چھبیس ہزار سات سو تیرہ روپے ،اور خرچے 

Mrs Jamshed Khakwani

پولیس کے فرسودہ نظام پر ایک تحریر پڑھنے کو ملی بظاہر یہ دو دوستوں کے درمیان ایک مکالمہ تھا لیکن میرے لیئے معلومات کا ایک خزانہ تھا اگر واقعی پولیس میں ایسا ہی چلتا ہے تو پھر مجرم کون ہے؟ آخر ہماری پولیس خاص طور پر پنجاب پولیس اتنی بدنام کیوں ہے ؟رشوت کیوں لیتی ہے؟ظلم کیوں کرتی ہے؟ وقوعہ پر ہمیشہ تاخیر سے کیوں پہنچتی ہیایسے کئی سوال ہم سوچتے ہیں اور جواب نہ ملنے پر خاموش ہو جاتے ہیں ہر شریف ٓدمی تھانے جانے سے گھبراتا ہے۔حال ہی میں ملتان میں ایک بارہ سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ ہوا جس پر پنچایت بیٹھی اور اس لڑکے کی سترہ سالہ بہن کو بدلے میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا پولیس نے بعد میں پنچایت کے لوگ گرفتار کیے اب کیا فائدہ جب ایک اور وقوعہ ہو چکا جرم ہونے کے بعد ایکشن لینا اور وہ بھی ملزموں کا رہا ہو جانا مزید جرائم کا سبب بنتا ہے لوگ پولیس سے نفرت کرتے ہیں لیکن یہ کالم پڑھنے کے بعد ہم سب کو سوچنا چاہیے کہ اصل نفرت کے مستحق کون ہیں ؟مہار فصیح احمدجن کا ایک دوست راجن پور کے تھانے کا اے ایس آئی تھا وہ نوکری چھوڑ کر جا رہا تھا مہر صاحب کے وجہ پوچھنے پر اس نے جو احوال سنایا وہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے اس نے بتایا میں اس لیے نوکری چھوڑ رہا ہوں کہ میں کسی بے بس آدمی پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا،تشدد نہیں کر سکتا،کسی بے گناہ کو جیل میں نہیں ڈال سکتا نہ ہی رشوت لے سکتا ہوں اور سب سے بڑھ کر میں چھبیس ہزار سات سو تیرہ روپوں میں اپنا تین بچوں والا گھر نہیں چلا سکتادوست نے کہا تو یہ کام نہ کرو ایمانداری سے اپنا کام کرتے رہو ایماندار شخص کی قدر تو افسر بھی کرتے ہیں وہ تلخی سے ہنسا اور بولا بھائی ایسا فلموں ،ڈراموں میں ہوتا ہے مشکل سے دس فیصد افسران ایسے ہونگے جو ایمانداری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوں لیکن یہ افسران بھی آپ کو کسی بے گناہ کو جیل میں ڈالنے یا تشدد کرنے سے نہیں روکیں گے پولیس میں رہ کر آپ کو مجبوراً رشوت بھی لینی پڑتی ہے اور ظلم و تشدد بھی کرنا پڑتا ہے دوست کی حیرانی پر اس نے بتایا اصل وجہ ہے تھانے کا نظام ،جس کی وجہ سے تھانے کا اور آپ کا اتنا خرچہ ہوتا ہے جس پر آپ کو مجبوراً رشوت لینا پڑتی ہے اس کی تفصیل اس نے کچھ یوں بتائی کہ ایک چھوٹے تھانیدار کو اپنے الاٹ ہوئے کیس کو سنبھالنے کے لیے ہمہ وقت کم سے کم دو سپاہی رکھنے پڑتے ہیں جو کہیں پر ریڈ کرنے یا ملزموں کی گرفتاری کے لیے چاہیے ہوتے ہیں اب ان دو سپاہیوں کی رہائش اور کھانے پینے کا زمہ اس نکے تھانیدار کے سر ہوتا ہے
کیونکہ وہ ان کا خرچہ نہیں اٹھائے گا تو کوئی بھی سپاہی اس کے ساتھ جانے کو تیار نہیں ہوگا دوست کے اس سوال پر کہ ایک سپاہی اپنے اے ایس آئی کو منع کیسے کر سکتا ہے؟ اس نے بتایا جب بھی آپ کو کہیں ریڈ پر یا کسی ملزم کو گرفتار کرنے جانا ہو سب سے پہلے تھانہ محرر کو مطلع کرنا پڑتا ہے کہ مجھے اتنے سپاہی چاہیں اگر آپ محرر صاحب کو روزانہ یا ماہانہ کچھ نہیں دیتے تو وہ کئی طرح کے جائز نظر آنے والے بہانے بنا کر آپ کو نفری دینے سے صاف انکار کر دے گا چلیں اگر محرر نے کہہ بھی دیا کہ ٹھیک ہے لے جائیں چند سپاہی ،تواگر آپ ریڈ پر جانے والے ہر سپاہی کو سو دو سو دیں گے تو وہ جائیگا ورنہ سپاہی خود انکار کر دیں گے اور آپ سوائے سپاہی کا منہ تکنے کے کچھ نہیں کر سکتے زیادہ سے زیادہ ایس ایچ او کو شکایت لگائیں گے لیکن اگر آپ ایس ایچ او کو بھی روزانہ یا ماہانہ کچھ نہیں دیتے تو پھر وہ بھی سپاہی کے بہانے کو جائز قرار دے دے گا
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مخبری ہونے پر فوری ریڈ کرنی ہوتی ہے ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے اس لیے آپکا پہلا خرچہ ایس ایچ او،دوسرا خرچہ محرر اور تیسرا خرچہ سپاہیوں کا جن کو آپ ساتھ لے کر جا رہے ہوتے ہیں ان مراحل سے گذرنے کے بعد اگلا مرحلہ ہوتا ہے گاڑی کا حکومت ہر گاڑی کے لیے ماہانہ صرف 240 لیٹر پیٹرول دیتی ہے اس پیٹرول میں آپ نے روزانہ گشت بھی کرنا ہوتا ہے عدالت بھی جانا ہے اور ملزمان کی گرفتاری بھی کرنی ہے اس لیے عموماً مہینے کے پہلے دس دن میں ہی یہ پیٹرول ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد جو گاڑی لے کر جائے وہی پیٹرول بھروائے آپ بتائیں چھبیس ہزار سات سو تیرہ روپے میں بندہ گھر چلائے یا تھانہ؟بعض کیسز میں مدعی بھی پولیس خود ہوتی ہے ان میں خرچہ اور بڑھ جاتا ہے جبکہ آپ کو رشوت دینے والا بھی کوئی نہیں ہوتا مثلاً 15پر شکایت آتی ہے کہ فلاں جگہ جوا کھیلا جا رہا ہے یا محلے میں کہیں منشیات فروخت ہو رہی ہیں یا ایسا مسلہ جس میں عوام تنگ ہو رہے ہوں ایسے کیس میں مدعی کوئی نہیں بنتا اب اس میں خرچہ کون کرے گا (لہذا آنکھیں بند کرنی پڑتی ہیں) بلکہ ایسے کیسز میں اصل خرچہ گرفتاری کے بعد شروع ہوتا ہے گرفتاری کے بعد ملزم کو عدالت لے کر جانا پڑتا ہے اس کے لیے گاڑی اور سپاہیوں کا بندوبست کرنا عدالت میں پہنچ کر مثل لکھ کر جمع کرانی پڑتی ہے جس کو لکھنے کا ٹائم آپ کو نہیں مل پاتا تو اس کے لیے چار پانچ سو دے کر مثل لکھوانی پڑتی ہے چالان جمع کروانا ہے تو عدالت میں پانچ سو روپے فی چالان رشوت کا ریٹ مخصوص ہے اس کے بغیر آپ کا چالان جمع ہی نہیں کیا جائے گااب اگر اس کا چالان ہو گیا تو اس کو سنٹرل جیل کون پہنچائے گا؟
آپ کو ایک بار پھر کسی سپاہی کو کرایہ،گاڑی کا پیٹرول اور سو دو سو دیہاڑی دے کر ملزم کو سنترل جیل پہنچانا پڑے گا اس کے چونکہ مدعی آپ خود ہیں اس لیے اس کی ہر پیشی پر آپ نے بھی عدالت جانا ہے وہ خرچہ الگ،اور اگر اس کی ضمانت آپ نے ضلعی جیل سے نہیں ہونے دی تو وہ ہائی کورٹ جائے گا تو ہائی کورٹ کی طلبی پر آپ کو بھی جانا پڑے گا ایک اور خرچہ، اگر ضمانت ہائی کورٹ سے خارج ہو گئی تو بعض ملزمان کے وکیل سپریم کورٹ چلے جاتے ہیں اب اگر آپ کو سپریم کورٹ نے طلب کر لیا تو اسلام آباد آنے جانے رہنے اور کھانے پینے کا خرچہ کیونکہ پولیس میں جو ٹی اے ڈی اے ملتا ہے اس سے تو دو وقت کا کھانا بھی بمشکل پورا ہوتا ہے پھر اس نے ایک واقعہ سنایا کہ ابھی چند دن پہلے ایک منشیات فروش کو گرفتار کیا ہے جس سے سارا علاقہ تنگ تھا ہر شخص جانتا تھا کہ وہ ماہانہ کئی سو کلو منشیات فروخت کرتا ہے لیکن ہم نے جب بی ریڈ کی اس کے گھر کی لوکیشن ایسی تھی کہ یا تو وہ صاف بچ جاتا یا پھر اس سے سو دو سو گرام چرس برامد ہوتی اب قانون یہ ہے کہ برامد ہونے والی منشیات کی مقدار ایک ہزار گرام سے کم ہو تو اس پر جو دفعات لگتی ہیں اس پر پہلی پیشی پر ہی با آسانی ضمانت ہو جاتی ہے وہ شخص واپس آکر زیدہ دلیری سے کام کرتا ہے بلکہ ہمارا منہ چڑاتا ہے اگر منشیات کی مقدار ایک ہزار گرام سے زیادہ ہو تو ضمانت مشکل ہو جاتی ہے اس لیے جب میں نے اسے گرفتار کیا تو گرفتاری کے وقت اس سے صرف تین سو گرام چرس برامد ہوئی لیکن میں نے عوامی فلاح میں اس پر ایک ہزار گرام کا پرچہ کاٹا وہی ہوا اس کی ضمانت منسوخ ہو گئی لیکن مجھے سات سو گرام چرس اپنے پلے سے خرید کر ڈالی تاکہ عوام اس کے مکروہ دھندے سے بچے رہیں اب اگر وہ سپریم کورٹ چلا جاتا تو ظاہر ہے میرا خرچہ اور بڑھ جاتا اس کے علاوہ مزید کئی خرچے ہوتے ہیں حکومت تھانوں میں چائے پانی کے نام پر ایک روپیہ بھی نہیں دیتی جبکہ ہمیں کسی کو چائے پلانی پڑتی ہے کسی کو بوتل کسی کو کھانا تک کھلانا پڑتا ہے آپ ہی بتائیں چھبیس ہزار سات سو تیرہ روپے میں کوئی کیسے یہ سب خرچے کر سکتا ہے ؟مزید اس نے کہا جیسے ہی آپ کسی کو گرفتار کرتے ہو علاقہ معززین،چٹی دلال اور ٹاؤٹ ایسے جمع ہو جاتے ہیں جیسے ہل مارتے وقت ٹریکٹر کے ارد گرد پرندے جب آ ان سب سے مشکل سے جان چھڑا کر پلٹتے ہیں تو اندر سے ایس ایچ او کا بلاوہ آ جاتا ہے کہ اوپر سے کال آئی ہے بندہ چھوڑ دو اب پتہ نہیں واقعی اوپر سے کال آتی ہے یا ایس ایچ او صاحب خود ہی مک مکا کر کے بیٹھے ہوتے ہیں اگر اوپر سے کال ہو تو اوپر والے بھی مفت کال نہیں کرتے اور کبھی کبھار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص ایس ایچ او کی مٹھی گرم کر کے کہتا ہے میرے فلاں دشمن کو گرفتار کر کے دو چار لتر لگا دیں بس پھر ایس ایچ او صاحب کمرے میں بلا کر دو تین سپاہی اور گاڑی فراہم کرتے ہوے حکم دیتے ہیں جا کر فلاں آدمی کو اٹھا لاؤ اور اس کی چھترول کرو اس وقت وہ سپاہ سب سے آگے بھاگ رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی مٹھی بھی گرم ہو چکی ہوتی ہے یوں ہمیں ایک بے گناہ شریف آدمی کو گرفتار کر کے لانا پڑتا ہے اور جھوٹا کیس بنا کر چتھرول کے بعد جیل بھی ڈالنا پڑتا ہے یوں ہم اپنی قبر کالی کرتے ہیں ۔
یہ سب کچھ پڑھ کر ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس قدر غلیظ نظام کو ٹھیک کون کرے گا؟ جبکہ ہر ایک آنکھیں بند کر کے صرف اپنی اپنی جیبیں بھر رہا ہے اور اپنی قبریں کالی کر رہا ہے ان خرچوں کی نوبت نہ آئے تو پولیس رشوت کیوں لے؟ ارکان اسمبلی کی طرح کچھ مرعات پولیس کے حصے میں بھی آ جائیں تو ان کیگھروں کا چولہا بھی آسانی سے جلنے لگے وہ اپنے بچوں کے پیٹ میں حرام رزق نہ بھریں لیکن یہ سب کون سوچے کون کرے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *