثرات کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اور زیادہ تر چیزیں جو آ پ نے اس دور کے بارے میں سنی ہیں و ہ سچائی پر مبنی ہیں۔ لیکن جب بات آرٹ اور خاص طور پر موسیقی کی ہو تو ان کی ڈکٹیٹر شپ ایک مضحکہ خیز صورتحال کی عکاس نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر اگرچہ ضیاء کی ڈکٹیٹر شپ کے دوران پاپ میوزک گانا اور سننا ممنوع سمجھا جاتا تھا لیکن سچ یہ ہے کہ ٹی وی اور ریڈیو پر موسیقی کی نشریات پر کبھی بھی مکمل پابندی نہیں لگائی گئی۔

80 کی دہائی میں دوسرے اسلامی ممالک کے بر عکس پاکستان میں موسیقی سے لگاو بڑھتا رہا لیکن پاپ میوزک سمیت موسیقی کی بہت سی اقسام مشکلات کے باوجود اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب رہیں۔ اگرچہ ضیاء اپنے آپ کو اسلامی شخصیت قرار دیتے تھے لیکن وہ اپنے نظریات عوام تک پہنچانے کےلیے موسیقی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

ڈکٹیٹر شپ کے دوران فوک اور نیشنل سانگ علاقائی اور مغربی آلات کی مدد سے تیار کیے جاتے اور ریڈیو اور ٹی وی پر نشر کیے جاتے۔ لیکن ان گانوں اور نغموں میں ایمان، خاندانی اقدار اور ریاستی اداروں کے گن گائے جاتے تھے۔ حکومت کے قدامت پسند رویہ کی وجہ سے پاپ میوزک کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا ۔ اگرچہ کچھ گانوں پر پابندی ضرور لگائی گئی تھی۔ عالم گیر اور محمد علی شہکی جیسے پاپ سنگرز کو ٹی وی پر بہت وقت دیا گیا۔ لیکن حکومت نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو حکم دیا کہ نئے اور جدید پاپ سنگر نازیہ اور زوہیب کے گانے نشر نہ کیے جائیں۔ نازیہ اور زوہیب نے اس وقت اردو ڈسکو البم 'ڈسکو دیوانے' کے ذریعے ملک بھر میں دھوم مچا رکھی تھی۔ یہ البم لندن میں ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس میں پاکستانی اور بھارتی فلموں کی کلاسک بیٹس شامل کی گئی تھیں۔

Image result for nazia and zohaib hassan

یہ البم پاکستان میں بہت مشہور ہوا۔ نوجوان ریڈیو پاکستان سے بار بار یہ گانا سنانے کی درخواست کرتے اور ٹی وی پر بھی دن میں ایک دو بار اس گانے کی ویڈیو دکھائی جاتی تھی۔ لیکن جب ضیا کی مجلس شوری کے ایک ممبر نے البم کے ٹائٹل سانگ کی ویڈیو دیکھی تو اس نے ضیا ء سے شکایت کی کہ پی ٹی وی حکومت کی اسلامی اقدار کا مذاق اڑا رہا ہے اور نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ ضیاء نے ڈسکو ٹیم پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی۔ چونکہ اس وقت کے موسیقاروں کو ریاستی میڈیا کے ذریعے ہی کوریج مل سکتی تھی اس لیے اس جوڑے کے والدین نے راجہ ظفر الحق جو اس وقت وزیر اطلاعات تھے سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔

بہت کوششوں کے بعد نازیہ حسن اور ذوہیب حسن کو ضیا ء الحق سے ہی ملنے کا موقع مل گیا۔ دونوں نوجوانوں کواسلام آباد کے صدارتی محل میں بلا لیا جہاں پی ٹی وی کے کیمرہ کے سامنے ان کی ملاقات ہوئی اور وہاں صدر نے انہیں پاکستانی اور مسلمان ہونے پر ایک بڑا لیکچر دیا۔ بہت جلد ان پر پابندی ختم کر دی گئی۔ مذہبی پروگرامز کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی پر پاپ میوزک اکثر نشر ہوتا رہا۔ لیکن اس کے لیے کچھ شرائط اور اصول وضع کیے گئے تھے جن کے مطابق گانے میں ڈانس دکھانے کی اجازت نہیں تھی نہ ہی مرد اور عورت کی جسمانی اعضا کو چھونے کا عمل دکھایا جا سکتا تھا۔ سنگرز کو مغربی لباس اور خاص طور پر جینز پہننے سے بھی باز رکھا گیا۔

ضیاء دور میں اس معاملے میں عجیب صورتحال بار بار پیدا ہوتی رہی۔1986، 87 کے ری ایکشنری دور میں بھی ملک میں شہری پاپ میوزک کے کچھ نمونے دیکھنے کو ملے۔دل دل پاکستان والے گانے میں بھی ماڈرن لباس میں ملبوس گائیکوں نے حصہ لیا اور اپنے گروپ کو انہوں نے وائٹل سائن کا نام دیا۔ ضیاء ایک بہت متجسس قسم کے انسان تھے۔ اگرچہ وہ آرٹ کے ماسٹر اور طاقت کےلیے مذہب کا استعمال کرنے کے ماہر تھے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو کنوینشنل مولوی قرار نہیں دلوانا چاہتے تھے۔ پی ٹی وی کے سابقہ جنرل مینیجر برہان الدین مرحوم نے اپنی 2003 میں شائع ہونے والی کتاب میں لکھا ہے کہ بہت سے مواقع پر ضیا کو مذہبی حضرات نے داڑھی رکھنے کا مشورہ دیا لیکن انہوں نے اس مشورہ پر کبھی عمل نہیں کیا۔ برہان الدین کے مطابق ضیا ء ٹی وی دیکھنے کے بھی بہت شوقین تھے۔Related image

شعیب منصور جو فلم اور ٹی وی ڈائریکٹر ہیں اور مشہور ٹی وی ڈرامہ ففٹی ففٹی کےہدایتکار ہیں نے ایک انٹرویو میں  بتایا کہ ضیا انہیں ان کے شو دیکھ کر بلا کر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ضیا ء اکثر انہیں فون کرنے لگے اور ففٹی ففٹی کی ٹیم کو ایسا لگنے لگا جیسے ضیاء نے پورا دن ٹی وی کے سامنے گزارا ہے۔ ضیاء حسینہ معین ٹی وی ڈرامہ 'ان کہی' کے بھی بہت بڑے مداح تھے ۔ لیکن جب انہوں نے سیریل کے پروڈیوسر محسن علی کو بلایا اور انہیں مشورہ دیا ڈرامہ کے سارے کردار شلوار قمیض میں پیش کیے جائیں اور صرف برے کردار کرنے والوں کو مغربی لباس پہنایا جائے۔ اگر آپ آج یو ٹیوب یا ڈی وی ڈی پر وہ ڈرامہ دیکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ تمام مرد انہ کرداروں نے شروع کی اقساط میں مغربی لباس پہنا لیکن بعد میں وہ شلوار قمیض میں نظر آنے لگے۔

جب سیریل کے پروڈیوسر اور ایکٹرز نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا تو ضیا نے فیصلہ واپس لیتے ہوئے 'اچھے لوگوں' کو مغربی لباس پہننے کی اجازت دے دی۔ لیکن انہوں نے پی ٹی وی پر خواتین کو ساڑھی پہننے سے منع کر دیا۔


courtesy:http://www.dawn.com/news/1342639/smokers-corner-disco-and-the-dictator?preview

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *