چنیوٹ کے چھوٹے سے گاؤں میں ایڈز کی موجودگی نے کھلبلی مچادی!

چنیوٹ -چنیوٹ کے ایک چھوٹے سے گاﺅں میں ایڈز کا باعث بننے والے وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا جس نے نہ صرف وہاں کے رہائشیوں بلکہ محکمہ صحت کے ذمہ داران کی نیندیں اڑا دی ہیں ۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق محکمہ ہیلتھ نے چنیوٹ کے ایک چھوٹے سے گاﺅں چک نمبر127، بھٹی والا میں ایڈز کی تشخیص کے لئے وہاں کے رہائشی70افراد کے خون کے نمونے اکٹھے کئے جن میں سے42افراد میں ایچ آئی وی کا انکشاف ہوا ہے، ان میں 42افراد میں 27خواتین،14مرد اور ایک سات سالہ لڑکی شامل ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق چنیوٹ کے گاﺅں بھٹی والا میں 70میں سے42افراد میں ایچ آئی وی کی موجودگی کے انکشاف کے بعد محکمہ صحت نے لاہور سے خصوصی ٹیمیں منگوائیں جنہوں نے100مزید افراد کے خون کے نمونے لئے اور انہیں لاہور بھجوایا ہے تاہم اس کی رپورٹ تا حال نہیں آسکی ، محکمہ صحت لاہور سے رپورٹ آنے کے بعد ہی اس حوالے سے کوئی بھی بات نہیں کہی جا سکتی ۔مذکورہ گاﺅں کے رہائشی ایک فرد نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جب اپنے خون کا ٹیسٹ ایک نجی لیبارٹری سے کرایا تو اس کا رزلٹ منفی آیا۔ ایک اور رہائشی کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت نے جب میری رپورٹ کو مثبت قرار دیا تو ہماری زندگیاں اجیرن بن گئے ہیں ، محکمہ صحت کا عملہ ہمارے ساتھ غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رہا ہے جب کہ ہمارے رشتہ داروں نے بھی ہمیں بدکردار کہنا شروع کردیا ہے،
لوگوں کی جانب سے شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت چنیوٹ کے سی ای او ڈاکٹر مہر مشتاق حسین بلوچ علاقے میں گئے اور انہوں نے دوبارہ لوگوں کے خون کے نمونے اکٹھے کئے لیکن اس بار بھی رزلٹ مثبت ہی آیا ۔ ڈاکٹر مشتاق کا کہنا تھا کہ یہ ایک غلط روایت ہے کہ صرف جنسی تعلقات ہی ایڈز پھیلنے کا باعث ہیں بلکہ یہ شیونگ بلیڈز، استعمال شدہ سرنجوں اور غیر تصدیق شدہ خون لگانے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ ہم نے علاقے میں آدھے سے زیادہ حجاموں کی دکانیں بند کر دی ہیں جبکہ اس حوالے سے مزید اقدامات کر رہے ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *