سیاسی مستقبل…؟

ڈاکٹر رشید احمد خان

Dr. Rasheed ahmed khan

پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد جو سوال سب سے نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے‘ یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا؟ کیونکہ آئین کے آرٹیکل 62 کی جس شق کے تحت انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے نااہل قرار دیا گیا ہے‘ اس میں نااہلیت کی کوئی مدت مقرر نہیں۔ اسی لئے اس نااہلیت کو دائمی اور مستقل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نااہلیت کی وجہ سے وہ کسی پارٹی کے سربراہ بھی نہیں بن سکتے؛ چنانچہ اس فیصلے نے نواز شریف کے سیاسی مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
کچھ حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس فیصلے نے نواز شریف کے سیاسی کیریئر کو ختم کر دیا ہے‘ ان کا دور ختم ہو گیا ہے کیونکہ اب وہ حکومتی‘ نہ ہی پارٹی عہدہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں‘ لیکن اگر نواز شریف کی گزشتہ تین دہائیوں پر محیط سیاسی زندگی کا جائزہ لیں‘ تو ان دعووں کا کھوکھلا پن صاف نظر آنا شروع ہو جاتا ہے کیونکہ ماضی میں بھی ایسے دعوے کئے گئے تھے‘ جو غلط ثابت ہوئے‘ مثلاً 1988 کے انتخابات کے نتیجے میں جب مرکز میں شہید بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور پنجاب میں مسلم لیگ کی قیادت کرتے ہوئے نواز شریف وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے اور انہوں نے مرکزی حکومت کے ساتھ تعاون کی بجائے محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کی‘ تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی یہ پالیسی زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکیں گے‘ کیونکہ صوبوں کے مقابلے میں مرکز کو آئین کے تحت اتنے اختیارات حاصل ہیں کہ کوئی صوبائی حکومت مرکز سے محاذ آرائی کرکے مستحکم اور اقتدار میں نہیں رہ سکتی۔ میاں صاحب کی پنجاب میں نہ صرف حکومت قائم رہی بلکہ پنجاب کی بنیاد پر وہ ایک قومی لیڈر بن کر ابھرے اور اگلے انتخابات کے نتیجے میں وزیر اعظم بھی بن گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں میاں صاحب کی اپنی صلاحیتوں کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کی مرکزی حکومت کی غلطیوں اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے نواز شریف کو فراہم کی جانے والی مدد نے زیادہ اور اہم کردار ادا کیا تھا۔
اسی طرح 1999 میں جنرل مشرف کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت جب نواز شریف اور ان کا خاندان سعودی عرب شفٹ ہو گیا‘ تو بہت کم لوگوں کو یقین تھا کہ نواز شریف دوبارہ مسندِ اقتدار پر بیٹھیں گے‘ کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ اب نواز شریف کی سیاسی زندگی کا خاتمہ ہو چکا ہے‘ لیکن 2013ء کے انتخابات میں پاکستانی عوام‘ خصوصاً پنجاب کے لوگوں نے بھاری تعداد میں ان کی پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دے کر انہیں وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھا دیا۔ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر 2008 کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے مسلم لیگ ن کو امیدواروں کے چنائو اور انتخابی مہم چلانے کے لئے مناسب وقت مل جاتا تو 2008 میں بھی ان کی پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے قومی امکانات تھے۔ اور ظاہر ہے اگر ایسا ہوتا تو وزیر اعظم نواز شریف ہی ہوتے۔ 28 جولائی کے فیصلے میں انہیں (نواز شریف) اور ان کے تمام بچوں اور داماد کو ملزم قرار دیا گیا اور نیب کو حکم دیا گیا ہے ان کے خلاف مقدمات درج کرے۔ نواز شریف کو آرٹیکل 62 کے تحت زندگی بھر کے لئے عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا ہے‘ حتیٰ کہ وہ اب اپنی پارٹی کی قیادت بھی نہیں کر سکتے۔ میرے خیال میں اس کے باوجود نواز شریف قومی سیاست سے باہر نہیں ہوئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیاست محض پرسپیپشنز(Perceptions) کا دوسرا نام ہے۔ نواز شریف کو نااہل قرار دینے والوں کے نزدیک فیصلے کا قانونی جواز کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو‘ عوام کی بھی اپنی ایک رائے ہوتی ہے اور اس رائے کی تشکیل میں قانونی نہیں بلکہ کئی دوسرے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ 28 جولائی کے فیصلے نے عوام کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف فیصلہ آنے کے بعد مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی ہیں‘ وہاں اس کے خلاف احتجاجی جلوس بھی نکالے جا رہے ہیں۔ اتوار کے روز تحریک انصاف والوں نے یوم تشکر منایا اور اس سلسلے میں ایک جلسے کا اہتمام بھی کیا۔ اندازہ یہ لگایا گیا ہے کہ آئندہ انتخابات تک یہ سلسلہ نہ صرف جاری رہے گا‘ بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں تیزی آنے کے بھی قوی امکانات ہیں۔ اس محاذ آرائی میں مرکزی حیثیت 28 جولائی کے فیصلے اور نواز شریف کے کردار کو حاصل ہو گی۔
نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ان کے ماضی خصوصاً سابق فوجی آمر جنرل ضیاالحق اور اس کے جرنیلوں کے ساتھ روابط کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ نواز شریف کو ضیاالحق کے دست راست اور پنجاب کے اس وقت کے گورنر جنرل جیلانی سیاست میں لائے۔ یہ بھی سچ ہے کہ 1990 کی دہائی میں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے پیپلز پارٹی اور بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف اقدامات کئے۔ آصف علی زرداری کی طویل قید اور بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدمات کی بھرمار سے بھی نواز شریف کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا‘ لیکن تاریخ اور سیاسی عمل کی طرح سیاسی پارٹیاں اور افراد بھی ارتقائی عمل سے گزرتے ہیں۔ 1999 کی فوجی کارروائی اور مشرف کے ہاتھوں توہین آمیز سلوک نے نواز شریف کی سوچ اور ان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت 2006 میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ''چارٹر آف ڈیموکریسی‘‘ پر اتفاق اور دستخط کی صورت میں موجود ہے۔ اس چارٹر کے تحت دونوں سیاسی جماعتوں نے اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بننے کے بجائے عوامی حاکمیت (civilian supremacy) قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ عوامی حاکمیت کا تصور اور اس پر عمل درآمد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نیا نہیں ہے۔ قراردادِ مقاصد میں یہ موجود ہے اور یہ 1973 کے آئین کا بنیادی ستون ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس کو نافذ کرنے کی کوشش کی تو سزا پائی‘ نواز شریف نے اسے اختیار کرنا چاہا لیکن نہ کر سکے۔ آنے والے دنوں میں نواز شریف کے سیاسی مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ آئندہ انتخابات وقت پر ہوں گے یا نہیں۔ عمران خان نے پاناما لیکس کا مسئلہ عدالت میں لے جا کر نواز شریف کو مسند اقتدار سے تو ہٹا دیا‘ لیکن عمران خان کا اصل مقصد یہ نہ تھا۔ ان کا اصل مقصد اقتدار حاصل کرنا اور وزیر اعظم بننا ہے۔ لیکن آئندہ انتخابات وقت پر ہوئے تو عمران خان کی یہ خواہش پوری ہونے کے بہت کم امکانات ہیں‘ کیونکہ حالیہ دنوں میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور اگر شہباز شریف بطور وزیر اعظم ''ن‘‘ لیگ کی انتخابی مہم کی قیادت کرتے ہیں تو دیگر صوبوں یعنی خیبر پختون خوا‘ سندھ اور بلوچستان سے ان کی پارٹی مزید سیٹیں حاصل کر سکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہیئت مقتدرہ شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے قیام کو برداشت کرنے پر تیار ہو گی یا نہیں؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو آئندہ عام انتخابات کا غیر معینہ عرصہ کے لئے التوا ایک لازمی آپشن بن جائے گا۔بہرحال توقع کی جاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کا سیاسی منظر نامہ بہتر ہو جائے گا اور آئندہ انتخابات تک صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *