جہالت اور زوال

عرفان حسینIrfan Hussain

’’منکسرمزاج لوگ زمین کے وارث بنیں گے‘‘ (Matthew 5:5)۔ اس پر ایک ستم ظریف اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ٹھیک ہے لیکن ’’زمین سے نکلنے والی معدنیات کے حقوق دولت مند افراد کے پاس ہی رہیں گے۔‘‘بائبل میں بیان کی گئی سچائی اپنی جگہ پر لیکن اگر انیسویں اور بیسویں صدیوں میں دنیا کواپنی گرفت میں لینے والے نوآبادیاتی نظام کو دیکھیں تو دوسرا جملہ زیادہ مستند دکھائی دیتا ہے۔ اُس دور میں مغربی طاقتوں نے بہت جارحانہ طور پر افریقہ اور ایشیا میں علاقوں اور وسائل پر قبضہ کیا۔ جاپان سے لے کر ترکی تک شکار کی تلاش میں بنکوں اور لالچی تاجروں ، جنہیں اپنی اپنی ریاستوں کا تعاون حاصل تھا ، نے مقامی صنعتوں اور اداروں کو تباہ کرکے مارکیٹس پر قبضہ کرلیا۔ نوآبادیاتی نظام تلے جکڑی جانے والی اقوام کو اپنی طاقت اور اختیار کو پہنچنے والے نقصان پر قابو پانے میں کافی طویل عرصہ لگ گیا۔ درحقیقت ابھی بھی بہت سی اقوام نفسیاتی غلامی کی زنجیریں توڑنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ تاہم نوآبادیاتی طاقتوں کی یلغار نے ایک مخالف بیانیے کو بھی جنم دیا۔ پنکج مشرا کی نہایت فصیح کتاب’’From the Ruins of Empire‘‘ کاموضوع یہی بیانیہ ہے۔
نوآبادیاتی نظام کی مخالف میں بہت سی آوازیں ابھریں ۔ اُن میں سید جمال الدین افغانی کا بیانیہ سب سے بلند ، طاقتور اور متاثر کن تھا۔ 1892ء میں عثمانی خلیفہ کے نام تحریر کردہ اپنے ایک خط میں جمال الدین افغانی نے استعماری طاقتوں کے خلاف مزاحمت کے لیے پان اسلام ازم کاتصور پیش کیا۔ وہ لکھتے ہیں...’’تمام مغربی طاقتوں کی ایک ہی خواہش ہے کہ وہ ہماری زمین پر قبضہ کرکے ہمیں صفحۂ ہستی سے مٹادیں۔روس، انگلینڈ، جرمنی یا فرانس بلاتخصیص ہمیں ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ ہماری کمزوری اُنہیں جارحیت کا موقع دے رہی ہے۔ اس کے برعکس ، اگر ہم متحد ہوں، اگر تمام مسلمان یک جان ہوجائیں ، تو ہمارا وزن ہوگااور ہماری بات سنی جائے گی‘‘۔ اپنی تمام سیاحتی زندگی کے دوران جمال الدین افغانی اپنی تقریروں اور تحریروں میں پان اسلام ازم اور استعمار مخالف نظریات کا پرچار کرتے رہے۔غیر ملکی استعماری طاقتوں کے خلاف غیر متزلزل عزم کی وجہ سے مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور عیسائی مذہب کے پیروکار بھی اُن کی طرف متوجہ ہوئے۔
مشہور تو وہ جمال الدین افغانی کے نام سے ہیں لیکن دراصل وہ افغانی نہیں تھے۔ وہ ایران کے ایک شیعہ خاندان میں پیدا ہوئے اور تہران میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ نجف کے ایک مشہور مدرسے میں چلے گئے پھر اُنھوں نے انڈیا کا سفر بھی اختیار کیا۔ مسلمانوں کو بڑی تعداد تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے اُنھوں نے اپنے نام کے ساتھ ’’افغانی‘‘ لقب اختیار کیا۔ ان کا جسدِ خاکی کئی برسوں تک استنبول کی ایک گمنام قبر میں مدفون رہا۔ اس کے بعد انہیں کابل میں لے جاکر سپردِ خاک کیا گیا۔ اب افغان اُن کا تعلق اپنے ملک سے بتاتے ہیں۔
برطانوی راج کے دوران ہندوستان کی حالتِ زار کا مشاہدہ کرنے کے بعد جمال الدین افغانی نے نتیجہ نکالا کہ جب نوآبادیاتی نظام کی شکار اقوام اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی نہیں لائیں گی، ان کی حالت نہیں بدلے گی۔ ایک ترک مدرسے میں بے باک لہجے میں دوٹوک تقریر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا...’’ میرے بھائیو، خوابِ غفلت سے جاگو۔ یاد رکھو کہ کبھی مسلمان دنیا کی طاقت ور ترین قوم تھے، لیکن بعد میں یہ قوم آرام طلب ہو کر کمزور ہوگئی۔ کچھ مسلمان اقوام پر غیروں کا تسلط ہے اوروہ شرمناک غلامی کی زندگی بسر کررہی ہیں۔ ان کی شاندار ثقافت کی توہین ہورہی ہے۔ یہ سب کمزوری ، سستی، کم طلبی اور حماقت کا شاخسانہ ہے۔ اٹھ زبانوں کے ماہر جمال الدین افغانی نے پیہم سفر کیا، طلبہ کو لیکچرز دیے، علما اور بادشاہوں سے ملے اور اتحاد، تعلیم اور جدید طرزِ فکر اپنانے کی تبلیغ کی۔ اُن کے کچھ فرمودات کو آج انتہاپسندی کے زمانے میں کفرسے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اُن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ حاضرین کی ذہنی استعداد کو دیکھتے ہوئے اپنے موضوع کو تبدیل کرلیتے تھے، تاہم وہ استعمار کی مخالفت کرنے میں مطلق لچک نہ دکھاتے۔ ایران اور مصر کے حکمرانوں اور ترکی کے عثمانی خلیفہ سے ملاقاتیں کرتے ہوئے اُنہیں قائل کرنے کی کوشش کرنے کے علاوہ اُنھوں نے ماسکو ، پیرس اور لند ن کا بھی سفراختیار کیا اور مختلف رہنماں کو مسلمان ریاستوں کاسا تھ دینے پر ابھارا۔ تاہم اُن کی اس مخلصانہ کوشش کا منفی اثر ہوا اور مغربی رہنما اسلامی بیداری کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔
جمال الدین افغانی اپنے دور کے ایک روشن خیال اور بیدار مغزمفکر تھے۔ تاہم مسلمان ریاستوں نے آزادی کے بعد اُن کے خیالات کو جھٹک دیا۔ آج کی اسلامی دنیا افغانی کی ترقی پسندی کی بجائے سعودی عرب کی تنگ نظری کو زیادہ اپنا چکی ہے۔ آج مسلمان اُس سے کہیں زیادہ بنیادپرست اور تنگ نظر ہیں جتنے ایک صدی پہلے تھے۔ سکندریہ میں تقریر کرتے ہوئے، افغانی نے خواتین کے حقوق کی بات کی...’’جب تک خواتین کو حقوق نہیں ملتے اور وہ اپنے فرائض سے آگاہ نہیں ہوجاتیں اُس وقت تک ہم حماقت ، ذلت اور پسماندگی کی دلدل سے سرنہیں اٹھاسکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماں کی گود ہی پہلی درس گاہ ہے۔‘‘1879میں تیزوتند تجزیہ کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں ...’’مشرق کے فرزندو، کیا تم نہیں جانتے کہ مغربی ممالک کوتم پر حاصل فوقیت علم اور تعلیم میں ان کی برتری کی بدولت ہے؟کیا تم اس میدان میں بہت پیچھے نہیں؟‘‘ایک اور مضمون میں اُنھوں نے اسلامی دنیا میں موجود آمریت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کی پسماندگی کی وجہ عثمانی حکمرانوں کی طرف سے کج فہمی پر مبنی اسلام کی تشریح ہے۔اس کی وجہ سے مغربی ممالک نے مسلمانوں کو اپنا غلام بنالیا۔
بھارت میں جمال الدین افغانی نے سرسید احمد خان کی مخالفت کی۔ ان کا خیال تھا کہ سرسید مسلمانوں کو مغربی تعلیم کی طرف مائل کرکے انگریز حکمرانوں کے آلۂ کار بنارہے ہیں۔تاہم دوسری طرف وہ انڈین علما کے بھی مخالف تھے کیونکہ وہ ان کے نظریات کو پسماندہ اور دقیانوسی پاتے تھے۔ اپنے ایک مضمون میں اُنھوں نے لکھا...’’تم اپنی ناقص کتابوں سے آنکھ اٹھا کر وسیع دنیا کی طرف کیوں نہیں دیکھتے؟تم اس سوال پر مطلق غور نہیں کرتے... جس پر ہر ذی شعور کو غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے... کہ آخر تمہاری غربت، کمزوری اور لاچارگی کی وجہ کیا ہے؟اس کا کوئی علاج کیوں دکھائی نہیں دیتا؟‘‘جمال الدین افغانی کو اس دنیا سے رحلت کیے118 برس بیت چکے ہیں لیکن ان سوالات کاجواب ملنا ابھی تک باقی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *