تحریک صوبہ پوٹھوہار کی نئی آواز

arshad sulehri.

آبادی کے بڑھنے سے مسائل میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ مسائل کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔جس سے بے روزگار ی اور غربت عفریت کی طر ح پھیل رہی ہے۔ دہشت گردی اور امن عامہ کے مسائل الگ ہیں ۔ملک کی جغرافیائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو آبادی کے لحاظ سے ملکی تقسیم سے بھی مشکلات ہیں۔ انتظامی یونٹس بالخصوص پنجاب ایک بہت بڑی صوبائی اکائی ہے۔ جس میں کم ازکم دو مزید انتظامی یونٹس کی گنجائش موجود ہے۔ جنوبی پنجاب اور شمالی پنجاب نئے یونٹ کیلئے اپنی ہیت اور طرز بود و باش کی مناسبت سے الگ تھلگ شناخت کے حامل ہیں ۔ خطہ پوٹھوہار جغرافیائی ، لسانی اور ثقافتی طور ایک الگ اکائی ہے ۔اسی طرح جنوبی پنجاب بھی ایک اکائی کے طور پر پہچان رکھتا ہے۔ وہاں کے عوام بھی ایک الگ صوبے کی مانگ کر رہے ہیں۔ کے پی کے میں ہزارہ جبکہ سندھ میں کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی بات کی جاتی ہے۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کو انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی بات کرنی چاہیے ۔ اگر خطہ پوٹھوہار کی بات کی جائے تو ہر پہلو سے خطے کی علاقائی ، ثقافتی ، لسانی اور مسائل کے حوالے سے حیثیت ایسی ہے کہ پوٹھوہار دھرتی صوبے کی تمام شرائظ پوری کرتی ہے جبکہ دوسری جانب خطہ کے عوام اس امر سے بھی نالاں ہیں کہ وسائل کامرکز لاہور ہے۔ زیادہ ترقیاتی کام وسطی پنجاب میں ہوتے ہیں۔ حکمران طبقہ خطہ پوٹھوہار کو نظر انداز کرتا ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں پوٹھوہار کا کوٹہ وسظی پنجاب لے جاتا ہے اور پوٹھوہار کے عوام سرکاری ملازمتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ پنجاب کے حالیہ بجٹ میں ترقیاتی بجٹ میں جاری کردہ ترقیاتی سیکیموں اور منصوبوں میں خطہ پوٹھوہار کیلئے کوئی قابل ذکر منصوبہ نہیں رکھا گیا ہے۔ افسوس ناک امر ہے کہ کئی شروع کردہ منصوبے ادھورے پڑے ہیں ۔ پنجاب اسمبلی میں خطے کی نمائندگی مناسب نہ ہونے کے باعث ارکان اسمبلی اپنے علاقے کیلئے ترقیاتی کام منظور نہیں کراوا سکتے ہیں اور نہ ہی خطے کی پسماندگی پر موثر آواز اٹھانے کے قابل ہیں۔ خطہ پوٹھوہار میں پینے کا صاف پانی ایک سنگین مسلہ ہے۔ صاف پانی کی فراہمی کے لئے ایک منصوبہ شروع کیا گیا تھا لیکن منصوبہ آج تک ادھورا پڑا ہے۔ رنگ روڈ کے منصوبے پر بھی کئی سروے ہوچکے ہیں لیکن بات آگے نہیں بڑی ہے۔ عوامی مفاد کا ایک بھی میگا پراجیکٹ خطے کو نہیں دیا گیا ہے۔ایسے ہی کئی دوسرے عوامل ہیں جو تحریک صوبہ پوٹھوہار کو مہمیز کرتے ہیں کہ الگ انتظامی یونٹ بننے سے کئی مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ خطہ پوٹھوہار کے حقوق کی آواز بلند کرنے والے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ اعجاز کا کہنا ہے کہ خطے میں اکنامک زون کا اعلان ہوا لیکن لاہور کی اشرافیہ نے نہیں بننے دیا۔
معدنی وسائل سمیت پنجاب کا پورا بجٹ لاہور ہڑپ کر جاتا ہے۔ علاقے میں کوئی زرعی اور آبپاشی نظام نہیں نہیں بنایا گیا ہے۔ پوٹھوہار کا تاریخی ورثہ تباہ کیا جارہا ہے۔ لاہوری حکمران ہمیں پتھر کے زمانے میں دھکیل رہے ہیں ۔ ہم پوٹھوہاری صوبہ مانگ کر کوئی جرم نہیں کر رہے ہیں ۔ راجہ اعجاز کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبے کی مانگ کرنا ان قانونی حق ہے۔ہم انتظامی بنیادوں پر صوبہ بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ ہم لاہور کے رحم و کرم پر نہیں رہ سکتے ہیں ۔ وسظی پنجاب کی شاہی سوچ اور خطہ کو مسلسل نظر انداز کیے جانے بعد خطے میں احساس محرومی پیدا ہوا ہے۔ علاقے کے عوام میں اس بات کا احساس مزید گہرا ہوا ہے۔ خطہ پوٹھوہار کو صوبہ بنایا جائے ۔ پوٹھوہاری عوام کو حق حکمرانی دیا جائے تاکہ وہ اپنی قسمت کے خود فیصلے کریں اور خود مالک ہوں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *