کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں؟

mukhtar chaudhry
میرے وہ دوست جو واقعی میرے کالم  پڑھتے ہیں اور مجھے یہ سوال پوچھ کر میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں کہ میں کالم کس سے لکھواتا ہوں مجھے ان دوستوں کے اس سوال سے بہت شہ ملتی ہے اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ میرے کالم سے لگتا ہے کہ کسی پڑھے لکھے آدمی کا لکھا ہوا ہے۔ وہ دوست مجھے اس لیے بھی پیارے ہیں کہ وہ مجھے ان پڑھ جانتے ہوئے بھی صرف مروت میں میرے کالم پڑھتے ضرور ہیں ورنہ آج کے دور میں کہاں کسی کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی موجودگی میں اور پرنٹ میڈیا کے بڑے بڑے نامی گرامی کالم نگاروں کے ہوتے ہوئے مجھ جیسے کم علم کا کالم پڑھیں۔ میں اپنا آج کا کالم انہی پیارے دوستوں کے نام کرتا ہوں اور  آنے والے دنوں میں ان دوستوں کی خوبیوں کا ذکر بھی کروں گا اور چیدہ چیدہ نام بھی لکھوں گا ۔ آج کا کالم ان کے نام اس لیے بھی کہ میں نے کافی عرصہ سے لکھنا بلکہ پڑھنا بھی چھوڑ دیا تھا، پاکستان کے ٹی وی چینل تو میں کئی سالوں(مہینوں والے سالوں کی بات ہے میرے سالے ناراض نہ ہوں) سے چھوڑ رکھا تھا لیکن اخبار، کالم اور کتابیں پڑھنے کا شوق کبھی ماند نہیں پڑا۔ لیکن پچھلے کچھ ہفتوں سے دل اکتاہٹ کا شکار ہے سمجھ نہیں آرہی کہ کچھ پڑھنے یا لکھنے کا کیا فائدہ ہے! کیا پاکستان کا کوئی بندہ کسی کی بات پر غور کرتا، اس کو سمجھنے یا پرکھنے کی کوشش کرتا ہے؟ یا پھر کسی کی بات مان کر خود کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے؟ کیا ایسا نہیں لگتا ہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ عقل کل ہیں، کیا ہم اپنے علاوہ سب کو جھوٹا، بے ایمان، کرپٹ، بھوکا، مطلبی اور مفاد پرست نہیں سمجھتے؟ کیا ہم اپنے علاوہ بھی کسی کو عزت دار سمجھتے ہیں؟ ہم کسی کی غلطی یا برائی کو دیکھ کر یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ ایک انسان ہے فرشتہ نہیں ہے ہم اپنے گریباں کی طرف دیکھتے ہی یا تو اندھے ہو جاتے ہیں یا پھر اس بات پر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ باقی دنیا اندھی ہے میرے اندر کی غلاظت کہاں کسی کو نظر آئے گی۔ کیا ہم سب دوسروں کی برائیوں کا ذکر انکی اصلاح کے لیے کرتے ہیں، یا پھر صرف دوسروں کو کم تر کرنے اور ان کی توہین کی خاطر؟ کیا آپ سب کو یہ نہیں لگتا کہ ہر پاکستانی اپنے ایک دائرے میں گھوم رہا ہے اور ہر کسی سے اسی دائرے کی تعریف سننا چاہتا ہے؟ ہم مذہبی، سیاسی، علاقائی اور لسانی طور پر اپنی اپنی انتہاوں پر براجمان ہیں اور پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں نہ آگے۔ کیا ہماری سوچنے کی صلاحیت واقعی موقوف ہو چکی ہے؟ میں یہ جو ہم اور ہماری کا صیغہ استعمال کر رہا ہوں اس میں ہمارے بڑوں یعنی نواز، عمران، زرداری، ثاقب، قمر باجوہ اور سب کے ممنون سے لیکر مختارے تک سب شامل ہیں۔ایک اردو کا لفظ ہے جس کو پنجابی میں بھی اسی طرح پرنون کرتے ہیں۔ "بھروسا" وہ پاکستان میں ختم ہو چکا ہے اور میرے ناقص خیال میں اسے واپس وہ راہنما لا سکتا ہے جس کو خود پر بھروسا ہو، جو اپنے اوپر بھروسا کر سکتا ہو، جس کو اپنی صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی ہو، جس کی طبیعت میں "میں" نہ ہو جو جیت ہار  سے بے نیاز ہو جو پرواز کرتے ہوئے نظر تو زمین پر رکھتا ہو لیکن اڑان آسمانوں پر۔ خیر شاید کبھی کوئی ایسا راہنما مل ہی جائے اللہ تعالی کی کائنات بہت بڑی ہے اور اللہ کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں امید رکھتے ہیں اور ابھی میسر راہنماؤں کے ساتھ گزارا کرتے ہیں میں آگے چل کر میسر راہنماؤں کی خوبیوں پر بھی روشنی ڈالوں گا تاکہ اس روشنی میں آپ سب بھی ان کے روشن چہرے دیکھ سکیں۔ لیکن پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اوپر باندھی گئی اتنی لمبی تمہید کا مقصد یہ تھا کہ میں اتنی دیر سے غیر حاضر کیوں تھا۔ میں ان دوستوں کا بھی بے حد شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے فون کر کے اور سوشل میڈیا کی وساطت سے کالم لکھنے کا کہا اور بقول ان کے وہ میرے کالم کا انتظار کرتے ہیں اور اکثر "دنیا پاکستان اور کاررواں" کی ویب سائٹ کا وزٹ کرتے ہیں۔ آج کا کالم بس انہی دوستوں کے نام۔ لکھنے کے لیے میرے پاس بہت سارے موضوعات اور بہت زیادہ مواد بھی موجود تھا اور وقت بھی  روزانہ اپنے ذہن میں ایک کالم لکھتا رہا ہوں لیکن اس کو قلم کی نوک سے پیپر تک لانے سے پہلے ہی مٹا دیتا رہا بس یہ سوچ کر کہ کیا فائدہ، لیکن پھر یہ بھی یاد آتا کہ میں نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ میں مایوس نہیں ہو سکتا۔ میں ناامید نہیں ہوں گا۔ اسی لیے پھر حوصلہ ملا۔ اب میرے ذہن میں کئی موضوعات ہیں اور کسی کی بھی اہمیت دوسرے سے کم نہیں تو پھر میں اوپر نیچے چند کالم لکھ کر تمام موضوعات پر بات کرونگا۔
 گو کہ پاناما کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ چکا ہے لیکن اب بھی سب سے گرم موضوع کے درجے پر فائز ہے اور سب لکھنے پڑھنے اور بولنے والے اسی پر ہی طبع آزمائی کر رہے ہیں اور  2 انتہاوں پر بیٹھ کر  اپنے والی سایئڈ کو مکمل سفید اور دوسری طرف صرف کالا دیکھ رہے ہیں۔
میرے ذہن میں بھی پاناما، سپریم کورٹ، ہمارے مقتدر اداروں اور مقتدر شخصیات پر لکھنے کو بہت کچھ ہے میرا دماغ اس موضوع پر ابھلنے کے قریب ہے لیکن میری انسانیت مجھے مجبور کر رہی ہے کہ میں ملک کی ان بیٹیوں کا ذکر پہلے کروں جن کو اپنی اناوں، عزتوں اور غیرتوں کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے شاید کہ میرے لکھنے سے کسی کی غیرت جاگ جائے، شاید کہ کسی کو لفظ عزت کے معانی سمجھ آجائیں، شاید کہ کسی کو مقام انسانیت کا یاد آجائے اور  شاید کہ ہم اپنی بیٹیوں کو بھی اولاد کا بدرجہ دینے کا سوچ سکیں۔ پچھلے ہفتے ملتان کے ایک محلے مظفرآباد میں ایک ایسا دلسوز واقعہ رونما ہوا جو اگر کسی مہذب ملک میں پیش آیا ہوتا تو یقینا زمین پھٹ جاتی لیکن ہماری سرزمین پر تو جوں بھی نہ رینگی۔۔۔واقعہ آپ سب میڈیا میں پڑھ چکے ہوں گے کہ پہلے ایک نوجوان نے مبینہ طور پر ایک 12 سالہ لڑکی کو ریپ کیا اس کے بعد علاقہ کے معززین کا اکٹھ ہوا اور انہوں نے فیصلہ دیا کہ ملزم کی 17 سالہ بہن کی عزت اس متاثرہ 12 سالہ لڑکی کے بھائی سے پامال کرائی جائے یعنی اب12 سالہ لڑکی جو ریپ ہوئی تھی اس کا بھائی ریپ کرنے والے لڑکے کی 17 سالہ بہن کو ریپ کرے گا جو کہ کیا گیا۔ استغفراللہ۔ ذرا غور فرمائیں کہ غلطی کون کر رہا ہے اور سزا کس کو دے رہے ہیں اور سزا کی نوعیت کیا ہے؟ گویا کہ ایک جرم ایک نوجوان انسان سے ہوا اور دوسرا اس سے بھی بڑا جرم معززین علاقہ سب کے سامنے الاعلان کروا رہے ہیں اور دونوں جرائم کا شکار مسلمان بچیاں ہیں یہ وہی بچیاں ہیں جن کو جینے کا حق محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دلایا تھا،  یہ وہی بچیاں ہیں جن پر کفار کے مظالم کے سبب اسلام کا ظہور ہوا تھا اور یہ وہی بچیاں ہیں جو اللہ کی رحمت ہیں۔ اور یہ ہے آپکے نزدیک اللہ کی رحمت کی حرمت؟ گو کہ یہ پاک سرزمین پر کوئی پہلا یا انوکھا واقعہ نہیں تھا، اور آج تک  ایسے واقعات پر مذہبی راہنماؤں کی غیرت جاگی نہ ملکی عزت نیلام ہوئی۔
 گو کہ اس واقعہ کا نوٹس نہ صرف وزیراعلی کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے بھی لیا لیکن میرے تحفظات اپنی جگہ قائم ہیں۔ اس واقعہ کی گونج ابھی فضاوں میں موجود تھی تو اگلے دن ہو بہو ایسا ہی دوسرا واقعہ چیچہ وطنی میں پیش آگیا(چیچہ وطنی اور ملتان کا فاصلہ زیادہ نہیں چیچہ وطنی ساہیوال کے ڈویژن بننے سے پہلے ملتان ڈویژن میں ہی تھا)  وہاں بھی وہیں واقعہ ملتان دہرایا گیا۔ابھی 2 دن پہلے جنوبی پنجاب ہی میں ایک بہو کو سسرالیوں نے تشدد کے بعد زبردستی تیزاب پلا دیا جس سے اسکی موت واقع ہو گئی ۔ یہ تو وہ چند دنوں کے چند واقعات ہیں جو رپورٹ ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں جنوبی پنجاب، سندھ، بلوچستان خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں سمیت ملک کے طول و عرض پر ہر سال ایسے بیسیوں یا شاید سیکڑوں واقعات رونما ہوتے ہیں جن کے آئیندہ بھی رکنے کے کوئی امکانات نہیں۔ وہ اس لیے کہ مختاراں مائی سے لیکر آج تک جتنے بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں اور اسی طرح عورتوں پر مظالم کے دوسرے واقعات پیش آئے ہیں سب ہی کا نوٹس وزیراعلی بھی لیتے رہے، وزیراعظم بھی اور چیف جسٹس صاحب بھی۔ لیکن کیا ان واقعات کی روک تھام ہو گئی ہے؟ کیا یہ کم ہو گئے ہیں؟ کیا کسی کو انتہائی سزا سنائی گئی؟ اگر ان تمام سوالات کے جوابات نفی میں ہیں تو پھر ہم کیوں کر یہ امید لگا لیں کہ آئندہ سے ایسا کچھ نہیں ہو گا؟ میرے خیال میں تو ان جرائم کا خاتمہ سزائیں دینے سے بھی نہیں ہو سکے گا۔ ویسے تو پاکستان میں ایسے واقعات میں آج تک کسی کو کوئی کڑی سزا بھی نہیں ہوئی ہے۔ کتنے زیادہ ایسے ایسے دلسوز واقعات رونما ہوچکے ہیں جس میں بلوچستان کا وہ واقعہ بھی جس میں کئی خواتیں کو زندہ زمین میں گاڑ کر مارا گیا اور سندہ میں ایک 8 مہینے کی حاملہ عورت کے پیٹ سے پہلے زبردستی تشدد سے بچہ نکال کر اس کے سامنے نہر میں پھینکا گیا اور اس کے بعد اس عورت پر خونخوار کتوں کو چھوڑا گیا اور کتوں نے اس عورت کو کئ گھنٹے جھنجوڑ جھنجوڑ کر چیر پھاڑ کر مار دیا بھی شامل ہیں۔ ان دونوں معاملات میں باقاعدہ کمیشن بنے اور ان کی رپورٹس بھی آئیں جو انتہائی مضحکہ خیز تھیں۔ بلوچستان والے واقعے کی پہلی روپورٹوں میں سرے سے ایسے کسی واقعہ کی تردید کر دی گئی کہ کوئی ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں اور آخر کار یہ کہا گیا کہ یہ جھوٹ ہے کہ خواتین کو زندہ گاڑا گیا بلکہ ان کو گولیاں مار کر مارا گیا جیسا کہ گولیوں سے مارنا کوئی جرم ہی نہیں ۔ سندھ والے واقعے کی مختصر روداد یوں ہے کہ یہ پیپلزپارٹی یا صدر زرداری کی حکومت میں پیش آیا تھا اور سارے علاقے اور ضلعی انتظامیہ کے نوٹس میں ہونے کے باوجود اس واقعہ کو وڈیرے کے خوف سے دبا دیا گیا لیکن کچھ عرصے بعد کسی انسانی حقوق کی تنظیم کے ذریعے سے یہ واقعہ عالمی میڈیا پر آگیا اور پھر کیا تھا کہ پاکستان میں سب نے نوٹس لیا اور ہنگامی صورتحال پیدا کی اور اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی جو ترکی کے دورے پر جا رہے تھے انہوں نے اپنے ساتھ جانے والی ایک ایم این اے نفیسہ شاہ کو اپنے دورے سے ڈراپ کر کے ہنگامی طور پر سندہ کے اس علاقےمیں جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فوری تحقیقات کے بعد ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے۔ جس علاقہ میں یہ واقعہ ہوا تھا وہ نفیسہ شاہ کا انتخابی حلقہ تھا اور اسی حلقے سے نفیسہ شاہ کے والد اس وقت کے وزیراعلی سندہ قائم علی شاہ ۔ایم پی اے کا انتخاب جیتے تھے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے علم میں یہ سارا واقعہ پہلے سے  نہ ہو۔ اس واقعہ کی پہلے سے فرضی انکواریاں ہو کر اسے بند کیا جا چکا تھا اسکی بہت ساری تفصیلات میرے علم میں ہیں لیکن یہ سب کالم میں نہیں لکھی جا سکتی ہیں۔ خیر نفیسہ شاہ صاحبہ اپنے انتخابی حلقے میں کچھ دن براجمان رہیں اور رپورٹ دی کہ کچھ بھی نہیں ہوا بس ایک لڑکی قتل ہوئی تھی اور اس کا سابقہ مینگیتر اس کے قتل میں گرفتار ہے بس۔ میڈیا اور سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف۔ یہ تو ہے حقیقت تحقیقیات اور سزاوں کی۔ سزائیں دی بھی کیوں جائیں جب ملک کی اکثریت کا ذہن ایسا کہ یہ درست ہے قبائلی رسمیں ہیں اور جائز ہیں قبائل کو تو چھوڑیں کیا لاہور اور اسلام آباد میں عورت آزاد ہے کیا وہ مردوں کی عزت نہیں ہے؟ پھر سزائیں نہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی کہ ایسے واقعات ذیادہ تر وہی وڈیرے اور جاگیرداروں کے زیر اثر رونما ہوتے ہیں جن وڈیروں کی مدد سے ایم این اے اور ایم پی اے بنتے ہیں تو پھر ان کے خلاف کاروائی کیسے ممکن ہے؟ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اور لڑکی یا عورت کو پہلے ایک انسان تسلیم کریں زندہ انسان جس میں جذبات ہوتے ہیں پھر اس کو اسکی مرضی سے جینے کا حق دیا جائے۔ اور اسکی عزت اسی کی عزت تسلیم کی جائے وہ کسی مرد(باپ، بھائی، دیور جیٹھ یا خاوند) کی عزت شمار نہ ہو بلکہ اسکی عزت اسی کی عزت ہو۔ اس سارے معاملے میں مذہبی، علاقائی اور قبائلی فرسودہ روایات کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور یہ سب ازل سے ہوتا آرہا ہے ابھی تک دنیا کے کسی بھی ملک یا کونے میں پوری طرح عورت کو اس کے حقوق نہیں دیئے گئے ہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں صورتحال قدرے بہتر ہے میرا کالم لمبا ہو گیا ہے لیکن یہ موضوع کئی کالموں کا متقاضی ہے کوشش کروں گا کہ پھر کسی کالم میں مزید لکھوں۔ لیکن آج آپ سے ایک وعدہ لینا ہے آپ سب سے جن کی بیٹیاں ہیں، جن کی بہنیں ہیں اور جن کی بیویاں ہیں(ظاہر ہے کہ مائیں تو سب کی ہیں ہی)  آپ سب خواتین کو مکمل انسان کا درجہ دو، انکو اپنی عزت سمجھنے والو خود ان کی عزت کرو اور ان کی عزت بن جاو، ان کی تعلیمات پر پابندیاں عائد نہ کرو، ان کی سوچ پر پہرے نہ بیٹھاو، انکی جسمانی نزاکت سے ناجائز فائدے نہ اٹھاو اور ان کے حقوق غصب نہ کرو ۔ جن کو بیاہ کر لاتے ہو ان کو بھی گھر کی مالک بناو ساس اور سسر بہو کو بیٹی کا درجہ دیں۔ آج سے ہر طرح کے تشدد سے توبہ کر لو۔ آپ کو کسی سے قطع تعلق کا اور چھوڑ دینے کا حق حاصل ہے لیکن تشدد کا کسی حالت میں بھی نہیں۔
کالم کی دم: یقینا میرا آج کا کالم کافی بھاری محسوس ہو رہا ہوگا کیونکہ میں نے خشک موضوع لیا ہے اگلا کالم سیاست، پاناما اور سیاسی رویوں پر لکھ کر حساب چکا دونگا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *