اب کیا ہو گا؟

khalid irshad sofi

اب کیا ہو گا؟ یہ سوال آج کل ہر بندے کی زبان پر ہے۔ جمعہ کے روز بارش برسی۔ میری گاڑی خراب تھی لہٰذا مجھے دفتر بذریعہ رکشا جانا پڑا۔ گھر سے باہر آیا۔ سڑک پر سے گزرتے ایک رکشہ کو رکنے کا اشارہ ۔ وہ رکا۔ میں رکشہ میں بیٹھ گیا۔ رکشے والے نے پہلا سوال یہ کیا: بھائی احب نواز شریف کو ہٹا دیا گیا ہے‘ اب کیا ہو گا۔ دفتر پہنچا تو چپڑاسی میرے کمرے میں آیا اور پوچھا: اب کیا ہو گا؟ شام کو گھر واپس آیا تو خالہ آئی ہوئی تھیں۔ سلام دعا کے بعد ان کا بھی پہلا سوال یہی تھا: نواز شریف چلا گیا‘ اب کیا ہو گا؟یہ سوال واقعی بڑا اہم ہے کہ پاناما پیپرز پر عدالت کا فیصلہ سامنے آنے اور وزیر اعظم بمعہ کابینہ کے رخصت ہو جانے کے بعد اب کیا ہو گا؟ اس ملک کا کیا بنے گا؟ یہ سوال جس جس کے بھی ذہن آیا‘ اس کی حب الوطنی پر کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔وہ واقعی متفکر ہے کہ اس ملک کے معاملات کو اب کیسے چلایا جا سکے گا اور کون چلائے گا۔ ان کی یہ فکر اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ ہمارے ملک میں نظام اور اداروں کو مضبوط نہیں بنایا گیا‘ بلکہ شخصیات پر زیادہ انحصار کیا جاتا رہا۔ چنانچہ جب کوئی بڑی شخصیت منظر سے ہٹتی ہے تو لامحالہ ذہن میں یہی سوال ابھرتا ہے کہ اب آگے کیونکر بڑھا جائے۔ ان کے سوالات کے تو میں نے جو بھی جواب دئیے‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سوال نے خود مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اب کیا ہو گا؟ کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟ کب ہوا؟ اس بارے میں اب تک آپ بہت کچھ پڑھ اور سن چکے ہوں گے۔ آئی اب اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔
اس سوال کے کئی جواب ہیں۔ کچھ سادہ اور آسان اور کچھ پیچیدہ اور دقیق۔پہلی بات یہ ہے کہ نیا وزیر اعظم لانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ چونکہ مسلم لیگ ن ہی اکثریتی پارٹی ہے‘ اس لئے اسی کا وزیر اعظم آئے گا۔ ابھی گزشتہ روز ہی سابق وزیر اعظم نوازشریف نے اعلان کیا کہ ایک ڈیڑھ ماہ کے لئے عبوری وزیر اعظم لایا جائے گا اور پھراغلباًشہباز شریف کو لاہور کی نواز شریف کے نااہل قرار پانے کے نتیجے میں خالی ہونے والی سیٹ پر ہی منتخب کرا کے حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے تک وزیر اعظم بنایا جائے گا۔ یہ اس حوالے سے ایک اچھی اور مثبت پیش رفت ہے کہ اس طرح ملک میں جمہوریت کا تسلسل جاری رہے گا اور گزشتہ حکومت کی طرح یہ کہا جا سکے گا کہ اس نے اپنی آئینی مدت پوری کی۔اسی پیش رفت کے نتیجے میں اگلے سال عام انتخابات کی راہ ہموار ہو گی اور یوں جمہوریت کی گاڑی ڈی ریل ہونے سے بچ جائے گی۔یہ ایک اچھی پیش رفت ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بالغ نظر ہونے کا ثبوت دیا اور کوئی سخت ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے وہ سر جوڑ کر بیٹھ گئیں کہ ملک میں پیدا ہونے والے اس سیاسی خلا کو کیسے پُر کیا جائے۔
اب آتے ہیں اکثر اور وافر پوچھے جانے والے سوال کی طرف کہ اب کیا ہو گا؟
اب ہو گا یہ کہ نیب نوازشریف خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کرے گا اور اگر کہیں کوئی خرابی یا خلاف قانون کوئی چیز پائی گئی تو اس کے مرتکب افراد کو اس کی سزا کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے کہ اسی کو مکافات عمل کہتے ہیں۔اور میرے خیال میں نواز شریف خاندان کے بعد پاناما پیپرز میں جن جن کے بھی نام شامل ہیں‘ ان سب کو نیب کے حوالے کیا جانا چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ گزشتہ مہینوں میں بار بار یہ سننے میں آتا رہا کہ نیب کے پاس 150میگا کرپشن کیسز پڑے ہیں۔ ان کیسز کی فائلوں پر سے گرد جھاڑنے اور ان کیسز پر تفتیش شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
بے حد ضروری ہے کہ کرپشن کے کسی بھی کیس پر پلی بارگیننگ نہ کی جائے کیونکہ اس سے کرپشن کو بڑھاوا ملتا ہے اور بدعنوان پہلے سے زیادہ شیر ہو کر قومی وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ اب تک لوٹی گئی ساری دولت نکلوائی جانی چاہئے اور قومی خزانے میں جمع کرانی چاہیے۔ اسی طرح جو دولت لوٹ کر بیرونِ ملک لے جائی گئی‘ اس کی وطن واپسی کا بندوبست بھی کیا جاناچاہئے۔ میرے خیال میں ’’اب کیا ہو گا‘‘کا سوال کرنے والوں کے لئے ایک جواب یہ ہے کہ اب شروعات ہوئی ہے تو دوسرے کرپٹ لوگ بھی اس کی زد میں آئیں گے اور عدلیہ اب تک لوٹے گئے قومی وسائل کی واپسی کا اہتمام کرے گی۔ اس کے نتیجے میں کرپشن میں کمی آئے گی‘ قومی وسائل کی لوٹ مار رک جائے گی‘ قومی خزانے کی حالت بہتر ہو جائے گی اور یہ دولت عوام کے بہبود اور ترقیاتی کاموں کے لئے استعمال ہونے لگے گی۔ ایک فائدہ یہ ہو گا کہ آئندہ جو بھی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے گا‘ غیر قانونی طریقے سے دولت کے حصول اور اس کی بیرون ملک غیر قانونی طریقے سے ترسیل سے پہلے سو بار سوچے گا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا کہ کاغذات نامزدگی میں اس ایک معاملے کا اندراج نہ کرنے کی وجہ سے وہ نااہل قرار پائیں گے اور اس طرح اقتدار کے ایوان سے انہیں رخصت ہونا پڑے گا۔ لہٰذا ’’اب کیا ہو گا؟ ‘‘ کا ایک جواب یہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی زیادہ شفاف اور قابل اعتماد ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں شفاف جمہوریت کے نئے در وا ہونے کی امید بڑھے گی۔
’’اب کیا ہو گا؟‘‘ ہو گا یہ کہ مذکورہ بالا تمام اقدامات کے نتیجے میں آہستہ آہتہ ہمارے ملک میں بدعنوانی شجرِ ممنوعہ قرار پائے گی اور پھر ہمارے سرکاری اداروں میں حقیقی میرٹ بروئے کار آئے گا ‘بے روزگاری کم ہو گی‘ روزگار کے وسائل بڑھیں گے‘ عام آدمی کی قوت خرید میں اضافہ ہو گا اور یوں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
ایک بات میں اکثر سوچتا ہوں۔ یہ کہ ہمارے حکمران دوسرے ممالک کے دورے پر جا کر وہاں کے سرمایہ کاروں سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں آکر سرمایہ کاری کریں۔ وہ یہ بات کیسے کر لیتے ہیں‘ جبکہ وہ اپنا سرمایہ یہاں لگانے کو تیار نہیں ہوتے۔ ملک اور عوام سے مخلص نہ ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا؟
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ایک دن کا سروج طلوع ہونے کو ہے۔ کچھ نئے پھول کھلنے کو ہیں۔ شاید وہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہیں‘ جو ہمارے اسلاف نے آج سے سات آٹھ دہائیاں قبل دیکھا اور اس سوال کا سب سے زیادہ دقیق جواب یہ ہے کہ آیا ہم اپنے آپ میں یہ تبدیلی لانے کو تیار ہیں۔ قدرت نے ہمیں جو لمحہ عطا کیا ہے‘ اس کے فائدہ اٹھانے کو تیار ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *