ہندوستان کی محبت میں پاکستان چھوڑنے والے ہندؤوں کا بھارت میں کیا حال ہورہا ہے، جان کر آپ کانپ اٹھیں گے

hind

کراچی : پاکستان میں اقلیتوں پر مبینہ مظالم کا رونا روتے ہوئے سندھ کے جو ہندو بھارت میں آباد ہونے کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے رہتے ہیں ان کے حوالے سے فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) نے خاصی چشم کشا رپورٹ شائع کی ہے ۔ ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ سے جو ہندو خاندان نقل مکانی کرکے پاکستان سے متصل ریاست راجستھان پہنچتے ہیں انہیں ایک طویل اور خاصی صبر آزما مدت تک کیمپوں میں رہنا پڑتا ہے ۔ معاشرے کے مرکزی دھارے سے الگ تھلگ رہنے کے علاوہ انہیں مالی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ورک پرمٹ نہ ہونے کے باعث وہ باضابطہ شہری کی طرح کوئی ملازمت کرسکتے ہیں نہ ذاتی کاروبار ۔

سندھ سے نقل مکانی کرکے بھارتی شہریت کے لیے درخواستیں دینے والے بیشتر ہندو کئی نسلوں سے کھیتی باڑی کرتے آرہے ہیں مگر راجستھان میں انہیں چٹانیں توڑنے پر مامور کر دیا گیا ہے ۔ جوگ داس نے بھارت میں آباد ہونے کا خواب آنکھوں میں سجائے نقل مکانی کی تھی مگر وہاں جاکر معلوم ہوا کہ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ، جو سنا افسانہ تھا ۔ بھارتی شہریت کے لیے دی جانے والی درخواست اب تک معرض التواء میں ہے ۔ 81 سالہ جوگ داس کا کہنا ہے کہ ہم بہت سے خواب آنکھوں میں سجائے بھارت آئے مگر یہاں آکر ہمیں کسی اور ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ۔ زمینی حقیقت کچھ اور ہے ، نہ گھر ہے نہ ملازمت ، جیب خالی ہے ، کھانے کو کچھ نہیں ۔ ایسے میں کوئی کیا کرسکتا ہے ؟ پاکستانی شہریت چھوڑ کر بھارت کو مستقل مستقر بنانے کے خواہش مند لاکھوں سندھی ہندو اب بھی اپنائے جانے کے منتظر ہیں ۔

شہریت کے لیے درخواستیں چونکہ اب تک معرض التواء میں ہیں اس لیے انہیں پولیس اور حساس ادارے شک کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ایک طرف افلاس اور دوسری طرف ریاستی اداروں کی نظر میں مشکوک ٹھہرنا ۔ ان میں سے ہر حقیقت ان کے لیے پریشانی کا باعث ہے ۔ شہریت کی درخواست منظور ہونے تک وہ مرکزی آبادیوں سے دور رہنے پر مجبور ہیں ۔ ان کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے ، شہروں اور قصبوں کی اصل آبادی سے انہیں دور رکھا جاتا ہے ۔ معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی ان کی نقل و حرکت کو محدود رکھا جاتا ہے ۔ سندھ کے ہندو اپنے آباء کے کلچر میں ضم ہونے اور ہندوؤں میں گھل مل کر رہنے گئے تھے مگر انہیں وہاں امتیازی سلوک کا سامنا ہے ۔ انہیں اپنے بارے میں مطلع رکھنے کے لیے باقاعدگی سے پولیس سٹیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے دفاتر جانا پڑتا ہے ۔ جو کچھ وہ کماتے ہیں اس کا بڑا حصہ تو اس رسمی کارروائی کی نذر ہو جاتا ہے

 64سالہ خانارام جی 1997 میں بھارت گئے تھے اور انہیں 2005 میں بھارت کی شہریت دے دی گئی ۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ سے آنے والے ہندوؤں کو بھارتی سرزمین پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لوگ یہ سوچ کر پاکستان چھوڑتے ہیں کہ بھارت میں انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا اور شہریت بھی فوری طور پر دے دی جائے گی ۔ یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لیے تو کچھ بھی نہیں ۔ وہ تو بھارت کے عام ہندوؤں سے آسانی سے مل بھی نہیں سکتے ۔ خانا رام جی نے بتایا کہ بھارت میں نامساعد حالات سے تنگ آکر سندھ کے متعدد ہندو ‘‘اپنوں’’ میں جینے کا ارادہ ترک کرکے پاکستان واپس چلے گئے ۔ خانارام جی کا کہنا ہے کہ سندھ سے آنے والے ہندوؤں کی اکثریت لاوارثوں کی طرح دن گزار رہی ہے ۔ ہم ایسے جانور ہیں جن کا کوئی مالک نہیں ۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے ہندو سنگھ سودھا جودھپور میں پاکستانی ہندوؤں کیلئی خیراتی ادارہ چلاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جب دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی در آتی ہے تو سندھ کے ان ہندوؤں کی بھی جان پر بن آتی ہے کیونکہ ان سے پوچھ گچھ بڑھ جاتی ہے اور کبھی کبھی تو جینا حرام ہو جاتا ہے ۔ ان کی انتہائی سخت نگرانی کی جاتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *