ناقص حکمت نے نواز شریف کو ہیرو بنادیا

syed arif mustafa

مجھے کہنے دیجیئے کہ نواز شریف کو اب مستقبل کے منظر نامے پہ چھا جانے سے روکنا ہمیشہ سے زیادہ مشکل ہوگیا ہے ،،، عدلیہ کی جانب سے سنائی گئی سزا اس قدر عجیب و غریب ہے کہ انکے حق میں ایک طرح کی جزا بن گئی ہے ۔۔۔ ان حضرت کو واقعی سزا دلانے کے لیئے تو اتنے سارے قانونی داؤ پیچ کے بجائے صرف یہ ایک نکتہ کافی رہتا کہ میاں جی یا تو اپنی اور اپنے اہلخانہ کی موجودہ دولت کے انبار کے وسائل ثابت کرو ورنہ جیل جاؤ اور اثاثے بھی ضبط ... ایسا ہی سیدھا سیدھا طریق انصاف ایران میں 1979 میں انقلاب کے بعد اختیار کیا گیا تھا جو اسی سوچ پہ مبنی تھا کہ ہر وہ فرد جو اپنے ظاہری وسائل سے بڑھ کے زندگی بسر کرتا پایا جارہا ہے وہ اپنے زیرملکیت وسائل کے جائز ہونے کا ثبوت دے ... یہ کام ریاست کا درد سر نہیں کہ وہ نہایت چالاکی و فنکاری سے لوٹی گئی دولت کو ناجائز ثابت کرنے کے لیئے ثبوت ڈھونڈھتی پھرے ،،، اور گہری تفتیشوں ، تکنیکی باریکیوں قانونی موشگافیوں میں پڑ کے اپنا وقت اور وسائل برباد کرتی پھرے - ابھی حالات کا جبر سہی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے عوام بیدار ہو رہیں گے اور ان کے لیئے یہ بات قطعی ناقابل قبول ہوجائے گی کہ باقی دیگر لٹیرے بچ جائیں اور پورے ملک میں لوٹ مار کی نئی کہانیں رقم کردینے والے زرداری اور انکا ٹولہ، ق لیگ کے گرو ، بےتحاشہ غیرملکی اکاؤنٹس میں پڑی اربوں کی حرام دولت کے مالک پرویز مشرف ، ہر دور میں بڑھ چڑھ کے حکومتی وسائل پہ ہاتھ صاف کرنے والے مولانا فضل الرحمان ، اور بیرون ملک تجارتی ایمپائرز کھڑی کرلینے والے اسفندیار ولی اپنی لوٹ مار کے لیئے آزاد رکھے جائیں ۔۔

بڑی صاف سی بات یہ ہے کہ اگر کسی تھانے کا معمولی گریڈ والا ایس ایچ او، لینڈ کروزر کا مالک بن کے ہر طرف سواری کرتا نظر آئے تو ریاست کو کیا پڑی ہے کہ وہ خواہ مخواہ اس گاڑی کی خریداری کی فائلیں ڈھونڈھتی پھرے ،،، بس کرنے والی اتنی سی بات ہی تو ہے کہ ریاست اس سے پوچھے کہ تم نے اتنی محدود تنخواہ میں یہ لگژری گاڑی کیسے خرید لی ، اور یہ بنگلہ کہاں سے آیا اور یہ تمہارے بچے امریکن اسکول میں کیسے پڑھ پا رہے ہیں ،،؟؟ اور اگر اس قسم کی عین عقلی پوچھ تاچھ کو معیار بنالیا جائے تو بلا شبہ پولیس کسٹمز ایف آئی اے ہی نہیں بیشتر اہل سیاست و ارکان پارلیمنٹ سرکاری اداروں کے اسی نوے فیصد افسران اور اتنے ہی فیصد تاجران و صنعتکاران بھی باآسانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ٹھونسے جانے کے مستحق ٹہریں گے ،، کون نہیں جانتا کہ ملک کی گنی چنی پوش آبادیوں کے زیادہ تر مکین اسی قسم کے 'موقع شناس' لوگ ہیں... یہ لوگ دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں اور ان لوگوں کا طرز زندگی ایک ایسی سڑاند ہے کہ جسکی بو ہر کس و ناکس کو ہمہ وقت آتی ہے ... درحقیقت ان لوگوں‌ کی قانونی آمدنی جتنی ہے اس سے دس گنا زیادہ رقم کی تو وہ اپنے ملازمین میں اجرتیں تقسیم کرتے ہیں ... لیکن اس حقیقت سے ہر دور کی حکومتیں چشم پوشی کرتی رہی ہیں اور انکی بیخبری کا حال بس ایسا ہی رہا ہے کے " جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ، باغ تو سارا جانے ہے"

مجھے اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ وطن عزیز میں جب کبھی حقیقی انقلاب آئے گا تو اہل انقلاب کو چھان بین کے لیئے کچھ زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی ... بس ٹیکس گوشوارے اور عملی لائف اسٹائل کا منہ بولتا فرق چیک کرلیا جائے اور بیرون ملک زیرتعلیم طلباء کی فہرست بناکے کی چیک کرلی جائے گی تو ہاتھ کے ہاتھ پتا چلے گا کہ کیسے کسی اسٹنٹ کلکٹر، ڈی ایس پی یا سیکشن آفیسر کے لاڈلے وہاں کی مہنگی تعلیم 'جھیل' پا رہے ہیں ،، پھر ڈائریکٹروں ، کموڈوروں اور کرنلوں کی دنیا تو ' ہل من مزید' کی دنیا ہے ،،، اس سے اوپر تو محلات کا وہ طلسماتی ماحول ہے کہ چشم تصور بھی جسکی تاب نہیں لا پاتی ۔۔۔ کرپشن کے اس موجودہ خوفناک ماحول میں رسمی طریقوں سے بہتری آنے کی کوئی امید نہیں ... مجھے پورا اور پکا یقین ہے کہ بدقسمتی سے ہاتھی جیسے تگڑے مالی جرائم کی موجودگی میں مکھی جیسے معمولی و نحیف اور دورازکار تنخواہی نکتے پہ نواز شریف کو پھانس لینے سے وہ مجرم نہیں مظلوم بن کے ابھرے گا اور بلکہ اس طرح سے تو اسے گھما کے یا پھر انجانے میں اپنی پاکبازی کا سرٹیفیکیٹ ہی تھمادیا گیا ہے جسے لے کر اب وہ عوام کے پاس جاکے وہ خوفناک طاقت بھی حاصل کرسکتا ہے کہ جسکی وجہ سے طاقت کا توازن طیب اردگان کے سے انداز میں اسکے ہاتھوں میں چلا جائے گا ، اور میں نئے منظر نامے میں نواز شریف کو اسی نئے روپ میں ابھرتے دیکھ رہا ہوں-

جہاں تک بات ہے تبدیلی کی ، تو اب بھی بھلا کیا بدلا ہے ،،، بس اتنا ہی تو ہوا ہے نا کہ اب اس فیصلے کے مطابق نواز شریف آئندہ کسی سیاسی پارٹی کا عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتا لیکن آئین اور قانون کی رو سے اسے کسی سیاسی جماعت کے اجلاس میں بیٹھنے یا سیاسی سرگرمی کا حصہ بننے سے تو ہرگز نہیں روکا جاسکتا ... سو نون لیگ کا پرنالہ تو اب بھی وہیں گرتا رہے گا - تاہم اگر طاقتور ادارے ملک کی ساری سیاسی اشرافیہ ، انتظامی و تجارتی اشرافیہ کو اسی طرح کی جے آئی ٹی کے پل صراط سے گزارنے کے لیئے فول پروف اقدامات بروئے عمل لائیں تو پھر ہم مستقبل میں اعتدال اور توازن کے ساتھ کسی بڑی اور بہتر تبدیلی کی توقع کرسکیں گے وگرنہ جلد یا بدیر ایک بے پناہ جارحانہ خونی انقلاب ہی اس ملک کا مقدر بن رہے گا-

arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *