نواز شریف وہ طوطا، جس میں جمہوریت کی جان؟

naeem-baloch1
اگر آپ نے کالم کا عنوان پڑھ کر اندازہ لگایا ہے کہ یہ نوازشریف کے حق میں ہوگا ، تو واضح رہے کہ آپ کا اندازہ غلط ہے ۔ لیکن اس کے بر عکس رائے قائم کرنے سے بھی بہتر ہے کہ آپ اس تحریر کو پہلے پورا پڑھ لیں ۔
سب سے پہلے وہ حقائق جن کے بارے میں شاید ہی کسی کو کوئی شک ہو کہ وہ ناقابل تردید ہیں :
* نواز شریف کے مخالف ہوں یا حمایتی، سب کو معلوم ہے کہ حکومتی خاندان بدعنوانی ، ٹیکس چوری ، اپنا کاروبار غیر قانونی اور غیرشفاف طریقے سے پروان چڑھانے میں سو فیصد ملوث رہے ہیں ۔ پہلے دونوں ادوار میں یقیناًاور موجودہ دور میں البتہ اس کی کوئی شہادت نہیں !
* شریف خاندان کی منی ٹریل درست ثابت کرنے کے لیے جو کہانی بیان کی گئی ہے کیا وہ سچ پر مبنی ہے ؟ کوئی احمق ہی اس کہانی پر یقین کر سکتا ہے ۔ بقول شخصے ’’جدہ کی ٹوپی قطری شہزادے کے سر۔ شہزادے کی ٹوپی قوم کے سر۔‘‘
اب ذرا دوسرے حقائق :
*اسی طرح کی ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ بر طانیہ میں سرے محل اور بلاول ہاؤس لاہور، آصف زرداری صاحب نے جائز آمدنی سے نہیں بنایاتھا۔یہ بھی ناجائز قسم کے تحفے ہی ہیں ۔
* آصف زرداری کے بہت سے ملین ڈالر ز منی لانڈرنگ ہی کے ذریعے سے سویس بینکوں میں پڑے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ ایک وزیر اعظم کو قربان کرتے اور نہ استثنیٰ کی آڑ لیتے۔شریفوں کے برعکس صرف ماضی ہی میں نہیں وہ ہردور میں اس ’’کار خیر ‘‘ میں مصروف رہے ہیں ، ایان علی اس کی واضح تصدیق ہے اوراس کام میں وہ اتنے ظالم واقع ہوئے ہیں کہ راستے میں آنے والے کو حرف غلط کی طرح مٹا دینے کا وتیرہ رکھتے ہیں ۔ صادق اور امین اتنے زیادہ ہیں کہ اپنے بیانات کے بارے میں صاف کہتے ہیں کہ وہ کوئی قرآن و حدیث نہیں ہوتے کہ ان کی خلاف ورزی نہ کی جا سکے ۔
*جس طرح پاکستان میں کم و بیش ہر شخص ٹیکس چوری کے طریقے اختیار کرکے اپنی جائیدادا بناتا ہے، اسی طرح عمران خان نے بنی گالہ والے گھر میں ٹیکس چوری سے کام لیا ہے ۔تبھی تواٹھارہ پیشیوں پر بھی وکیل غائب ہے اور منی ٹریل ہے کہ مل ہی نہیں رہی۔
* عمران خان نے گوشواروں میں یہ ظاہر نہیں کیا کہ ان کے پاس ایسی کئی ذاتی بلٹ پروف گاڑیاں ہیں جن کو وہ روزانہ استعمال کرتے ہیں ۔اب اگر یہ تو تحفہ ہے تو دوسرو ں کے تحفوں کو بھی قبول کر لیجیے ۔
*کیا یہ لطیفہ نہ ہوگا اگریہ دعویٰ کیا جائے کہ مولانا فضل الرحمان نے کبھی بھی کوئی ناجائز سرکاری فائدہ نہیں اٹھایا اور سرکاری زمین کوڑیوں کے بھاؤ الاٹ نہیں کرائی ۔
* کوئی شک نہیں کہ ایم کیو ایم کراچی میں بھتہ لیتی، غنڈہ ٹیکس جمع کرتی، ٹارگٹ کلنگ کرتی اور کراتی تھی۔ معلوم نہیں کہ کس کس ’’بارہ مئی‘‘ میں ملوث تھی۔گویا ایک نہ ختم ہونے والی فہرست ہے جرائم کی ،جو اس جماعت کے ماتھے کا’’ جھومر‘‘ ہے۔ یہ بھی ایک ’’اوپن سیکرٹ ‘‘ ہے کہ یہ پارٹی کس کے کہنے پر قائم ہوئی اور اس کے جرائم پر کس کے کہنے پر پردہ ڈالا گیا ۔اس پارٹی کی حقیقت پر کھلم کھلا بولنے والے، شہباز شریف قسم کی بڑھکیں لگانے والے پہلے سیاست دان عمران خان ہی تھے ۔ لیکن ’’معلوم نہیں ‘‘ کس کے کہنے پر اپنی تلوار میان میں ڈال لی ۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ لوگوں کو ماڈل ٹاؤن لاہور کے چودہ قتل تو یاد آجاتے ہیں لیکن ایم کیو ایم کے چودہ ہزار سے بھی زیادہ قتل کسی کو کیوں یاد نہیں آتے؟ اس پر کوئی جے آئی ٹی ، کوئی سو موٹو ، کسی ضمیر کی آواز ۔۔۔
*اس کے بعد اے این پی،اچک زئی اور باقی ماندہ بلوچستان کمپنی، حضرت طاہر القادی المعروف بہ علامہ انقلاب،شرجیل میمن ، شیخ رشید اور گجرات کے چو دھریوں کے کارناموں کا ذکر کر کے آپ اس فہرست کو خود ہی پورا کر لیں ۔
آپ سوچ رہیں ہوں گے کہ ابھی یہ فہرست ادھوری ہے ، لیجیے ہم یہ اعتراض بھی ختم کیے دیتے ہیں اور اس کے لیے تو درجن بھر جے آئی ٹی بنائی جاسکتی ہیں :
’’جس نے پاکستان کے بانیوں کو گھر بھیج کر اقتدار پر قبضہ کیا، فاطمہ جناح کودھاندلی سے ہرایا،امریکہ کوبڈھ بیر کا اڈہ دیا، جس کوحمود الرحمان کمیشن رپورٹ نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا ، جس نے بھٹو کو قتل کرایا، ایم کیو ایم بنائی، آئی جے آئی بنائی،مہران بنک سے سیاستدانوں کو پیسے دیے،منتخب وزیر اعظم کو جہاز کی سیٹ کے ساتھ ہتھکڑی لگا کر بھیجا،امریکہ کو جیکب آباد اور شمسی ائیر بیس دئیے ،عورتوں اور بچوں سمیت متعدد پاکستانیوں کوامریکیوں کے ہاتھوں بیچ کھایا ،ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن جیسے اشتہاری دہشت گرد کو محفوظ کر کے رکھا ،پانچ ارب کی کرپشن میں ملوث شخص کو محض ناپسندیدہ قرار دے کر پنشن سمیت ریٹائرمنٹ دے دی، وغیرہ ۔
بالکل درست ہے کہ ان سب حقائق کے ہوتے ہوئے پانامہ کیس کے پردے میں شریف خاندان کا احتساب ایک ڈھکوسلے سے کم نہیں ، یہ سیدھا سادا دشمنی کا معاملہ ہے ،آپ یہ بھی کہہ کر سکتے ہیں اور آنے والا وقت اسے درست بھی ثابت کر سکتا ہے کہ اس کے پیچھے غیر ملکی سازش ہے لیکن ذرا ان حقائق کو بھی مدنظر رکھیے:
* ن لیگی ہوں یا شریف خاندان ، سب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کی حکومت قائم ہونے پر اسٹیبلشمنٹ ہر گزخوش نہیں۔ وہ ان کی حکومت کے درپے رہیں گے کہ ان کی کسی بھی غلطی کو بنیاد بنا کر ایسا ما حول پیدا کریں کہ ان کی جس قدر جلدی ممکن ہو چھٹی ہو جائے ۔
* ماضی میں شریف خاندان نے ٹیکس چوری کر کے پیسے باہربجھوائے۔ اس الزام کی حقیقت سے سب سے زیادہ خود شریف خاندان اور اسٹیبلشمنٹ واقف تھی۔ اگر ایسا ہی ہے تو اس حوالے سے کس کو متنبہ رہنے کی ضرورت تھی ؟
*جن ’’ کارناموں ‘‘کی بنیاد پر موجودہ حکومت عوامی مقبولیت اور قبولیت کا مقدمہ جیتنا چاہتی تھی ، وہ سب کے سب پانچویں برس یعنی حکومتی مدت کے آخری برس پورے ہونے تھے۔ اور بہت واضح بات تھی کہ سیاسی دشمن ہوں یا غیر سیاسی ، ان سب کی کوشش ہو گی کہ یہ مکمل نہ ہوں ۔اور ان تمام عناصر کی حکمت عملی یہ ہوگی کہ وہ یہ الزام اپنے اوپر نہ آنے دیں کہ انھوں نے حکومت کے راستے میں ایسے روڑے اٹکائے ہیں کہ وہ باوجوہ انھیں مکمل کرنے سے قاصر تھی ۔
* اس چیلنج پر پورا اترنے کے لیے حکومت کے پاس اس کے سواکوئی چارا نہ تھا کہ وہ بہر طور اپنے’ امتیازی منصوبے ‘وقت سے پہلے پورے کرے اور اسٹیلشمنٹ سمیت تمام نقادوں کو انگلی اٹھانے اور کوئی وار کرنے کا موقع نہ دے ۔
*اگر یہ کوئی سازش ہے تو اس سے سب سے زیادہ باخبر خود نواز شریف اور ان کا خاندان تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ انھوں نے اس سازش کو مکمل کیوں ہونے دیا ؟ آپ کہتے ہیں کہ انھیں اس کا علم نہ ہو سکا یا وہ اس کو روکنے میں ناکام رہے تو گزارش ہے کہ ایک مغفل ، بدھو اور مست حال قسم کے سیاسی قائد سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ ’ مگر مچھ ‘کے منہ سے’’ کمزور جمہوری بکری‘‘ کو بچا لیں گے ۔اس کے لیے چومکھی لڑائی لڑنے کا اہل سیاست دان درکار ہو گا ۔
*اپنے داغدار ماضی کے حوالے سے یہ بیانیہ حکومت کی طرف سے پہلے روز ہی آجانا چاہیے تھا کہ ہم کوئی ’’ حاجی لق لق ‘‘قسم کی چیز نہیں ہیں ، جس طرح باقی لوگوں کو این آر او اور اس قسم کی ’’ گیدڑ سنگھیاں ‘‘دے کر پانچ برس گوارا کیا گیا ، ہمیں بھی برداشت کیا جائے ۔ اور پچھلے ادوار کے گڑے مردے ہر گز نہ اکھاڑے جائیں ۔اور جب پانامہ کیس کا مسئلہ سامنے آیا تھا ، اسی وقت یہ موقف اختیار کرنا چاہیے تھا ۔اس کھیل میں کود کر ’’آ بیل مجھے مار‘‘ کا نعرہ نہیں لگا نا چاہیے تھا ۔
* مفاد پرست حمایتیوں کی بات تو علیحدہ ہے لیکن وہ لوگ جنھوں نے جمہوریت کی خاطر نواز شریف کی حمایت کی ، وہ اچھی طرح جانتے تھے شریف خاندان مسٹر کلین ہر گز نہیں ، لیکن اسے ایک غنیمت سمجھ کر ان کی حوصلہ افزائی کی ، ان مخلص حمایتیوں نے تنقید بھی کی مگر یہ کافی نہیں تھی ، ان کی حمایت کا غلط مطلب بھی سمجھا گیا اور حکومت نے بھی اس کو کیش بھی کرایا ۔ بہتر حکمت عملی یہ تھی کہ ایسے لوگ ایک تھنک ٹینک بناتے ، مسلم لیگ نون سے علیحدہ تشخص رکھتے ، اس کی اچھی پالیسیوں کی تعریف کرتے ، غلط تنقید پر اس کا دفاع بھی کرتے لیکن اپنے آزاد فورم سے ان کی بزدلی ، غلط حکمت عملی اور بری طرز حکومت پر تعمیری تنقید بھی کرتے ، بلا شبہ ایسا بھی کیا گیا لیکن اس کا نتیجہ بہر کیف یہی نکلا کہ ان کو حکومت ہی کا ترجمان ہی سمجھا گیا ۔ ایسا نہیں ہو نا چاہیے تھا۔
* فوری طور پر اب ایک ایسا تھنک ٹینک بنایا جانا چاہیے جو حکومت کو مشورہ دے کہ وہ سسٹم کو بچائے ۔ استعفا دے کر خاندان سے باہر کسی ایسے کو وزیر اعظم بنائے جس پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد ہو ، اپنے زیر تکمیل منصوبے پورے کرنے چاہییں ، اور پھر اپنی کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات میں جانا چاہیے ۔ اب وزیراعظم کی حب الوطنی ، جمہوریت سے کمٹمنٹ اور سیاسی شعور کا امتحان ہے کہ وہ اس سازش کو ناکام بنائیں ۔اس بحران سے بچ نکلنا پاکستان اور جمہوریت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگر وزیراعظم کی ضد یا غلط مشوروں کے نتیجے میں کوئی حادثہ ہو گیا ، جو کہ ان کے دشمنوں اور بد خواہوں کی شدید خواہش ہے ، تو یاد رکھیں سیاسی قبرستان میں ان کی قبر پر شاید کوئی کتبہ لگانے والا بھی نہ ہو گا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *