سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی پیش کردہ دستاویزات جعلی ہیں؟

Image result for pti worried

اسلام آباد:تحریک انصاف نےسپریم کورٹ میں جمع کرائے گئےجواب میں ممنوعہ فنڈزلینے کا اعتراف کیاہے جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ الیکشن کمیشن پارٹی فنڈنگ کی تحقیقات کرسکتاہے۔

قانون کے مطابق ہر سیاسی جماعت نے اپنا حساب دینا ہے اور یہ حساب الیکشن کمیشن نے ہی لینا ہوتا ہے، تمام سیاسی جماعتیں اپنی فنڈنگ کے ذرائع الیکشن کمیشن کوفراہم کرنیکی پابند ہیں،الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو کلیئرقرارنہیں دیا،کیا آڈیٹر کو بتایا جاتا ہے کہ فنڈز ممنوع ذرائع سے نہیں؟ ، ممنوع فنڈز آئے یا نہیں یہ دیکھنا ہوگا،دوسری جماعتوں کا معاملہ سامنے آیا تو دیکھیں گے، معاملہ 184/3 میں ہم خود دیکھیں گے یا الیکشن کمیشن متعلقہ فورم ہے ،الیکشن کمیشن تحقیقات میں تعین کرے گا کہ فنڈز ممنوع ہیں یا نہیں۔

عدالت اس بات کا تعین کرے گی کہ کون ذمہ دار ہےجبکہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کو ذرائع سے کسی سیاسی جماعت کی ممنوعہ فنڈنگ کی معلومات ملیں تو کیا وہ نظرانداز کر دے؟ فارن ایجنٹ نے وہ فنڈز اکٹھے کیسے کئے جن کی قانون ہی اجازت نہیں دیتا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جواب میں کہا گیا ہے کہ قابل اعتراض فنڈز باہر خرچ کیے گئے ہیں پاکستان میں آنے والے فنڈز جائز ہیں۔ حنیف عباسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں جو دستاویزات عدالت میں جمع کروائی ہیں وہ جعلی اور خود ساختہ ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فارا کو معلومات نہ دینے پر اس ریکارڈ کو بوگس کہہ دیں؟پی ٹی آئی وکیل انور منصور نے کہا کہ کیا صرف پی ٹی آئی پر غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کے مقدمات سماعت کرنی ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سوموار کے روز تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی عوامی عہدہ کیلئے نااہلیت اور پی ٹی آئی کو مبینہ طور پر ممنوعہ ذرائع سے ملنے والی فنڈنگ سے متعلق مقدمہ کی سماعت کی تو پی ٹی آئی کے وکیل انور منصورنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی جماعتوں کے اثاثوںکی تفصیلات قانون کے مطابق نہ ہو ںتو انہیں واپس کردی جاتی ہیں، انہوںنے کہا کہ دیگر جماعتوں کے بھی ایسے ہی معاملات ہیں ،کیا صرف پی ٹی آئی پر غیرملکی فنڈنگ کے الزامات کے مقدمہ کی سماعت کرنی ہے ؟تو چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو واضح کرنا ہوتا ہے کہ ان کی فنڈنگ قانون کے مطابق ہے، کسی دوسری جماعت کیخلاف بھی شکایت ہے تو الیکشن کمیشن اس کیخلاف کارروائی کرے۔

چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو فارنفنڈنگ کی تحقیقات کا اختیار نہیں،یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ چارٹرڈ اکائونٹنٹ کے آڈٹ کے بعد الیکشن کمیشن کو آڈٹ کرنے کا اختیار نہیں ،جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ جی ہاں میں یہی کہنا چاہ رہاہوں کہ چارٹرڈ اکائونٹنٹ کے آڈٹ کے بعد الیکشن کمیشن کو آڈٹ کا اختیارنہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے آرٹیکل 17تھری کے مطابق ہرسیاسی جماعت فنڈنگ کے ذرائع سے متعلق الیکشن کمیشن کے سامنے جوابدہ ہے، جس پرفاضل وکیل کا کہناتھا کہ میں اس سے منحرف نہیں ہورہا بلکہ کچھ اور کہنا چاہتا ہوں، جس پر فاضل چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ کیا تفصیلات دینے کے بعد وصول شدہ فنڈز کی الیکشن کمیشن جانچ پڑتال نہیں کرسکتا ؟تو انہوں نے کہا کہ قانون میں ایسی کوئی اجازت نہیں،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ کیا یہ قابل قبول دفاع ہے؟ کہ الیکشن کمیشن جانچ پڑتال نہیں کرسکتا ؟تو فاضل وکیل نے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کی شق 13 کے تحت ہر سیاسی جماعت ہر سال اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی پابند ہے لیکن الیکشن کمیشن پارٹی فنڈنگ کا آڈٹ نہیں کرسکتا ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پولیٹیکل پارٹی آرڈر کی شق 17 کی ذیلی شق 3 کے تحت ہر سیاسی جماعت فنڈز کی تفصیلات الیکشن کمیشن کوفراہم کرنے کی پابند ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو کلیئر قرار نہیں دیا ۔

انہوں نے استفسار کیا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم کرنے کے بعد فنڈز وصول کرے تو کیا الیکشن کمیشن اس سے پوچھنے کا پابند نہیں ہوتا ؟جس پر فاضل وکیل کا کہنا تھا کہ قانون میں اس بارے میں کچھ نہیں لکھا ہوا ہے، جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ کوئی سیاسی جماعت بھی خود سے نہیں بتائے گی کہ اس نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ لی ہے ۔

انور منصور نے کہا کہ عدالت اس معاملے کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنا سکتی ہے لیکن کسی سیاسی جماعت کے نجی اکائونٹس کی تشہیر نہیں کی جاسکتی ،جس پرجسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کی سیاسی جماعت کے اکائونٹس نجی کیسے ہو سکتے ہیں؟چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے مطابق ہر سیاسی جماعت نے اپنا حساب دینا ہے اور یہ حساب الیکشن کمیشن نے لینا ہوتاہے، یہ معاملہ مزیدتحقیقات کا متقاضی ہے،فاضل وکیل نے دوبارہ کہا کہ عدالت کے پاس آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت کمیشن بنانے کا اختیار ہے ،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن موجود ہے تو پھر تحقیقاتی کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے؟فاضل وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس تحقیقات کا اختیار نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کے پاس ممنوعہ فنڈنگ کا معاملہ آئے تو وہ اس کی تحقیقات کرسکتا ہے، فاضل وکیل نے کہا کہ اگر ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات ہوں تو الیکشن کمیشن کسی بھی سیاسی جماعت کو اس کا انتخابی نشان جاری کرنے سے انکار کرسکتا ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنی آڈٹ رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروائی ہے لیکن اس کو تسلیم نہیں کیا گیا، جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ اگر آڈیٹر ممنوعہ فنڈز کے بارے میں کوئی غلط بیانی کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آڈیٹر کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے تو کیا اس ٹرانزیکشن کو نہیں کھولا جاسکتا جو بادی النظر میں ممنوعہ ذرائع سے آئی ہو؟ انور منصور نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پارٹی اکائونٹس کاآڈٹ کرا کے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے تھے ،اگرکوئی مسئلہ تھا تو الیکشن کمیشن اکائونٹس واپس کر دیتا، الیکشن کمیشن میری موکل جماعت کیلئے متعصب ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آڈٹ اکائونٹس لیکر الیکشن کمیشن کسی جماعت کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ نہیں جاری کرتا ،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کو ذرائع سے کسی سیاسی جماعت کی ممنوعہ فنڈنگ کی معلومات ملیں تو کیا وہ نظرانداز کر دے؟ فارن ایجنٹ نے وہ فنڈز اکٹھے کیسے کئے جن کی قانون ہی اجازت نہیں دیتا،چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعت کے اکائونٹس میں ممنوعہ فنڈز آئے یا نہیں؟ تعین کا فورم الیکشن کمیشن ہے،انور منصور کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی نے غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں جو دستاویزات عدالت میں جمع کروائی ہیں وہ جعلی اور خود ساختہ ہیں،پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈز کو ظاہر نہیں کر رہی اور ان کو نکال کر انتہائی کم فنڈز ظاہر کئے جارہے ہیں،غیر ملکی فنڈنگ پر جمع کرائی گئی دستاویزات کا ہر صفحہ خود تیار کیا گیا ہے۔

ا نہوں نے کہا کہ ہم نے دستاویزات پرموجود ایک ایک نام کا جائزہ لیا ہے، وہ فارا ریکارڈ پر موجود نہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ کیا ہم فارا کو معلومات نہ دینے پر اس ریکارڈ کو بوگس کہہ دیں؟اکرم شیخ نے کہا کہ یہ دستاویزات سو فیصد گمراہ کن اور جعلی ہیں،انھوں نے کہا غیر ملکی فنڈنگ سے عمران خان مستفید ہو رہے ہیں تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں جواب دہ نہیں،انہوں نے سپریم کورٹ میں جو دستاویزات جمع کروائی ہیں اس میں بیرون ملک اور بالخصوص امریکہ میں ان غیر ملکیوں اور کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے،جنھوں نے تحریک انصاف کو لاکھوں روپے کے فنڈز دیئے تھے، جس پر انور منصور نے کہا کہ اگر امریکہ میں ان کے ایجنٹ نے ممنو عہ ذرائع سے فنڈز جمع کیے بھی ہیں تو بھی عمران خان اس کے ذمہ دار نہیں۔

ایجنٹ کے طرف سے جمع کیے گئے فنڈز کے بارے میں عمران خان کو معلومات نہیں، کیونکہ انہوںنے اپنے ایجنٹ کو واضح طور پرہدایات دی تھیں کہ کہیں سے بھی ایسے فنڈز اکھٹے نہ کیے جائیں جو پولیٹیکل پارٹیز آرڈرکی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہوں،جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ اگر عمران خان غیر ملکی فنڈنگ سے مستفید ہو رہے ہیں؟ تو وہ عدالت کے سامنے کیسے جواب دہ نہیں؟ ا نہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ انہوں نے حلال کو حرام سے الگ رکھا ہے، حرام فنڈنگ انتظامی طور پر خرچ کی گئی ہے جبکہ حلال فنڈنگ پاکستان بھیجنے کا موقف دیا گیا ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جواب میں حرام نہیں ممنوعہ کا لفظ استعمال ہوا ہے، ان کے جواب میں کہا گیا ہے کہ قابل اعتراض فنڈز باہر خرچ کیے ہیں جبکہ پاکستان میں آنے والے فنڈز جائز ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نہ کسی حد تک ممنوعہ فنڈنگ لی گئی ہے،جسٹس فیصل عرب نے اکرم شیخ سے سوال کیا کہ وہ عدالت سے نہ جماعت پر پابندی مانگ رہے ہیں اور نہ ہی فنڈز کی ضبطگی کی استدعا کی ہے ؟جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ وہ عدالت کے سامنے مختصر کیس لائے ہیں اور صرف مسول علیہ نمبر 2 پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی عوامی عہدہ کیلئے نااہلیت چاہتے ہیں،، اکرم شیخ نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں عدالت میں جو دستاویزات جمع کروائی ہیں وہ جعلی اور خود ساختہ ہیں، جن میں ممنوعہ ذرائع سے ملنے والے فنڈز کو ظاہر نہیں کیا گیا بلکہ انہیں نکال کر انتہائی کم فنڈز ظاہر کئے گئے ہیں۔

غیر ملکی فنڈنگ پر جمع کرائی گئی دستاویزات کا ہر صفحہ خود تیار کیا گیا ہے،پی ٹی آئی کی جانب سے عدالت میں پیش کیا گیا ریکارڈ ویب سائٹ پر چڑھائی گئی فنڈنگ کے ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا ،جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کو فارن ایجنٹ نے امریکہ میں ہی اکاموڈیٹ کیا اور پاکستان نہیں بھیجا گیا ،جس پرانور منصور نے کہا کہ عمران خان کو ان فنڈز کی کوئی معلومات نہیں جو پاکستان نہیں آئے ہیں ۔

جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ممنوعہ فنڈز حاصل کئے گئے ہیں ، عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی دیا ہے جس کے بعد اب وہ صادق اور امین نہیں رہے، انہوںنے عمران کو نااہل قرار دینے کی استدعا کی،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کا سرٹیفکیٹ انکی معلومات کے مطابق تھا، وہ ہر آنے والی رقم کی نگرانی نہیں کر سکتے تھے،ابھی فاضل وکلاء کے دلائل جاری تھے کہ کیس کی سماعت آج منگل تک ملتوی کر دی گئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *