’’مستقبل کیلئے ہمارا بڑا عہد‘‘۔۔۔۔۔گیٹس کا سالانہ خط2015ء ( قسط نمبر 13)

bilmalinda2 بل اور ملنڈا گیٹس

ذرا 15برس پہلے کے دور کے متعلق سوچیں، جب آن لائن تعلیم کا آغازہو رہا تھا۔اس پر ایک یونیورسٹی کے لیکچر کے دوران کیمرا نصب کرنے سے کچھ ہی زیادہ رقم صرف ہوتی تھی۔ بس ریکارڈ کا بٹن دبانا پڑتا تھا۔ طلباء آن لائن کوئز نہیں دے سکتے تھے۔ نہ ہی و ایک دوسرے سے رابطے میں آ سکتے تھے۔یعنی اس وقت تک تعلیم دوطرفہ بالکل نہیں تھی۔
ٹیکنالوجی پہلے ہی ایک طویل فاصلہ طے کر چکی ہے، جیسا کہ آپ خان اکیڈمی جیسی ویب سائٹوں پر دیکھتے ہیں اور اگلے پندرہ برس میں یہ مزید آگے جائے گی۔ حتیٰ کہ ایک بچی، جس نے ابھی اپنی پرائمری تعلیم بھی حاصل کرنا شروع نہیں کی ہوگی، وہ بھی اپنی والدہ کا سمارٹ فون استعمال کرنے کے قابل ہو جائے گی۔۔۔ گنتی اور اے بی سی سیکھنے کیلئے۔۔۔جو یقیناً ایک نہایت شاندار آغاز ہو گا۔ سافٹ ویئر یہ دیکھنے کے قابل ہو گا آیا کہ وہ مشکل میں ہے یا نہیں۔۔ اور اس کی مشکل کو حل کرکے اس کے اطمینان کا سبب بھی بنے گا۔ یوں وہ بچی اپنے اساتذہ اور ساتھی طلباء سے نہایت شاہانہ انداز میں ملے گی۔اگر وہ کوئی زبان سیکھ رہی ہو گی تو وہ صرف بلند آواز میں بولے گی اور سافٹ ویئر اسے تلفظ و ادائیگی سے متعلق فییڈ بیک دینے کے قابل ہو گا۔ (کچھ ویب سائٹس تو فی زمانہ ہی ایسا کرنے لگی ہیں لیکن مستبل قریب میں یہ ٹیکنالوجی مزید بہتر طور پر استعمال ہونے لگے گی۔)
آج کل کی متعدد آن لائن کلاسزکیرئر کی چوائسز سے منقطع ہو چکی ہیں لیکن یہ چوائسز تبدیل ہو جائیں گی۔ فرض کریں آپ طب کے شعبہ سے منسلک ہونا چاہتے ہیں تو آپ یہ جاننے کے بھی قابل ہوں گے کہ اس شعبہ کیلئے آپ کو حساب سے لے کر کیمیاء تک کس کس مضمون میں کس کس مقام پر ہونا چاہئے۔ اورآپ ان مضامین سے بہت سی واقفیت آن لائن حاصل کرنے کے قابل ہوں گے۔ کچھ مواد کی آپ کو اپنی مقامی زبان اور جگہ کے مطابق ضرورت ہو گی۔تاہم بنیادی نظرئیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔۔۔۔ مثلاً جگہ کوئی بھی ہو، الجبرا، الجبرا ہی رہے گا۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *