گوری اور بنک اکاؤنٹ 

tariq ahmed
وہ گوری تھی۔ بلکہ کچھ زیادہ ھی گوری تھی۔ ھمارا اپنا خیال تھا۔ خدا نے اسے دودھ، بلائ اور مکھن میں گوند کر بنایا ھے۔ ھم نئے نئے انگلستان وارد ھوے تھے۔ اور ھر جانب سر عام چلتی پھرتی الہڑ گوریوں کو دیکھ کر اچھی خاصی بوکھلاہٹ کا شکار ھو چکے تھے۔ جہاں کہیں موقع ملتا۔ ھونقوں کی طرح منہ اور آنکھیں کھول کر آتی جاتی مٹکتی لہراتی ان حسیناووں کو تکنا شروع کر دیتے بلکہ گھورنا کہنا زیادہ مناسب رھے گا۔ ایک دو بار اپنے تئیں کچھ معزز دیسی حضرات نے ھمیں ٹہوکا بھی دیا۔ آنکھیں نیچی رکھو۔ یہاں گھورنا منع ھے۔ ھمارا اپنا خیال تھا۔ اگر ھم نے آنکھیں نیچی رکھ کر چلنے کی کوشش کی۔ تو براہ راست کسی گوری سے ٹکرا جانے کا خدشہ تھا۔ بلکہ امید تھی۔ ویسے بھی کسی نے کہا تھا۔ نیت اور میت کا حال خدا جانتا ہے ۔ انگلستان آ کر خدا کی قدرت نہ دیکھنا کسی کفران نعمت سے کم نہ تھا۔  اوپر سے یہ سفید خرافائیں اتنی ھنس مکھ اور نرم خو واقع ھوئ تھیں ۔ پاس سے گزرتیں ۔ تو مسکرا کر اٹھلا کر اور ٹھوڑی ھلا کر ھیلو ھاے کہہ جاتیں۔ کتنی دیر تو ھم اسی خوش فہمی میں مبتلا رھے۔ کہ یہ ھماری اپنی ھینڈ سم اور گریس فل پرسنیلٹی کا کمال ھے۔ گوریاں ھماری جانب متوجہ ھو جاتی ھیں۔ وہ تو بہت دیر بعد یہ راز کھلا۔ یہاں کا کلچر ھی یہی ھے۔ اور ظاہر ھے۔ ھمارے لیے یہ علم کسی صدمے سے کم نہ تھا۔
ھاں تو بات ھو رھی تھی۔ اس گوری کی۔ جو بہت گوری تھی۔ اور بنک کی کھڑکی کے دوسری جانب بیٹھی کار دراز نپٹا رھی تھی۔ ھم کھڑکی کے اس طرف قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رھے تھے۔ قطار میں ھمارے آگے بھی گوریاں تھیں۔ ھمارے پیچھے بھی گوریاں تھیں۔ اور یہ سفید رنگی قاتلائیں ھر قسم کی خوشبو لگا کر آئیں تھیں۔ یعنی ھماری ھلاکت کا مکمل سامان موجود تھا۔ ھم گوریوں کی سنگت سے  اگر بچ بھی نکلیں۔ تو مسحور کن خوشبوؤں کی نذر ھو جائیں ۔ حضرت علامہ صاحب نے غالبا کسی ایسے موقعے کے لیے ھی کہا تھا۔
 گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ۔
ھے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ ۔
 اور ھماری کیفیت یہ تھی۔ نہ بیگانہ وار نہ بار بار بلکہ دیوانہ وار دیکھ ۔ بقول میر تقی میر،
کچھ فکر کرو مجھ دیوانے کی۔
 دھوم ھے پھر بہار آنے کی۔
Image result for bank officer girl
اور اسی سیلاب بلا میں سرکتے سرکتے عالم وارفتگی میں آخر ھم اس خرافہ کے عین سامنے جا کھڑے ھوے۔ کہ جس کے سامنے جچتے نہیں فردوس نظر میں والا معاملہ تھا۔ صبح نور جیسی سپید رنگت ، سمندر جیسی گہری نیلی آنکھیں، ستواں ناک ، سنہرے بال اور دل آویز مسکراہٹ ۔ نرم خو لہجے میں بولی۔ جی فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ھوں۔ ادھر ھمارا یہ حال ۔
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ھوں۔
کاش پوچھو مدعا کیا ھے۔
مبہوت ھو کر اسے دیکھا کیے۔ جو تھوڑی بہت انگریزی آتی تھی۔ وہ بھی جاتی رھی۔ ٹک ٹک دیدم، دیدم نہ کشیدم ۔ بقول میرا جی ،
 میر ملے تھے میرا جی سے ، باتوں سے ھم جان گئے۔
 فیض کا چشمہ جاری ھے۔ حفظ ان کا بھی دیوان کریں۔ ھماری دلی و زھنی کیفیت کو بھانپتے ھوے اس خرافہ نے اپنی مسکراہٹ میں مزید ادائیں شامل کیں۔ اور وھی سوال دہرایا ۔ ھم نے ھکلاتے ھوے مدعا بیان کیا۔ ھم بنک اکاؤنٹ کھلوانے آے ھیں۔ لیکن دل کا اکاؤنٹ کھلوا بیٹھے ھیں۔ کھلکھلا کر ھنس پڑی۔ اور پورے پانچ منٹ بولتی رھی۔ اکاؤنٹ کیسے کھلوایا جاتا ھے۔ اور ھم پورے پانچ منٹ سوچتے رھے۔ انگریزی میں گٹ پٹ کرتی یہ کتنی اچھی لگ رہی ھے۔ بنک سے باھر نکلتے وقت ھم سوچ رھے تھے۔ ھمیں ایک اور اپوائنٹمنٹ بنوانا ھو گی۔ اور ذھن میں میرا جی کا یہ شعر تھا۔
کئ راز پنہاں ھیں لیکن کھلیں گے
اگر حشر کے روز پکڑا گیا  دل

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *