نااہلی وجہ نمبر چار 

tariq ahmed
پاکستان کے کسی بھی وزیراعظم کا اپنی آئینی مدت پوری نہ کرنا بذات خود ایک گواھی ھے۔ اس سچ کی کہ وزیراعظم خواہ کتنا ھی ڈھیلا ڈھالا، کمزور، نحیف اور ھینڈ پکڈ کیوں نہ ھو اور اسٹیبلشمنٹ کی انگلی پکڑ کر چلنے والا ھو۔ ایک لمحہ آتا ھے۔ جب وہ بھی قابل قبول نہیں رھتا اور اس کی مختلف حیلے بہانوں سے وزیراعظم کی جاب اور کئی دفعہ زندگی سے بھی چھٹی کروا دی جاتی ھے۔ نواز شریف کا المیہ یہ ھے۔ انہوں نے ھر بار اپنی پوری کوشش کی۔ اسٹیبلشمنٹ کو خوش رکھ سکیں ۔ راحیل شریف عملی طور پر تین سال اس ملک پر حکومت کرتے رھے۔ اور وزیراعظم کی برابری کرتے رھے۔ جنرل باجوہ کی شکل میں نواز شریف سے یہ بھول ہوگئی انہیں اپنے آفس میں میز کی دوسری جانب بٹھا کر ملنا شروع کر دیا۔ اور سیلیوٹ بھی لینے لگے۔ یہ تضحیک ادارے کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ خاص طور پر وہ وزیراعظم جسے کرپٹ پینٹ کیا جا رھا تھا۔ وہ سپہ سالار کو اس طرح ملاقات پر مجبور کرے۔ یہ کس طرح ممکن تھا۔ یاد رھے مریم نواز نے ایک ایسی ھی تصویر کو جمہوریت کی خوبصورت شکل کہہ کر ٹویٹ بھی کیا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا۔ جنرل باجوہ نے ون ٹو ون ملاقات پر جانا چھوڑ دیا۔ حسین نواز کی بطور ملزم تصویر لیک کو اس پس منظر میں دیکھا جا سکتا ھے ۔ وزیراعظم کو دبائے رکھنے کے لیے ڈان لیکس جیسے ٹول بڑے کارآمد ثابت ھوتے ھیں۔ نواز شریف کی یہ بدقسمتی کہ انہوں نے ادارے کو ریجیکٹڈ ٹویٹ واپس لینے پر مجبور کیا۔ یہ ایک فاش غلطی تھی۔ جس نے نوجوانوں کا مورال ڈاؤن کر دیا۔ اس کی بحالی اور ایسے خود سر وزیراعظم کو سبق سکھانے کے لیے جس نے تاریخ سے کچھ نہ سیکھا ھو۔ ایک معمولی نقطے پر نااہل قرار دلوا کر اپنی طاقت اور انا کی تسکین کی گئ ۔ اور اگلے الیکشن میں چوتھی بار وزیراعظم بننے کا راستہ بھی روک دیا گیا۔
بس اتنی اوقات ھے قومی مفاد کی-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *