بچوں کے ادب کا بڑا ادیب

علی اکمل تصور
ali akmal tasawar
" میں نے اپنی جیب میں کھرے سکے ڈالے تھے۔جب نکالے تو سب کے سب کھوٹے نکلے۔۔۔۔،،
جانے یہ کس کا قول ہے۔۔۔؟
جانے یہ کس دل جلے کے دکھتے دل کی فریاد ہے۔۔۔،،
مگر میں اتنا سمجھتا ہوں کہ مجھ سمیت ہر " دل والا،، اس " درد،، کو اپنے ساتھ لئے پھرتا ہے ۔مجھے جب بھی یہ قول یاد آتا ہے ۔تو فوراً مجھے "سر جی،، یاد آ جاتے ہیں ۔یہ سر جی کون ہیں۔۔۔؟
جی ہاں ۔۔۔میرے اور آپ سب کے پیارے ۔۔۔انسپکٹر احمد عدنان طارق صاحب۔۔۔۔میں انہیں پیار سے سر جی کہہ کر ہی پکارتا ہوں۔
ان دنوں نذیر انبالوی صاحب ماہنامہ تعلیم و تربیت کے ایڈیٹر تھے۔میں نے تعلیم وتربیت میں ایک کہانی دیکھی۔کہانی کے ساتھ انبالوی صاحب نے لکھنے والے کا مختصر سا تعارف بھی دیا تھا۔یہ ایک  پولیس انسپکٹر تھے۔اور ان کی یہ کہانی ایک سچ بیانی تھی۔ایک ایسا اندھا کیس۔۔۔جو انہوں نے حل کیا تھا ۔مجھے اے حمید کی" زرتاش مشن ،،یاد آ گئی ۔اس سیریز میں مرکزی کردار ماضی میں جا کر اندھے جرائم کی فائل کیس مکمل کرتا تھا ۔اس پہلی کہانی کے ساتھ ہی سر جی میری نظر میں آ چکے تھے ۔پھر وہ اچانک ہی منظر سے غائب ہو گئے ۔پھر وقت کی آندھی چلی۔انبالوی صاحب تعلیم وتربیت سے رخصت ہوئے ۔تو ان کے ساتھ ہی میں بھی منظر سے غائب ہو گیا ۔
عجیب داستاں ہے یہ۔۔۔
کہاں شروع کہاں ختم ۔۔۔
یہ منزلیں ہیں کون سی ۔۔۔
نا تم سمجھ سکے نا ہم۔۔۔
adnan-tariq
نئی انتظامیہ کے ساتھ چند غلط فہمیاں تھیں ۔جو دور نا ہو سکیں ۔ان دنوں ویسے بھی میں گردش ایام کا شکار تھا ۔تو میں نے بچوں کا ادب سے اپنا بستر گول کرنا ہی بہتر سمجھا۔مجھے کہہ لینے دیجئے ۔بچوں کا ادب ایک پراسرار دنیا ہے۔یہاں پس پردہ  منظر کے پیچھے وہی عالم ہے۔
گندا ہے پر دھندا ہے۔۔۔۔
اس دھندے نے وضو غارت کر دیا ہے ۔جب وضو ہی قائم نا ہو ۔تو عبادت بھی قبول نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بچوں کا ادب تنزلی کا شکار ہے ۔جو توانائی تخلیق میں صرف ہونی چاہیئے ۔وہ محاذ آرائی میں خرچ ہو جاتی ہے ۔اس بات کی مثال کچھ یوں ہے ۔
نالے بابا رات رہ گیا ۔۔۔
نالے دے گیا دوانی کھوٹی۔۔۔
گستاخی معاف۔۔۔مگر یہ رمز کی بات ہے۔نا چاہتے ہوئے بھی لکھنا پڑی۔
اگلے دو سال تک میں لمبی تان کر سوتا رہا۔۔۔سوتا رہا۔۔۔سوتا رہا ۔ایسے میں ماہنامہ پکھیرو کے ایڈیٹر اشرف سہیل صاحب نے مجھے جھنجھوڑ کر اٹھا دیا ۔
" اٹھ جوانا۔۔۔پینڈا باقی اے۔۔۔،،
میں نے پھر سے قلم تھام لیا۔تعلیم و تربیت میں واپسی ہوئی ۔تو ایک نام دیکھ کر میں چونک پڑا۔
یہ انسپکٹر احمد عدنان طارق صاحب تھے ۔نام وہی تھا ۔مگر ان کے لکھنے کا انداز بدل چکا تھا ۔اب ان کے کردار بونے تھے ۔۔۔پریاں تھیں ۔۔۔ایک ایسی طلسمی دنیا ۔۔۔جو بچوں کو خوابوں میں نظر آتی ہے ۔میرے دوستوں کے ساتھ رابطے شروع ہوئے ۔تو انکشاف ہوا کہ یہاں تو  ادبی دنیا سر جی کے خلاف ہے ۔وجہ کا بھی علم ہوا۔سر جی بین الاقوامی ادب ترجمہ کرتے ہیں ۔۔۔۔مخالفین کے مطابق وہ حوالہ نہیں دیتے ۔اور یہ چوری ہے۔
ایسے میں مجھے میرا پیارا دوست ادریس قریشی بہت یاد آیا ۔1993 دعوة اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ۔۔۔تربیتی کیمپ ۔۔۔ادریس قریشی نے مجھ سے کہا تھا ۔
" بچوں کو اچھی کہانی سے مطلب ہوتا ہے ۔وہ تو لکھنے والے کا نام تک نہیں پڑھتے ۔۔۔،،
اگر ادریس قریشی کی بات سے اتفاق کر لیا جائے ۔تو نام کی نمائش کا تو سوال ہی باقی نا رہا۔اور جہاں تک "سستے،، لوگوں کے اعتراض کا بات ہے ۔تو جاہل آدمی ۔۔۔ایڈیٹر جانے۔۔۔ادیب جانے۔۔۔
بیگانے کی شادی میں دیوانوں کے ناچنے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
میں اکثر سوچتا تھا کہ سر جی نے اپنے لکھنے کا انداز کیوں بدلا۔۔۔؟
میں اپنی زندگی اور ماحول سے کہانی لیتا ہوں ۔میری مجبوری ۔۔۔اپنے روزگار کی وجہ سے میں نے چار دیواری میں زندگی گزاری ہے ۔مگر سر جی۔۔۔انہوں نے ایک ہنگامہ خیر زندگی بسر کی ہے ۔ دیس بدیس کی سیر۔۔۔اپنی نوکری میں ہزاروں لوگوں سے میل ملاقات ۔۔۔وہ چاہتے ۔تو اپنی زندگی سے ہزاروں کہانیاں کشید کر سکتے تھے ۔پھر انہوں نے اپنا انداز کیوں بدلا۔۔۔؟
اس سوال کا جواب مجھے ان الفاظ میں ملا ۔
" اگر ہمیں بچوں کے لئے لکھنا ہے ۔تو بچوں کے لئے ہی لکھنا ہو گا ۔ہم بچوں کے نام پر بڑوں کے لئے لکھ رہے ہیں ۔۔۔،،
جب میں نے دوستوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا شروع کیا ۔تو میری کوشش تھی ۔کہ سر جی
 ہمارے ہمرکاب ہوں ۔مگر دوستوں نے انہیں ساتھ لے کر چلنے سے انکار کر دیا۔پھر وقت کا پھیر۔۔۔۔
ڈکٹیٹر شپ سے متاثر ہو کر میں خود دوستوں  کے ساتھ چلنے کے قابل نہیں رہا۔۔۔۔
انگلش ادب ہمارے یہاں تخلیق ہونے والے ادب سے سو سال آگے ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے ۔ہمارے یہاں بہت سے سمجھ دار ادیب ۔۔۔سمجھ داری سے انگلش ادب کاپی کر کے اپنا نام بنا چکے ہیں ۔مگر سر جی نے سمجھ داری سے کام نہیں لیا۔انگلش ادب کو جوں کا توں بیان کیا ۔بس حوالہ نہیں دیا ۔اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ حوالہ دینا چاہیے ۔مگر ۔۔۔
ایک ہوتی ہے ۔تنقید برائے اصلاح ۔۔۔ایک ہوتی ہے ۔تنقید برائے تذلیل ۔۔۔یہاں دوسرے طریقے سے کام لیا گیا ۔اسی وجہ سے سوال اٹھا کہ ہمارے بزرگ ادیب یہ غلطی کر چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔
سر جی تو اب حوالہ دینے لگے ہیں ۔تعلیم و تربیت میں شائع ہونے والا ان کا قسط وار ناول اس بات کا ثبوت ہے۔مگر ہمارے محترم بزرگ ادیب اپنی آرام گاہوں سے اٹھ کر اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ انہوں نے ایسی غلطی کیوں کی۔۔۔۔۔
چلتے چلتے ادب کے ٹھیکیداروں سے درد دل کے ساتھ ایک گذارش ضرور کروں گا ۔اگر کوئی ادیب سر پر کفن باندھ کر بچوں کا ادب کی خدمت کر رہا ہے ۔تو اس کی حوصلہ افزائی کریں ۔آپ کا منفی رویہ اسے لمبی تان کر سونے پر مجبور کر سکتا ہے ۔آپ کا تو سرے سے ہی کوئی نقصان ہونے والا نہیں ہے ۔مگر بچوں کا ادب کا نقصان ہو سکتا ہے ۔اور آپ میں وہ قابلیت نہیں ہے کہ اس نقصان کا مداوا کر پائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *